Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




ہارون رشید صاحب کیساتھ سٹاک ہوم میں ایک شام. Haroon Ur Rasheed in Stockholm

پاکستانی معذور بچوں کی فلاح کیلئے قائم فلاحی تنظیم سکون فاؤنڈیشن ناروے کیلئے فنڈز اکھٹے کرنے کیلئے PICS سویڈن کے زیراہتمام سٹاک ہوم فیتیا میں ایک شام منائی گئی جسمیں پاکستان کے ممتاز کالم نگار ہارون رشید صاحب مہمان خصوصی تھے۔ اسکے علاوہ باقی مہمانوں میں ڈنمارک سے آئے پی ٹی آئی یورپ کے میڈیا ایڈوائزر جناب میاں طارق جاوید صاحب اور ناروے سے تشریف لائے سکون تنظیم کے چیئرمین جناب شاہد جمیل صاحب شامل تھے۔


سٹیج ہوسٹ کے فرائض جناب عارف کسانہ صاحب نے احسن طریقے سے انجام دیے۔ تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا اور موقع کی مناسبت سے حافظ قدیر علی صاحب نے سورۂ بقرہ آیت 177، سورۂ اسرا کی آیت 46 اور سورۂ آل عمران کی آیت 180 ترجمہ سمیت تلاوت کیں جسمیں مال باوجود عزیز ہونے کے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کا کہا گیا ہے۔ نعت رسول صلی اللہ وسلم کا اعزاز جناب کاشف فرخ صاحب کے حصے میں آیا اور انہوں نے ان اشعار کے ساتھ نعت پڑھی کہ سامعین دم بخود رہ گئے۔
خدا کا ذکر کرے اور ذکر مصطفی نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے۔

اسکے بعد ایشین اردو سوسائٹی کے صدر اور سویڈن کے ہردل عزیز شاعر جناب جمیل عالی صاحب نے اپنا شاعرانہ کلام پیش کیا اور ڈنمارک سے تشریف لائے میاں طارق جاوید صاحب نے اس موقع پر سکون تنظیم کو ایک عظیم کام گردانتے ہوئے اسے پاکستانی معذور بچوں کیلئے ایک بہت بڑی مدد قرار دیا۔ اور اپنی طرف سے 12 وہیل چئیرز سکون تنظیم کو دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے سامعین کو یہ بھی بتایا کہ جناب ہارون رشید صاحب نے اپنی طرف سے ہر مہینے دو وہیل چئیر اور ٹوٹل 26 وہیل چئیر دینے کا اعلان کیا ہے اسکے علاوہ نمل کالج کے فاؤنڈر ممبر بننے کیلئے سو ڈالر کا عطیہ بھی عنایت فرمایا۔

سکون تنظیم کے بانی چیئرمین جناب شاہد جمیل صاحب سامعین کو بتایا کہ انہوں نے سکون تنظیم بنانے کا خواب 2008 میں دیکھا تھا مگر خواب کو عملی جامہ پہنانے میں کئی سال لگ گئےاور 2016 مارچ میں انہوں نے سرگرمی کیساتھ اس پروجیکٹ کی ویب سائٹ پر کام شروع کیا اور ستمبر 2016 سے انہوں نے پاکستان میں معذور بچوں کو وہیل چئیرز دینا شروع کردی ہیں۔

انہوں نے وٹس ایپ پر ایک گروپ بنایا ہے جہاں سے لوگ ان تک پہنچ سکتے ہیں۔ سکون تنظیم کی ویب سائیٹ پر مدد کی درخواست جمع کروانے کا اون لائن فارم دیا گیا ہے جسمیں اپنے باقی کوائف کے علاوہ پاکستانی آئی ڈی کارڈ اور ڈس ابیلیٹی کے سرٹیفیکیٹ کی کاپی اپنی تازہ تصویر کے ساتھ لازمی قرار دی گئی ہے۔ درخواست میں یہ لازمی قرار دیا گیا ہے کہ درخواست دینے والا اپنے سرپرست کی ماہانہ یا سالانہ اِنکم کے بارے میں لازمی بتائے تاکہ اس بات کا تعین کیا جاسکے کہ وہ مدد کا اہل بھی ہے کہ نہیں۔

شاہد جمیل صاحب نے سامعین کو بتایا کہ گزشتہ دو دنوں میں ناروے سے انہیں لوگوں نے 283 وہیل چئیرز ڈونیٹ کی ہیں۔
مہمان خصوصی کالم نگار جناب ہارون رشید صاحب نے قرآن کی آیت سے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور سیکنڈینیویا کے چھوٹے چھوٹے تینوں ممالک سویڈن ناروے اور ڈنمارک کی غیر معمولی ترقی کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے اپنے شہریوں کو تعلیم، ڈسپلن، شعور، قانون کے نفاذ اور احساس تحفظ کی سہولت دی ہے کہ ہر کوئی ایک تحفظ کی دیوار سے ٹیک لگا سکتا ہے اور یہاں عدالتیں انصاف کر رہی ہیں اور ان ملکوں میں کوئی بھی غریب لاچار اور بے یارو مددگار نہیں ہے۔
پاکستان میں لوگ پریشان ہیں اور خود کچھ نہیں کرتے بلکہ سیاسی جماعتوں پر الزام دیتے ہیں کہ انکی تباہی کی ذمہ دار سیاسی جماعتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اکثر پاکستان میں سفر میں ہوتے ہیں اور انہیں راستے میں بیشمار مفکر ملتے ہیں جو پاکستان کی بہتری کیلئے تجاویز دیتے ہیں۔ لیکن عملی طور پر وہاں لوگ کچھ نہیں کرتے۔ قوم یا تو زندہ ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ درمیان کی کوئی سٹیج نہیں ہوتی ہے۔ قوم کو زندہ لوگ خود کرتے ہیں کوئی باہر سے آ کر انہیں زندہ نہیں کرتا۔ ہم صرف پیروی کر سکتے ہیں اور لیڈروں کی تعریفیں کر سکتے ہیں کسی کا نواز شریف آئیڈیل ہے اور کسی کا زرداری جبکہ کوئی فوجی جرنیلوں سے امیدیں لگائے بھیٹھے ہیں۔

انہوں نے ان لوگوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو عمران خان کو آخری امید سمجھتے ہیں اور خود کچھ نہیں کرتے قائد اعظم نے تنہا پاکستان نہیں بنایا تھا اسے پچھتر پرسینٹ ووٹ ملے تھے عمران خان اکیلا کیا کرے گا تبدیلی تب آئے گی جبکہ لوگ خود اپنی حالت بدلنا شروع کریں گے۔ مسلمان ماضی میں زندہ ہیں اور اپنے حکمرانوں پر انحصار کرتے ہیں زندگی میں غلطیاں نہیں ہوتیں بلکہ سبق ہوتے ہیں اگر سیکھ لیں تو ٹھیک ورنہ دوبارہ ملتے رہتے ہیں۔ ایک جیسے تجربے جتنے بھی کریں گے انکا نتیجہ ایک ہی نکلے گا۔ پاکستان کے بائیس کڑور انسان ریوڑ کے ریوڑ ہیں۔ ان پر چند لوگ حکومت کر رہے ہیں یہ یونیورسل سچ ہے کہ مینارٹی کبھی میجاریٹی پر ساری زندگی حکومت نہیں کر سکتی۔ کوئی چیز ایک جگہ یا حال پر نہیں رہتی یا یہ اچھی ہوتی ہے یا خراب ہوتی ہے۔

ہر چیز پر زوال ہے۔ اسلئے آج اگر کرپٹ حکمران پاکستان پر قابض ہیں کل انشااللہ نہیں ہونگے۔ تبدیلی ضرور آئے گی۔ آپ قائداعظم کی تصویر غور سے دیکھیں وہ ہر وقت فوکس رہتے تھے۔ زندگی صرف ایک دفعہ ہی ملتی ہے لحاظہ اس میں کچھ ضرور کرنا چائیے۔دنیا کی تمام اقوام تجربات سے گزرتیں ہیں ۔ ایک وقت تھا الیکشن میں امریکہ میں کئی سو لوگ قتل ہو جاتے تھے گوروں نے کالوں کو غلام بنایا ہوا تھا۔ یوکے نے آدھی دنیا کے لوگوں کو غلام بنایا ہوا تھا۔

ناجائز دولت سے انسان کو کبھی بھی ذہنی سکون نہیں آ سکتا انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کا حوالہ دیا کہ وہ کھربوں پتی ہیں مگر وہ تنقید سے ڈرتے ہیں۔ ایک واقعہ میں نیوز پیپرز ایسوسی ایشن کی تقریب میں انہیں چئیرمین نے درخواست کر کے مدعو کر لیا۔ اس تقریب میں نواز شریف نے آنا تھا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ نواز شریف کے اندر آتے ہی اسکی نظر ہارون صاحب پر پڑ گئی اسکی بعد اسکا سارا وقت بےآرامی میں ہی گزرا اور وہ ہارون رشید پر ہر فقرے میں تنقید ہی کرتا رہا۔

اللہ رحیم ہے اور اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔ اسلام بہت سادہ اور آسان ہے اسے مولوی نے مشکل بنا دیا ہے۔ اللہ نے قرآن اور اسلام آسان بنایا ہے۔ انہوں نبی پاک صلی اللہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیا جسمیں وہ فرماتے ہیں کہ اے ابوذر، جس نے اللہ کو ایک اور محمد صلی اللہ وسلم کو اسکا رسول مان لیا تو وہ جنت میں ضرور جائے گا۔ مسلمان کے لئے جہنم ہے ہی نہیں بلکہ قرآن میں صاف یہ لکھا گیا ہے کہ جہنم کافروں کیلئے بنائی گئی ہے۔مسلمان جو گناہ کریں گے انکی سزا تو بھگتنی پڑے گی جیسے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اب جنت کے باہر دو سو برس انتظار کرو۔

شہرت اور دولت کوئی اچیومنٹ نہیں ہے۔ نماز پانچ منٹ کی ہے بندہ تازہ ہو جاتا ہے۔ اور زکوتہ مال کو پاک کرنے کیلئے ایک اچھی چیز ہے۔ نبی پاک صلی اللہ وسلم نے فرمایا جسے مجھ سے محبت ہے وہ جھوٹ نہ بولے اور خیانت نہ کرے۔
قبر اور قیامت کو اللہ یہ نہیں پوچھے گا تیرا کونسا فرقہ تھا بلکہ یہ پوچھے گا کہ میں تمہیں عقل بخشی تھی تم نے کبھی غور کیا تھا۔ مخلوق خدا کا کنبہ ہے۔ لحاظہ انکی مدد کریں۔ ہمارے پڑوسی بھوک سے مریں مگر ہم عیاشی کریں یہ نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا سے بہت بہتر ہے اور یہاں بھوک سے کوئی نہیں مرتا جبکہ دہلی میں روزانہ چوبیس لوگ بھوک مرتے ہیں ۔

حدیث کیمطابق جب بڑائی سے روکا نہیں جائے گا اور نیکی کا کہا نہیں جائے گا تو تم پر بدترین حاکم مسلط کیے جائیں گے اور تمہارے نیک لوگوں کی دعائیں قبول نہیں ہونگی۔ ہمیشہ بہتری کا امکان ہوتا ہے۔ اسلئے بہتری کی کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ سفر میں بھی نماز ضرور پڑھتے ہیں اور ایک دفعہ آئرپورٹ پر نماز کے بعد دعا مانگ رہے تھے تو ایک پاکستانی بڑی سیاسی شخصیت جس نے بیس عرب ڈالر کی منی لانڈرنگ کی تھی، نے انکا کندھا دبایا اور اپنے لئے دعا کرنے کا کہا۔ میں نے اس سے پوچھا کیا دعا کروں تو اس نے کہا کہ یہ دعا کرو کہ اللہ ہارون رشید کو ہدایت دے کہ وہ میرے خلاف تنقید نہ کیا کرے۔ تقریر کے بعد سامعین نے ہارون رشید صاحب سے کئی سوالات کیے جن میں پاکستان میں تبدیلی اور پاناما کے موضوع غالب رہے۔

سٹاک ہوم میں پاکستانیوں نے کمال فراغدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چند منٹوں میں سکون تنظیم کے تحت پاکستان میں معذور افراد کو مفت وہیل چئیرز دینے کی مہم میں کھلے دل سے 122 سے زائد وہیل چئیر کے عطیات دیے جنکی ٹوٹل مالیت 61 ہزار سویڈش کرونا سے زائد بنتی ہے۔ سویڈن میں کسی بھی پاکستانی اجتماع میں خیراتی مقصد کے لئے اکٹھی ہونے والی یہ سب سے بڑی رقم ہے۔ اس سے 122 مستحق معذور افراد کو مفت وہیل چئیر مل سکیں گی۔ سویڈن میں پاکستانی کمیونٹی قابل فخر ہے اور اللہ انکی یہ کوشش قبول فرمائے اور دوسروں کو سکون دینے والوں کے گھروں میں بھی سکون عطا فرمائے۔ امین۔






































تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.