166

سویڈش عدالت نے چائلڈ میرج کی شادی منظور کر لی۔

ایک 14 سالہ شامی لڑکی دولہن کے روپ میں اپنے خاوند کے ساتھ سویڈن آئی جو اسکا کزن بھی تھا اور حاملہ ہو گئی۔ سویڈن میں اٹھارہ سال سے کم لڑکے یا لڑکی کو بچہ گنا جاتا ہے اور اسکی شادی کرنا جرم ہے۔ لیکن اب سویڈن کی عدالت نے 14 سالہ شامی لڑکی کی شادی منظور کر لی ہے۔ کیونکہ لڑکی بالغ نظر آتی تھی اور اسکی شادی شامی معاشرے اور مذہب اسلام کے مطابق ہوئی تھی۔

لڑکی کی شادی شام میں اسکے  کزن کے ساتھ ہوئی تھی جب وہ صرف 12 سال کی تھی۔ سویڈن آنے کے بعد اس نے اپنی خالہ کے گھر اپنے خاوند کے ساتھ رہنا شروع کر دیا تھا۔

سویڈن کی سوشل سروسز کے حکام نے اس شادی کو غیرقانونی سمجھا کیونکہ یہ سویڈن کے انصاف کے نظام کے مطابق غلط تھی اور وہ اس کیس کو سویڈش عدالت میں لے گئے۔ لیکن جج نے اس شادی کو جرم سمجھنے سے انکار کر دیا اور وجہ بتائی کہ کیونکہ لڑکی کی پرورش اسلامی اور شامی معاشرے میں ہوئی ہے۔ لحاظہ اس پر سویڈن کا چائلڈ میرج والا قانون لاگو نہیں ہوتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ چونکہ لڑکی قبل از وقت جوان ہو گئی تھی اس لئے عدالت اس شادی میں کوئی خرابی نہیں دیکھتی۔

اس کا مطلب ہے کہ عدالت نے ایک قسم کا اسلامی شریعہ کا قانون پاس کرنے کے لئے راہ ہموار کر دی ہے۔ کیونکہ عدالت نے اقلیتی مسلمانوں کی مجبوریوں کو سمجھتے  ہوئے بچی کی شادی منظور کر لی ہے جبکہ بچی کی عمر صرف 14 سال ہے۔

یہ فیصلہ سویڈن میں مزید شریعیت کے قوانین نافذ کرنے کے لئے ایک مثال بن سکتا ہے۔

سویڈن کے ماہر سیاسیات اور صحافی سکائن مادون نے سویڈش اخبار وی ایل ٹی کے اداریے میں مندرجہ بالا سوالات اٹھائے ہیں۔۔۔۔۔؛

1-اگر لڑکی کو بالغ مان بھی لیا جائے تو کیا یہ غلط نہیں ہے کہ لڑکی چائلڈ میرج کا حصہ ہے؟

2-اگر لڑکی کسی خاص مذہبی اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھتی ہے تو کیا چائلڈ میرج کو ٹھیک مان لیا جائے؟

3-اس عدالتی فیصلے  کی ایک دوسرے زاویے سے تشریح کریں تو لڑکی بالغ اور آزاد سوچ  کی مالک ہے لیکن کیا ہم یہ نہیں جانتے  کہ ایک کمزور لڑکی کی مردوں کے معاشرے میں کتنی مرضی چلتی ہے۔ عدالت  کو اسکی کم عمری پر آنکھیں بند نہیں کرنی چائیے تھیں۔

یہ سوالات  تو ایک صحافی نے ذاتی طور پر اٹھائے ہیں مگر مسلمانوں کے لئے یہ عدالتی فیصلہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اور مستقبل میں اس فیصلے  کی روشنی میں کم عمری کی شادیاں کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Geeza Pro’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px Helvetica}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں