101

اردگان آسٹریا میں کمپئین نہیں کرسکتے۔ Austria reject Erdogan visit

آسٹریا نے طیپ  اردگان  پر واضح کیا ہے انہیں آسٹریا میں کمپئین  چلانے کی اجازت نہیں ہے۔

ترکی میں اس سال اپریل میں ایک ریفرنڈم ہو رہا ہے جسمیں ترکش  صدر کو بے شمار ایگزیکٹو پاورز مل جائیں گی۔

آسٹرین وزیر خارجہ سیبیسٹین کرز نے کہا ہے کہ صدر اردگان کو آسٹریا میں ویلکم نہیں کہا جائے گا کیونکہ انکی حکومت  کا خیال ہے کہ اردگان کے آسٹریا میں مختلف  تقریبات سے خطاب کی وجہ سے ٹینشن پھیلنے  کا خطرہ ہے۔ اسکی وجہ 360,000 کرد باشندے ہیں جو ترکی کی ایک بڑی اقلیت ہیں اور آسٹریا میں رہتے  ہیں۔

ترکی کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے آسٹریا کے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے اسے متعصب  اور دوہرے معیار پر مبنی قرار دیا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہم آسٹریا کی اس مسخ شدہ ذہنیت  اور اپنی حدود سے تجاوز کرنے کو قبول نہیں کرتے۔

ترکی میں 16 اپریل کو ترکش  آئین میں تبدیلی اور صدارتی اختیارات میں اضافے کیلئے  ریفرینڈم ہو رہا ہے جس سے صدر کو امریکی صدر کی طرح لامحدود پاورز حاصل ہو جائیں گی۔

ترکش حکومت کے مخالفین کا خیال ہے کہ اس سے ترکی میں مطلق العنان حکومت قائم ہو جائے گی اور تمام طاقت کا محور صرف  صدر ہو جائے گا اور انہیں یہ قبول نہیں ہے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Geeza Pro’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px Helvetica}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں