118

اردو ہے جس کا نام (داغ دہلوی) urdu he jis ka naam

کعبے   کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے 
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے
سن کر مرا فسانہ انہیں لطف  آگیا 
سنتا ہوں اب  کہ روز طلب  قصہ خواں کی ہے 
پیغامبر کی بات  پر آپس میں رنج  کیا 
میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے 
کچھ تازگی ہو لذتِ  آزار کے لئے 
ہر دم مجھے  تلاش  نئے  آسماں کی ہے 
جانبر بھی ہوگئے  ہیں بہت مجھ سے نیم جان 
کیا غم ہے اے طبیب  جو پوری وہاں کی ہے 
حسرت  برس رہی ہے ہمارے مزار پر 
کہتے  ہیں سب  یہ قبر کسی نوجواں کی ہے 
وقتِ خرامِ ناز  دکھا دو جدا جدا 
یہ چال حشر کی یہ روش  آسماں کی ہے 
فرصت  کہاں کہ ہم سے کسی وقت  تو ملے 
دن غیر کا ہے رات  ترے پاسباں کی ہے 
قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح 
چھپتی نہیں وہ بات  جو تیری زباں کی ہے 
جورِ رقیب  و ظلمِ فلک کا نہیں خیال 
تشویش  ایک خاطرِ نامہرباں کی ہے 
سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا 
ہوجائے جھوٹ  سچ  یہی خوبی بیاں کی ہے 
دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا 
خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے 
ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے  لگا غبار 
کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے 
کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین  پر 
موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے  جہاں کی ہے 
تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں 
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے 
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے  ہیں داغ 
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Geeza Pro’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px Helvetica; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px Helvetica}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں