Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




سویٹزرلینڈ میں نامعلوم شخص نے مسجد میں فائرنگ کر کے تین نمازیوں کو زخمی کر دیا


سویٹزرلینڈ زیورخ میں ایک نامعلوم آدمی ایک مسجد میں داخل ہوا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے تین مسلمان نمازیوں کو شدید زخمی کر دیا۔ فائرنگ کرنے کے بعد شوٹر موقع واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ھے۔

یہ بدقسمت واقع شام 05:30 پر زیورخ مین ریلوے سٹیشن کے نزدیک مسجد میں پیش آیا اور لگ بھگ 30 سال کی عمر کا شوٹر جو کہ گہرے رنگ کے کپڑے اور آونی ٹوپی پہنے ہوئے تھا سینٹرل شٹیشن کی طرف فرار ہو گیا۔

پولیس کے مطابق تین زخمی نمازیوں کی عمریں بالترتیب تیس سال پینتیس سال اور چھپن سال ھے۔ زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے اور پولیس نے سراخ رساں کتوں کی مدد سے ایک بڑا آپریشن شروع کر دیا ھے۔ پولیس نے موقع پر موجود گواہوں سے درخواست کی ھے کہ وہ آگے آئیں اور پولیس کی مدد کریں۔

ابھی تک شوٹر کے مقاصد کے بارے میں پتہ نہیں چل سکا کہ اس نے کیوں ایسا کیا ھے۔ اے ٹی ایس نیوز کے مطابق ایک درجن کے قریب نمازی مسجد میں عشاء کی نماز ادا کر رہے تھے اور اس مسجد میں شمالی افریقہ صومالیہ اور آیریٹیڑیا کے لوگ نماز پڑھنے آتے ہیں۔

پولیس نے آیسگاسے نام کی گلی جہاں یہ مسجد واقع ہے سیل کر دی ہے اور ایک بڑا سرچ آپریشن شروع کر دیا ھے۔ اسی آثنا میں مسجد سے کچھ سو میٹر فاصلے پر ایک دریا کے کنارے پل کے نیچے ایک لاش ملی ھے جسے سفید کپڑے سے لپیٹا گیا ہے مگر آبھی تک یہ واضع نہیں ہوا کہ یہ لاش اسی شوٹر کی ہے یا کوئی اور ہے۔
سویس میڈیا ایک عرصے سے یہ الزامات لگا رہا ہے کہ زیورخ کے نزدیک ایک مسجد اور جنیوا میں ایک مسجد اور کچھ اور مسجدیں لوگوں کو انتہا پسندی کی طرف مائل کر رہی ہیں اور خاص طور پر کم عمر لڑکوں کو ٹارگٹ کر رہی ہیں۔ سویٹزرلینڈ کی 80 لاکھ آبادی ہے جس میں 450000 ساڑھے چار لاکھ مسلمان ہیں۔

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.