107

پیس کانفرنس فیتیا سٹاک ہوم۔ Peace Conference Stockholm

سٹاک ہوم فیتیا سکول میں پیس کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس کو منعقد کروانے میں سٹاک ہوم کی مشہور شخصیت جناب ایڈوکیٹ شفقت کھٹانہ صاحب نے اہم کردار ادا کیا۔ دنیا اس وقت بدامنی اور دہشت گردی کا شکار ہے اور بدقسمتی سے کچھ خود غرض اور سفاک لوگ جو ذہنی بیمار بھی ہیں وہ اسلام کے پلیٹ فارم کو استعمال کر کے دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں۔
اسلام جو دنیائے انسانیت میں امن کا مذہب ہے اس سفاکانہ دہشت گردی کی وجہ سے بدنام ہو رہا ہے۔ اس وقت مغربی دنیا میں کچھ لوگ اسلام اور دہشت گردی کو ایک سمجھ رہے ہیں۔ اس نازک وقت میں ہم سب کا فرض ہے کہ اسلام کی عظمت کو مغربی لوگوں کے دلوں میں بسانے اور دہشت گردی جس نے عالمی امن تباہ کر کے رکھ دیا ہے کے خلاف اقدامات کریں تاکہ مغربی لوگ اسلام کی امن پسند تصویر دیکھ سکیں اور دنیا میں جو اسلام کے نام پر قتل و غارت ہو رہی ہے اسے ختم کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں ایڈوکیٹ شفقت کھٹانہ صاحب پیس کانفرنس کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔

اس تقریب کے مہمان خصوصی جناب ڈاکٹر حسن محی الدین قادری صاحب تھے جو محترم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے صاحبزادے ہیں۔ اسکے علاوہ سپیشل مہمانوں میں جناب پیر سید ذوالفقار حسین صاحب اور علامہ حسنین گوانی صاحب تھے۔ سٹیج سیکٹری کے فرائض اردو زبان میں سٹاک ہوم پی ٹی آئی کے جنرل سیکٹری افضل فاروقی صاحب اور سویڈش زبان میں ذیشان ادیب صاحب ادا کر رہے تھے۔

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور اسکے بعد نبی پاک صلی اللہ وسلم کی شان میں نعت پیش کی گئی۔
سویڈن کے ہردل عزیز کالم نگار، مصنف اور سٹاک ہوم سٹڈی سرکل کے روح رواں جناب ڈاکٹر عارف کسانہ صاحب نے اپنی تقریر میں اسلام اور امن پر اپنے دلائل دیے۔ اور یہ بتایا کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو دہشت گردی سے کیسے بچا سکتے ہیں۔ کرسچین کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے پاکستانی رائٹر ایمونیل راتک صاحب جنھوں نے کافی کتابیں لکھ رکھی ہیں اور وہ ماسٹر ڈگری ہولڈر ہونے کیساتھ ساتھ سابقہ ایڈیٹر جنگ اور ایڈیٹر نوائے وقت بھی رہ چکے ہیں نے اپنے خطاب میں قرآن اور بائبل کو ایک ہی نور قرار دیا اور کہا کہ دونوں امن کا درس دیتیں ہیں۔

اس تقریب سپیشل گیسٹ اور اسلامی سکالر اور ریسرچر جناب حسنین گوانی نے اپنی تقریر سویڈش زبان میں پیش کی۔ اپنی تقریر میں انہوں نے اللہ کے بندوں پر فوکس کیا اور کہا کہ اللہ کے بندے ہمیشہ اللہ اور مخلوق سے محبت اور امن کا درس دیتے ہیں اور انکا دہشت گردی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ نعت خوان جناب فیصل نذیر صاحب نے نبی کریم صلی اللہ وسلم کی خدمت میں نعت پیش کر کے اپنی محبت کا اظہار کیا۔

اس تقریب کے دوسرے سپیشل گیسٹ جناب پیر سید ذوالفقار حسین بخاری صاحب تھے جنہوں نے پاکستان سے ایم ایس سی فزکس اور کے ٹی ایچ سٹاک ہوم سے ایم ایس اپلائیڈ فزکس اور ایم ایس نینو ٹیکنالوجی میں ڈبل ماسٹر ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔ جناب جامع مسجد ٹینسٹا کی مسجد عمر میں امام ہیں۔ اور پاکستان میں سلسلہ نقشبندیہ کے سجادہ نشین بھی ہیں۔ انہوں نے اسلامک کونسپٹ اون ٹیررزم پر مختصرا مگر سیر حاصل تقریر کی۔ انہوں نے دین اسلام کے تین درجات بیان کیے۔ اسلام ایمان اور احسان اور ان تینوں کا کامن معنی امن بیان کیا۔ مسلمان پیس کو قبول کرنے والا اور امن کا داعی ہوتا ہے۔ پیغمبر اسلام ساری کائنات کیلئے رحمت ہیں۔ اور یونیورسل پروفٹ ہیں انکی ساری زندگی امن کا درس دیتے گزری ہے۔ طائف میں نبی پاک صلی اللہ وسلم کو خون و خون کر دیا گیا۔ تب بھی انہوں نے کہا کہ میں رحمت بن کر آیا ہوں عذاب دینے نہیں۔ فتح مکہ پر بھی سب کو معاف کر دیا۔ اور عورتوں بچوں بوڑھوں اور گھروں میں چھپنے والوں اور درختوں اور فصلوں کو بھی نقصان نہیں پہنچانے دیا۔ اسلام اور پیغمبر اسلام دونوں امن چاہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ وسلم کے زمانے میں بھی خوارج کا گروہ پیدا ہو گیا تھا۔ سارے صحابہ کے دور میں بھی یہ گروہ موجود تھا۔ نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا انکی نمازیں اور قرآن کی تلاوت آپ سے بہتر ہوں گی مگر انکے اندر سے ایمان ایسے نکلا ہوا ہوگا جیسے تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ اسلام میں ایک شخص کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے برابر ہے۔ مدینہ میں قصاص اور دیت میں بھی غیر مسلم برابر تھے۔

رجب فتح علی خان جو نصرت فتح علی خان صاحب کے کزن بھی ہیں۔ انہوں نے اپنی پیاری آواز میں نبی پاک صلی اللہ وسلم کی خدمت میں نعت پیش کی۔ انکی آواز کی لے اتنی پیاری تھی کہ لوگوں کو نصرت فتح علی کی یاد آگئی۔ سویڈن کے شہر مالمو سے منہاج القرآن سویڈن کے جنرل سیکٹری جناب بابر شیخ صاحب اور صدر منہاج القرآن سویڈن جناب سید محمود شاہ بھی تقریب میں موجود تھے جنہوں نے یہ خوشخبری سنائی کہ گزشتہ روز مالمو میں منہاج القرآن کی پہلی مسجد کا افتتاح ہو چکا ہے۔

تقریب کے آخر میں ڈاکٹر سکالر پی ایچ ڈی ہولڈر اور چیئرمین سپریم کونسل منہاج القرآن جناب ڈاکٹر حسن محی الدین قادری صاحب نے اپنا خطاب پیش کیا۔ اسلام اور امن کی وضاحت کرنے کیلئے انہوں نے حدیث جبریل بیان کی جسکے راوی حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہیں بیانکہ وہ اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ کہ اچانک ایک شخص وہاں حاضر ہوئے جنہوں نے سفید چمکتے ہوئے دودھ کی مانند لباس پہنا ہوا تھا اور انکے بال سیاہ تھے۔ وہ سب کیلئے اجنبی تھے اور انہیں پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔ وہ جبریل علیہ السلام تھے جو انسانی شکل میں آئے تھے۔ انہوں نے اندر آنے کی اجازت طلب کی اور دوزانو ہو کر نبی صلی اللہ وسلم کے پاس بیٹھے۔ اور سوال کیا میں کچھ پوچھ سکتا ہوں جواب ہاں ملنے پر انہوں نے چار سوالات کیے۔ وہ چار سوالات اسلام ایمان احسان اور قیامت کے بارے میں تھے۔ نبی صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔ مسلمان وہ ہے جسکی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ جو آدمی ہاتھ سے اسلحہ چلا رہا ہے یا قلم سے دہشت گردی لکھ رہا ہے وہ مسلمان نہیں ہوسکتا۔

ایک کافر نبی کے پاس آیا اور آپ نے انکی مہمان نوازی کی اپنے بستر ہر لٹایا مگر اسکے پیٹ خراب ہو نے کی وجہ سے نبی کا بستر خراب ہو گیا صبح وہ جلدی میں بھاگ گیا مگر تلوار پیچھے رہ جانے کی وجہ سے واپس آیا تو نبی اپنے ہاتھ سے وہ گندگی دھو رہے تھے یہ دیکھ کر وہ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گیا۔  ایک اور حدیث میں ہے۔ وہ مومن نہیں ہوسکتا جسکا ہمسایہ اس کے شر سے محفوظ نہ ہو۔ ایک دفعہ ایک یہودنی کا جنازہ جا رہا تھا تو نبی صلی اللہ وسلم احترام سے کھڑے ہوگئے کہ وہ بھی تو انسان ہے اور میں رحمت بن کر آیا ہوں۔

نبی پاک صلی اللہ وسلم جنکی وجہ سے ہم مسلمان ہیں وہ تو ساری زندگی حقوق اور مدد کی بات کرتے رہے مگر آج کے کچھ ذہنی بیمار اور سفاگ انسان معصوم لوگوں کو قتل کر کے اسلام کا نام لگا رہے ہیں۔ اس تقریب کا اختتامی اعلامیہ میں یہ بات صاف طور پر کی گئی کہ آئی ایس آئی ایس غیر مسلم تنظیم ہے اور انکا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے اور اسلام امن کا مذہب ہے جو معصوم لوگوں کو قتل کرتا ہے وہ نہ مسلمان ہے اور نہ اسکا اسلام سے کوئی تعلق ہے۔
تقریب کے آخر میں پرتکلف کھانے کا انتظام تھا اور حاضرین نے  خوب انجوائے  کر کے  کھایا اور ایک دوسرے سے تقریب کے حوالے  سے  اظہار خیال کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں