104

رقم کا لین دین قرآن کی نظر میں۔ Financial Dealings in the light of Quran

يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اِذَا تَدَايَنْتُـمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْـتُبُوْهُ ۚ وَلْيَكْـتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌ بِالْعَدْلِ ۚ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْـتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّـٰهُ ۚ فَلْيَكْـتُبْۚ وَلْيُمْلِلِ الَّـذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّـٰهَ رَبَّهٝ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْئًا ۚ فَاِنْ كَانَ الَّـذِىْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِـيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٝ بِالْعَدْلِ ۚ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۖ فَاِنْ لَّمْ يَكُـوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتَانِ مِمَّن تَـرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدَاهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدَاهُمَا الْاُخْرٰى ۚ وَلَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ۚ وَلَا تَسْاَمُـوٓا اَنْ تَكْـتُـبُوهُ صَغِيْـرًا اَوْ كَبِيْـرًا اِلٰٓى اَجَلِـهٖ ۚ ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّـٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰٓى اَلَّا تَـرْتَابُـوٓا ۖ اِلَّآ اَنْ تَكُـوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْـرُوْنَـهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْـتُبُوْهَا ۗ وَاَشْهِدُوٓا اِذَا تَبَايَعْتُـمْ ۚ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ۚ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٝ فُسُوْقٌ بِكُمْ ۗ وَاتَّقُوا اللّـٰهَ ۖ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّـٰهُ ۗ وَاللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِـيْـمٌ (282)

اے ایمان والو! جب تم کسی وقتِ مقرر تک آپس میں ادھار کا معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور چاہیے کہ تمہارے درمیان لکھنے والا انصاف سے لکھے، اور لکھنے والا لکھنے سے انکار نہ کرے جیسا کہ اس کو اللہ نے سکھایا ہے، سو اسے چاہیے کہ لکھ دے، اور وہ شخص بتلاتا جائے کہ جس پر قرض ہے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا رب ہے اور اس میں کچھ کم کر کے نہ لکھائے، پھر اگر وہ شخص کہ جس پر قرض ہے بے وقوف ہے یا کمزور ہے یا وہ بتلا نہیں سکتا تو اس کا کارکن ٹھیک طور پر لکھوا دے، اور اپنے مردوں میں سے دو گواہ کر لیا کرو، پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دوعورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں تم گواہو ں میں سے پسند کرتے ہو تاکہ اگر ایک ان میں سے بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے، اور جب گواہوں کو بلایا جائے تو انکار نہ کریں، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا اس کی معیاد تک لکھنے میں سستی نہ کرو، یہ لکھ لینا اللہ کے نزدیک انصاف کو زیادہ قائم رکھنے والا ہے اور شہادت کا زیادہ درست رکھنے والا ہے اور زیادہ قریب ہے اس بات کے کہ تم کسی شبہ میں نہ پڑو، مگر یہ کہ (جب) تجارت ہاتھوں ہاتھ ہو جسے آپس میں لیتے دیتے ہو پھر تم پر کوئی گناہ نہیں کہ اسے نہ لکھو، اور جب آپس میں سودا کرو تو گواہ بنا لو، اور لکھنے والے اور گواہ بنانے والے کو تکلیف نہ دی جائے، اور اگر تم نے تکلیف دی تو تمہیں گناہ ہوگا، اور اللہ سے ڈرو، اور اللہ تمہیں سکھاتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔


O you who have believed, when you contract a debt for a specified term, write it down. And let a scribe write [it] between you in justice. Let no scribe refuse to write as Allah has taught him. So let him write and let the one who has the obligation dictate. And let him fear Allah , his Lord, and not leave anything out of it. But if the one who has the obligation is of limited understanding or weak or unable to dictate himself, then let his guardian dictate in justice. And bring to witness two witnesses from among your men. And if there are not two men [available], then a man and two women from those whom you accept as witnesses – so that if one of the women errs, then the other can remind her. And let not the witnesses refuse when they are called upon. And do not be [too] weary to write it, whether it is small or large, for its [specified] term. That is more just in the sight of Allah and stronger as evidence and more likely to prevent doubt between you, except when it is an immediate transaction which you conduct among yourselves. For [then] there is no blame upon you if you do not write it. And take witnesses when you conclude a contract. Let no scribe be harmed or any witness. For if you do so, indeed, it is [grave] disobedience in you. And fear Allah . And Allah teaches you. And Allah is Knowing of all things

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں