149

مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہیں۔ Muslims are not terrorists

اسلام ایک امن پسند مذہب ہے اور یہ دنیا میں واحد مذہب ہے جس میں حقوق اللہ کے بعد سب سے زیادہ زور حقوق العباد پر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ حقوق اللہ میں کوتاہی ہو تو میں رحم کھا کر معاف بھی کر دوں گا مگر حقوق العباد میں کوتاہی جب تک جن سے زیادتی ہوئی ہے وہ معاف نہیں کریں گے میں بھی نہیں کروں گا۔ ہمسائے کے اتنے  حقوق  بیان کئے گئے  ہیں کہ نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے یہ شک ہونے لگا کہ کہیں ہمسائے کو جائیداد میں حصہ دار ہی نہ بنا دیا جائے۔ یہاں یہ شرط نہیں رکھی گئی کہ ہمسایہ مسلمان ہے کہ کافر ہے بلکہ اسکے مذہب رنگ نسل سے بالا تر ہو کر اسکے  اتنے  حقوق  بیان  کیے  گئے ہیں کہ اگر کسی مسلمان کا ہمسایہ بھوکا سوئے گا تو اسکا ذمہ دار بھی وہ مسلمان ہوگا کہ اس نے اپنے ہمسائے کا خیال کیوں نہ رکھا۔

نبی صلی اللہ وسلم اپنے  دسترخوان  پر غیر مسلموں کو بٹھا کا انکے  ساتھ کھانا کھاتے تھے۔ جس مذہب  میں ایک شخص کے ناجائز قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے برابر قرار دیا جائے وہ مذہب  دہشت گردی کیسے سکھا سکتا ہے؟ جس مذہب  میں ہر انسان چرند پرند کے حقوق  ہوں اور انہیں توڑنے کی سزا ہو وہ مذہب کیسے  کہہ سکتا ہے بم دھماکہ کر کے یا فائرنگ کر کے معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ  اتار دیا جائے؟

جہاد اسلام کا ایک بنیادی حصہ ہے اور قرآن میں بار بار اسکا ذکر کیا گیا ہے۔ بدقسمتی سے مغربی ملکوں اور لوگوں اور کچھ مسلمانوں کو جہاد کی صحیح سمجھ نہیں آسکی۔ جہاد کا مطلب  یہ نہیں کہ کوئی بھی مسلمان  بندوق  اٹھا کر غیر مسلموں کو یا مسلمانوں کو قتل کردے تو وہ جنت  میں چلا جائے گا۔ اگر کوئی ایسا کر رہا ہے تو ایک انسان کے قتل کرنے پر بھی وہ جہنم میں جائے گا۔

اگر ہم اسلام کی تاریخ پر غور کریں تو ہم دیکھتے  ہیں کہ جب  پیغمبر خدا حضرت محمد صلی اللہ وسلم کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو ان  پر پہلی وحی نازل ہوئی اور انہوں نے باقاعدہ نبوت  کا اعلان کیا۔ نبوت کے اعلان کے بعد محمد صلی اللہ وسلم 10 سال تک مکہ میں رہے دین کی تبلیغ کرتے رہے اور کافروں کے ظلم سہتے رہے اور ان دس سالوں میں جہاد کا حکم نہیں آیا۔ یہاں تک کہ طائف  کے سفر میں ان کو پتھروں سے لہولہان بھی کر دیا گیا مگر پھر بھی جہاد کا حکم نہیں آیا۔ نبوت کے اعلان کے بعد دس سال مکہ میں گزارنے کے بعد جب  کافروں کے ظلم حد سے بڑھ گئے  تو اللہ کی طرف سے محمد صلی اللہ وسلم کو ساتھیوں سمیت  مدینہ ہجرت کرنے کا حکم ملا اور آپ نے مکہ چھوڑ کر مدینہ میں رہائش  اختیار کرلی۔

مدینہ پہنچ کر آپ نے ایک ایسے  اسلامی فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جسکی مثال نہ پہلے کبھی ملی تھی نہ قیامت  تک ملے  گی۔ اس اسلامی فلاحی ریاست  میں ہر انسان کے حقوق متعین  کیے  گئے۔ انصاف  کا نظام بنایا گیا، خاوند بیوی بیٹے  بیٹی ماں باپ  ہمسایہ سب کے حقوق مقرر ہوئے۔ جائیداد کی تقسیم کا نظام بنایا گیا۔ غرض  ایسے  قوانین  بنائے  گئے اور ان پر عمل کیا گیا کہ دنیا میں اسکی مثال نہیں ملتی۔

جب محمد صلی اللہ وسلم نے ایک اسلامی فلاحی ریاست  بنا دی تو اللہ کی طرف  سے جہاد کا حکم آیا تاکہ ان کافروں کے خلاف  لڑا جا سکے  جو لوگوں پر ظلم کر رہے ہیں اور انکو شکست  دے کر لوگوں کو امن اور آزادی مہیا کی جا سکے۔ اس جہاد کے بھی قواعد و ضوابط بنائے گئے  کہ قیدیوں عورتوں بچوں اور بوڑھوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا ہے اور کسی سے بھی ذاتی رنجش  کی وجہ سے نہیں لڑنا بلکہ اللہ کے لئے  لڑنا ہے۔

  جہاد کا حکم ایک اسلامی فلاحی ریاست  کا سربراہ یا سپاہ سالار دے سکتا ہے جب  انکے  ملک میں تو سو فیصد امن اور حقوق  کا خیال رکھا جا رہا ہو اور ساتھ والے ملک میں لوگوں پر ظلم ہو رہا ہو تو لوگوں کو ظلم سے بچانے  کیلئے  جہاد کیا جاتا ہے۔ اگر ہر کوئی انفرادی طور پر اپنی مرضی کا جہاد شروع کر دے تو زمین پر قیامت آ جائے گی اور بدقسمتی سے آجکل ایسا ہو رہا ہے اور کچھ دہشت گرد لوگ جو صرف  نام کے مسلمان ہیں وہ لوگوں کی برین واشنگ کر کے ہزاروں لاکھوں معصوم لوگوں کا ناحق خون بہا رہے ہیں۔ پچھلے  دس سال میں لاکھوں مسلمان اور دوسرے مذاہب کے لوگ اس نام نہاد جہاد کی وجہ سے قتل ہو گئے  ہیں اور مسلمان ملکوں کی ایکونومی کا بیڑہ غرق  ہو گیا ہے۔

جہاد کے نام پر لڑنے والے لوگ اصل میں بیمار ذہنیت کے حامل لوگ ہوتے ہیں اور انہیں دماغی علاج  کی ضرورت ہوتی ہے۔ مغرب نے اس سلسلے  میں بھی دوغلی پالیسی اپنائی ہوئی ہے کہ اگر کوئی مسلمان ناجائز قتل کرے تو دہشت گرد اور اگر کوئی غیر مسلم قتل کرے تو ذہنی مریض۔ سوچنے  کی بات ہے کہ کیا مسلمان ذہنی مریض نہیں ہوسکتا؟؟؟

مغربی ملکوں میں اور خاص طور پر امریکہ میں مسلمانوں پر پابندیاں لگائی جا رہی ہیں حالانکہ مسلمان کئی دہائیوں سے ان ملکوں میں رہ رہے ہیں اور ان ملکوں کی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں اور انکا جینا مرنا اب انہی ملکوں کے ساتھ ہے۔ اگر مسلمانوں پر پابندیاں لگا کر مغربی ملک دہشت گردی پر قابو پا لیں گے تو یہ انکی خام خیالی ہے۔ دہشت گردی پر قابو پانا ہے تو عام مسلمانوں کو ساتھ لیکر چلیں اور سب  مل کر اس نام نہاد دہشت گردی کو شکست  دیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Geeza Pro’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px Helvetica; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px Helvetica}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں