138

اسلام محبت اور امن کا درس دیتا ہے۔ Islam teaches us Love and Peace

پنجاب یونیورسٹی کی 61 سالہ خاتون پروفیسر جو احمدی تھی، قتل ہوگئی ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق احمدی کافر ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ کافر ہیں تو انہیں اقلیتوں کے حقوق تو دے دو۔ اس خاتون نے کیلی فورنیا امریکہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہوئی تھی اور پاکستانی طالب علموں کو پڑھا رہی تھی۔ مگر کسی شارٹ کٹ جنت لینے کے دعوے دار نے اسے قتل کر دیا۔ چلو ایک بوڑھی عورت کو مار کر جنت میں گھر تو مل جائے گا۔
احمدی ختم نبوت کو نہیں مانتے اسلئے کافر ہیں، عیسائی حضرت عیسی علیہ اسلام کو خدا کا نعوذ بااللہ بیٹا مانتے ہیں وہ اس سے بھی بڑا گناہ ہے، ہندو پتھر کے بتوں کو خدا مانتے ہیں یہ اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا ان سب کو مار دیا جائے؟ظاہر ہے جو لوگ شارٹ کٹ جنت کے امیدوار ہیں وہ احمدیوں کو اسی لئے مار رہے ہیں۔ اگر ان تمام منکرین اللہ اور منکرین نبوت کو مار دیا جائے تو اس طرح پاکستان میں ایک بھی اقلیت زندہ نہیں بچے گی اور پاکستان بالکل پاک ملک بن جائے گا اقلیتوں سے پاک۔ ٹھہریں ٹھہریں ابھی پاکستان پاک نہیں ہوا کیونکہ جو یہاں مسلمان ہیں ان میں بھی کافر موجود ہیں۔ ہر فرقہ دوسرے پر کفر کا الزام لگاتا ہے اور اگر سارے ہی کافر ہیں تو انہیں بھی مار دیا جائے کیونکہ پاکستان کی پاک سر زمین کو کافروں سے پاک جو کرنا ہے۔ کیسا پاک پاکستان ہوگا جہاں صرف قبریں ہی قبریں ہونگی اور سارے کافر مر جائیں گے۔

پاکستان میں فرقہ ورانہ نفرت اتنی زیادہ ہے کہ ہر فرقہ اپنے آپ کو اصل مسلمان اور دوسروں کو پکا کافر گردانتا ہے۔ ایک خاص فرقے کے ایک بڑے امام صاحب تو اپنی زندگی میں ایک بہت بڑی کتاب لکھ کے گئے ہیں جس میں موصوف اپنے فرقے کے علاوہ باقی تمام فرقوں کو کافر قرار دے گئے ہیں۔ اگر انکی اس بات کو سچ مان لیا جائے تو پاکستان انڈیا میں چند کڑور مسلمانوں کے علاوہ باقی ساری دنیا کے دو عرب سے زائد تمام مسلمان کافر ہیں۔ اور خدا ناخواستہ خانہ کعبہ اور روضئہ رسول صلی اللہ وسلم بھی کافروں کی ملکیت میں آ گیا ہے اور حج بھی خدا نا خواستہ کافر پڑھاتا ہے۔

ایک خاص فرقہ والے نبی پاک صلی اللہ وسلم کی حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ قیامت تک 72 فرقے ہونگے اور صرف ایک فرقہ جنت میں جائے گا۔ اور وہ فرقہ انہی کا خاص فرقہ ہے۔ جب ان لوگوں سے اس حدیث کا حوالہ نمبر اور کتاب نمبر پوچھا جاتا ہے تو یہ لوگ یا تو گفتگو سے بھاگ جاتے ہیں یا گندی گالیاں نکالتے ہیں یا قتل کی دھمکی دینا شروع کر دیتے ہیں۔ جب لوگوں کو قرآن پاک کی ان آیات کا حوالہ دیا جاتا ہے جن میں اللہ نے فرقہ پرستی کو منع فرمایا ہے تو ایسے لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کو اردو ترجمہ سے نہیں پڑھنا نہیں تو بے دین ہو جاؤ گے۔ ایسے لوگ صرف خاص عالموں کی اردو تفسیر ہی پڑھتے ہیں جس میں اس عالم صاحب نے اپنے ذاتی خیالات کا تڑکہ لگایا ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالی قرآن مجید میں سورۂ قمر آیت 17 میں فرماتے ہیں۔

وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلـذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّكِرٍ (17)
اور البتہ ہم نے تو سمجھنے کے لیے قرآن کو آسان کر دیا پھر کوئی ہے کہ سمجھے

فرقوں کے متعلق قرآن مجید میں سورۂ الروم آیت 32 میں ارشاد ہے۔

مِنَ الَّـذِيْنَ فَرَّقُوْا دِيْنَـهُـمْ وَكَانُـوْا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَـدَيْهِـمْ فَرِحُوْنَ (32)
( اور نہ ان لوگوں میں ہونا) جنہوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور ( خود)
کئی فرقے ہو گئے، سب فرقے اسی سے خوش ہیں جو ان کے پا س ہے۔

افسوس آج کا مسلمان اللہ کی پاک کتاب میں صاف صاف بیان کی گئی باتوں سے انکاری ہوا ہوا ہے اور اس کتاب پر یقین کرنے کو تیار نہیں جو اللہ نے آسان بنائی ہے اور قیامت تک اسکی حفاظت کا ذمہ لیا ہے۔

قائداعظم نے پاکستان بناتے وقت اقلیتوں کو وہی حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا جو مسلمانوں کے ہیں اور اسی لئے جھنڈے میں سفید رنگ کا اضافہ کیا گیا تھا۔ مگر پیارے پاکستان میں اقلیتوں کو کیا حقوق ملنے ہیں یہاں تو کلمہ پڑھنے والے اور نبی پاک صلی اللہ وسلم کو آخری نبی سمجھنے والے بھی گاجر مولی کی طرح کٹ پھٹ رہے ہیں۔ یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنے ملک میں وحشیوں کی طرح لوگوں کو قتل کر رہے ہیں مگر شام عراق اور کشمیر فلسطین میں انکی ایمانی غیرت جاگ جاتی ہے اور مگرمچھ کی طرح ٹسوے بہاتے ہیں۔

اگر مسلمانوں نے دنیا میں عزت کے ساتھ زندہ رہنا ہے اور اپنی آخرت بہتر بنانی ہے اور سچ مچ اصلی والی جنت لینی ہے تو انہیں اللہ کی پاک کتاب قرآن مجید پر اپنی مادری زبان میں غور کرنا پڑے گا جس میں لکھا ہے کہ اگر تم کسی کے جھوٹے خدا کو بڑا کہو گے تو وہ تمہارے سچے خدا کو بڑا کہیں گےـ

(سورہ الانعام آیت نمبر 108)
اور (اے ایمان لانے والو!) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں ہم نے اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنا دیا ہے پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔

قرآن میں کہیں بلاوجہ کسی اقلیت کو مارنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ خدا کے بندو قرآن کا ترجمہ اردو میں پڑھو اور خدا سے ڈرو اور لوگوں کو خود ہی مذہب کے نام پر قتل کرنا بند کردو۔ جو مولوی مذہب کے نام پر نفرت کی آگ لگاتے ہیں انکی محفل میں بیٹھنا چھوڑ دو اور اسلام پر محبت سے عمل کرو اور دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بھی محبت سے پیش آؤ تاکہ وہ تمہارے حسن سلوک سے خود ہی مسلمان ہو جائیں۔ یہی حضرت محمد صلی اللہ وسلم کی تعلیمات ہیں اور یہی قرآن کہتا ہے اور اسی میں دنیا آخرت کی بھلائی ہے۔ جذاک اللہ!

طارق محمود اڈیٹر انچیف اردونامہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں