Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




برلن حملے میں ملوث ٹرک ڈرائیور کا پتہ چل گیا


جرمن آون لائن آخبار سپیگل کے مطابق جو ٹرک برلن میں کرسمس مارکیٹ پر حملے میں استعمال کیا گیا تھا اس ٹرک کی ڈرائیونگ سیٹ کے نیچے سے تیونس کے آدمی کا عارضی جرمن شناختی کارڈ برآمد ہوا ہے۔



پولیس کے مطابق آدمی کا نام آنیس آے ہے اور وہ 1992 میں تیونس کے شہر ٹاٹوئین میں پیدا ھوا تھا۔

آخبار ڈائی ویلٹ کے مطابق اس آدمی کے چار مختلف ناموں سے پاسپورٹ بنے ہوئے ہیں اور اس کے جسم پر شدید زخم آئے ہیں اور وہ موقع واردات سے غائب ہو گیا ہے۔

پولیس کے مطابق جو شناختی ڈاکو منٹ ٹرک سے ملا ھے اسے جرمن میں Duldungsbescheinigung کہتے ہیں اور یہ اس شخص کو ملتا ہے جسکی پناہ کی درخواست ابھی منظور نہیں ہوئی ہوتی۔ مگر اسے جرمنی میں رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔ اس آدمی کو نومبر میں جرمنی میں رہنے کی اجازت ملی تھی اور اسے خطرناک قرار دیا گیا تھا اور پولیس کی اس پر نظر تھی مگر یہ پچھلے مہینے غائب ہو گیا تھا۔

جرمن اخبار Süddeutsche Zeitung کے مطابق اس شخص کے ابو واہلا کے ساتھ لنک تھے۔ یاد رہے کہ ابو واہلا کو لاء اینڈ انفورسمنٹ ایجنسیز نے نومبر میں چار ساتھیوں سمیت گرفتار کیا تھا اور اس کے نام نہاد  آئی ایس آئی ایس سے تعلقات تھے۔

ابو واہلا کو جرمنی کا مرکزی انتہاپسند ملزم قرار دیا گیا ہے اور سال کے شروع میں جو سکھوں کے گردوارے میں بمب حملہ ہوا تھا اسکا لنک بھی ابو واہلا اور اسے کے فالوئرز کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے جو کہ ابھی تک ثابت نہیں ہوا۔
پولیس نے فیڈرل پروسیکیوٹرز سے درخواست کی ہے کہ وہ جرمنی میں قومی سطح پر اس شخص کو ڈھونڈنے کی اجازت دے۔

اس شخص نے پولینڈ کی ایک کمپنی کا سامان سے بھرا ہوا ٹرک آغوا کر کے ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ سے برلن میں ایک کرسمس مارکیٹ پر چڑھا دیا تھا جس سے 12 لوگ ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے تھے اور حملہ آور زخمی حالت میں موقع سے فرار ہو گیا تھا۔

میڈل ایسٹ میں لڑنے والی نام نہاد جماعت ISIS نے اسکی ذمہ داری قبول کی ہے مگر یہ بات ابھی ثابت نہیں ہوئی کیونکہ یہ جماعت اکثر کسی بھی واقعے کو اپنے ذمے لے لیتی ہے تاکہ یہ ثابت کر سکے کہ اسکے بندے یورپ میں بھی ہیں۔ 
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.