119

ناروے کے مشہور حجاب کیس کا فیصلہ ہونے والا ہے

ناروے میں مشہور حجاب کیس اب سپریم کورٹ میں سنا جا رہا ہے۔ اور جلد اس کا فیصلہ ہونے والا ہے۔ اس کیس میں دو فریق ہیں جنہیں ناروے میں پس پشت کچھ لوگوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ناروے میں ایک عورت ملائکہ بیان جو کہ نئی مسلمان ہوئی ہیں اور انکا پرانا نام چارلوٹی انٹونسن تھا۔ انہوں نے مسلمان ہونے کے بعد حجاب لینا شروع کر دیا اور وہ ایک ہئرڈریسر کے پاس گئیں۔ جبکہ ہئرڈریسر نے حجاب کی وجہ سے اسے سیلون میں آنے سے منع کر دیا۔ ملائکہ نے ڈسکریمینیشن کےاس واقعے کی پولیس میں رپورٹ کردی اور کیس نچلی کورٹ میں پہنچ گیا اور فیصلہ ہئرڈریسر کے خلاف ہو گیا۔ جلد ہی یہ کیس پورے ناروے میں مشہور ہو گیا اور اس فیصلے کو ناروے کی ہائر کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ ہائر کورٹ میں بھی فیصلہ ہئرڈریسر کے خلاف ہو گیا۔

اب فیصلہ سپریم کورٹ میں سنا جارہا ہے اور جلد اس پر فیصلہ ہونے والا ہے۔ ہئرڈریسر کا کہنا ہے کہ حجاب بدنام زمانہ دہشت گرد جماعت آئی ایس آئی ایس کے جھنڈے کی طرح ہے اور ناروے میں حجاب کے ساتھ رہنا ٹھیک نہیں ہے جبکہ ملائکہ کا کہنا ہے کہ اسکا انسانی حقوق کا اور مذہب کا معاملہ ہے جسے وہ چھوڑ نہیں سکتیں۔ ملائکہ کے ساتھ ناروے کے روشن خیال لوگ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ہیں جبکہ ہئرڈریسر کے ساتھ ناروے میں موجود تنگ نظر لوگ ہیں جو اسلام کو اچھا نہیں سمجھتے۔
ملائکہ کے وکیل سلمان حسین کا کہنا ہے کہ اگر سپریم کورٹ یہ کیس خارج کر دیتی ہے تو یہ ایک بدقسمتی ہو گی اور ملائکہ اس کیس کو دوبارہ سے شروع کرنے میں پرعزم ہیں۔ ناروے میں لاکھوں مسلمان ہیں اور عورتیں اکثر حجاب بھی لیتیں ہیں مگر بعض اوقات ملائکہ کی طرح کے واقعات بھی ہو جاتے ہیں جسکا یہ مطلب نہیں کہ ناروے میں مسلمانوں پر بےجا پابندیاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں