80

پاکستانی ڈاکٹروں کی غفلت سے ایک اور حوا کی بیٹی یتیم ہو گئی۔

ندا عثمان اپنی دکھ بھری داستان کچھ ایسے لکھتیں ہیں۔


10 جنوری 2017 کو میرے پیارے والد صاحب محمد عرفان ڈاکٹروں کی لاپرواہی کی وجہ سے  وفات  پا گئے  ہم سب بہن بھائی ساری زندگی نہیں بھول سکتے  یوں تو موت کا ایک دن مکرر هے لیکن میں یہاں آواز اٹھانا چاہتی ہوں هسپتال کے ڈاکٹروں کے خراب  رویئے  اور خراب علاج کی وجہ سے. 28 دسمبر 2016 کو میرے والد صاحب DOW ہسپتال میں جنرل واڈ میں داخل ہوئے کیونک کچھ کھا پی نہیں رہے تھے  ڈاکٹر نے کہا کہ کمزوری ہے ٹھیک ہو جائیں گے پھر ایک دن بعد کہا کہ chest infection ہے هم کو ICU میں observation کے لیے رکھنا ہوگا پھر ایک دن بعد پاپا کی طبیعت خراب ہونے لگی ڈاکٹر نے کہا آپ کے والد صاحب کو نمونیہ هوگیا هے پھر ہم نے لوگوں سے معلوم کیا ICU کے تقریباً سبھی مریضوں کو ڈبل نمونیہ تھا (ان کا علاج جنرل فیزیشن ڈاکٹر Sadia Iqbal اور ڈیوٹی ڈاکٹر Faiza کر رہی تھی )(اور میرے والد صاحب دل،پروسٹیٹ اور دماغ کے مریض تھے)

پھر 4 جنوری 2017 کو ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ کے والد صاحب ٹھیک ہو رہے ہیں اور کہا ہم کو مزید ICU میں رکھنا ہوگا observation کے لیے پھر اچانک ایک دن بعد پاپا کی طبیعت اور خراب هونے لگی پھر ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ کے والد صاحب کو ڈبل نمونیہ هوگیا ہے ویسے  دیکھنے  سے تو بہت  بڑا هسپتال هے لیکن صفائی نام کی کوئی چیز نہیں تھی ICU میں میز تک تو صاف نہیں ہوتی تھی مریض  کی، نہ دودھ کا گلاس صاف ہوتا تھا ICU کا درجہ حرارت سرد تھا اور کمبل بھی کبھی میسر تھا کبھی نہیں پاپا درد سے تو پہلے سے ہی تڑپ رہے تھے وہ ٹھیک سے بول نہیں سکتے تھے  تکلیف  کی وجہ سے ساتھ میں ان کو ہاتھ ، پاؤں اور سینے سے بھی باندھا هوا تھا اور جب بھی ہم نے مزمت کی تو ہم سے چڑجاتے اور ICU سے باہر نکال دیتے اور خراب رویہ رکھتے تھے۔ پاپا بھی اسٹاف کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے تھے مگر ٹهیک سے بول نہیں پارہے تهے یہاں تک کہ ہم کو پاپا کی روز کی ڈیلی فائل تک نہیں دیکھنے  دیتے  تھے  جو ک ہمارا حق تھا اور جب بھی ہم ان کو باندھنے  کی وجہ پوچھتے  تو ڈاکٹر کہتے کہ یہ اپنا urine bag نکال دینگے  لیکن ڈاکٹر اب تک نہیں سمجھ سکے ک اصل مسئلہ کیا ہے کہ ان کو گردوں کا درد هے ڈاکٹر اور اسٹاف هم کو ان سے ٹھیک سے بات کرنے نہیں دیتے تھے پاپا کا درد بڑھتا جا رہا تھا اور تکلیف سے روتے رہتے تھے اور جب بھی ہم نے تکلیف کے بارے میں پوچھا تو ڈاکٹر نے کہا کہ ان کو دماغ کا مسئلہ ہے کبھی کہا کہ نمونیہ کی وجہ سے درد ہے یہاں تک کہ دماغ کی ڈاکٹر Qamar un Nisa جو شاید ایک بار ہی مریض  دیکھنے  آئی ہو بس فون پر سے علاج کر رہی تھی اور ڈاکٹر Sadia تو ہم سے بات ہی نہیں کرتی تھیْ۔
 اتنے دن گزنے ک بعد بھی ڈاکٹر سمجھ نہیں سکے کہ کیا مرض ہے یہاں میرے پاپا درد سے تڑپ  رہے تھے  چیخ رہے تھے وہاں ڈاکٹر Sadia اور ڈاکٹر Faiza ان پر اپنے تجربے کر رہی تھیں اور پاپا موت کے قریب جا رہے تھے  پھر ہم نے مذمت کر کے 7 جنوری 2017 کو پاپا کا هسپتال تبدیل کیا جب ہم دوسرے هسپتال گئے  تو اسی رات ہم کو معلوم ہوا کہ پاپا کو بہت زیادہ urine infection ہے اور جو پھیل گیا ہے جس کی وجہ سے دونوں گردے خراب ہو رہے ہیں ڈاکٹر نے کہا اب بہت دیرہو گئی ہے اب مشکل ہے پاپا کو اس سے recover کرنا۔
پھر ہم کو یہ بھی معلوم ہوا کہ پاپا کے ہاتھ میں ٹوٹی ہوئی کینولا کی سوئی گھسی ہوئی تھی اور سوئی اوپر سے بینڈج تھی جس کی وجہ سے پاپا کا ہاتھ سوجھا ہوا تھا دیکھنے سے تو DOW بہت بڑا ہسپتال تھا لیکن علاج سفارش پر کرتے تھے ہم نے وہاں بہت  پیسہ لگایا مگر علاج کچھ نہیں. یہ وقت ہماری فیملی کے لیے بہت هی درد بھرا اور خطرناک تھا خاص طور پر ہمارے پاپا کے لیے، اللہ ہم سب کے ماں باپ کو ایسے قاتلوں سے بچائے جو بس لوگوں کی زندگی کے ساتھ تجربے کرتے ہیں اب بهی اپنے والد کی درد بهری آواز مجھے  بہت رلاتی هے مجھے  سکون نہیں لینے  دیتی اللہ میرے پاپا کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
 مہربانی فرما کر اور لوگوں کو بھی اس سے آگاہ کریں شاید کوئی اور موت کے منہ سے جانے سے بچ جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں