81

قصہ سویٹزرلینڈ جانے کا۔ Story how to visit Switzerland

پاکستانی ڈراموں کی اور کوئی بات یاد رہے نہ رہے ایک کبھی نہیں بھولتی، جسمیں بیٹھے بٹھائے اچانک کہا جاتا ہے آؤ سویٹزرلینڈ چلتے ہیں اور دوسرے لمحے وہ سویٹزرلینڈ میں ہوتے ہیں۔ ڈرامے چونکہ خواتین اور بچے زیادہ دیکھتے ہیں اسلئے انکے ذہن میں سویٹزرلینڈ کا تصور بھی کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے، خاص طور پر جب بچے یورپین نیشنل ہوں اور رہتے بھی سویٹزرلینڈ کے نزدیک ہوں تو وہاں جا کر رہنے کا شوق اور بھی زیادہ ہوجاتا ہے۔ سویٹزرلینڈ جانے کا خیال بادل ناخواستہ ذہن میں نہیں آیا بلکہ اس کے پیچھے بیگم کا وہ طعنہ تھا کہ اتنے سال یورپ میں رہتے ہوگئے ہیں مگر ہم ابھی تک سویٹزرلینڈ تک نہیں جاسکے۔

کچھ لفظوں کے ہیر پھیر سے یہی طعنہ ہمارے عزیز دوست حمیر صاحب کو بھی سننے میں ملا۔ بس پھر کیا تھا راقم اور حمیر صاحب دونوں سر جوڑ کر بیٹھ گئے کہ سویٹزرلینڈ کس راستے سے جایا جائے اور کتنے دن وہاں رہا جائے اور راستے میں موجود کتنے اور ملکوں میں ٹھہرا جائے تاکہ بیگمات اور بچوں کو یہ جتایا جا سکے کہ دیکھو کتنے ملک پھر رہے ہیں، گویا ایک تیر سے کئی شکار کرنے کا پروگرام بننا شروع ہوگیا۔

کافی سوچ بچار کے بعد چند منصوبے ہمارے ذہن میں آئے۔ جنہیں قارئین کی دلچسپی کیلئے یہاں بیان کیا جاتا ہے۔

منصوبہ نمبر 1
سویڈن سٹاک ہوم سے ہوائی جہاز کے ذریعے اٹلی کے شہر میلان جایا جائے جو سویٹزرلینڈ کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ میلان آئرپورٹ سے دو عدد گاڑیاں کرایہ پر لی جائیں کیونکہ دونوں خاندانوں کو ملا کر ماشااللّہ تیرہ افراد بن رہے تھے اور یورپ میں چھوٹے بچوں سے بڑوں تک ہر بندے کا اپنی سیٹ پر بیٹھ کر بیلٹ لگانا لازمی ہوتا ہے۔ اسلئے سات سات نشستوں والی گاڑیاں لینے کا پروگرام بنا تاکہ آسانی سے اٹلی اور سویٹزرلینڈ گھوما جا سکے۔ سویٹزرلینڈ چونکہ یورپ کے درمیان ایک چھوٹا سا ملک ہے اور اسکے ایک کونے سے دوسرے کونے کا فاصلہ ڈھائی سو سے تین سو کلومیٹر تک ہی ہے اور پورا سویٹزرلینڈ دو تین دنوں میں آسانی سے گھوما جا سکتا ہے اور دو تین دنوں میں اٹلی کے نزدیکی شہر میلان اور وینس دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہ پروگرام دیکھنے میں آسان لگتا تھا مگر اس پروگرام میں صرف دو ملک ہی دیکھے جاسکتے تھے اسلئے اس منصوبے کو جلد ہی ترک کر دیا گیا۔

منصوبہ نمبر 2
اپنی گاڑیاں لیکر سٹاک ہوم سے بحری جہاز کے ذریعے پولینڈ کے شہر گڈینسک جایا جائے اور وہاں سے تقریباً پندرہ سو کلومیٹر کا فاصلہ اپنی گاڑیوں پر طے کیا جائے اور چیک ریپبلک کے شہر پراگ اور آسٹریا کے شہر ویانا سے ہوتے ہوئے سویٹزرلینڈ کے شہر زیورچ جایا جائے۔ اس منصوبے میں آنے اور جاتے وقت دونوں طرف سے بحری جہاز کا استعمال کافی مہنگا پڑ رہا تھا، اسلئے اس منصوبے کو جلد ہی ترک کر دیا گیا۔

منصوبہ نمبر 3
سٹاک ہوم سے اپنی گاڑیوں پر 650 کلومیٹر دور سویڈن کے تیسرے بڑے شہر مالمو جایا جائے جو کوپن ہیگن ڈنمارک کے بالکل ساتھ ہے اور وہاں سے ڈنمارک میں داخل ہونے کی بجائے بحری جہاز کے ذریعے جرمنی کی بندرگاہ رو سٹاک جایا جائے اور چھ یا آٹھ گھنٹے کے اس بحری سفر میں گاڑیاں پارک کر کے سونے کیلئے کمرے لئے جائیں اور اپنی نیند پوری کی جائے۔ اگلے دن جب بحری جہاز خشکی کے ساتھ لگے تو اپنی اپنی گاڑیوں پر 600 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے چیک ریپبلک کے شہر پراگ جایا جائے۔ وہاں دو دن ہوٹل میں ٹھہرنے کے بعد آٹھ سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے گاڑیوں پر اٹلی کے شہر وینس جایا جائے جسکی گلیوں میں پانی ہے اور عام ٹرانسپورٹ کی جگہ کشتیاں چلتی ہیں۔ یہاں دو دن ٹھہرا جائے اور پھر یہاں سے 300 کلومیٹر دور اٹلی کے دوسرے شہر میلان جایا جائے اور وہاں کچھ گھنٹے ٹھہرنے کے بعد 300 کلومیٹر دور سویٹزرلینڈ کے شہر زیورچ جایا جائے۔ زیورچ میں کم ازکم چار دن ٹھہرا جائے اور سارہ سویٹزرلینڈ گھوما جائے۔ یہاں سے 450 کلومیٹر دور جرمنی کے شہر فرینکفرٹ جایا جائے اور وہاں ایک دن ٹھہرنے کے بعد دوبارہ اپنی گاڑیوں پر 671 کلومیٹر دور جرمنی کی بندرگاہ روسٹاک جا کر بحری جہاز کے ذریعے سویڈن کے شہر مالمو واپس پہنچا جائے اور مالمو سے واپس سٹاک ہوم کا 650 کلومیٹر سفر دوبارہ کر کے گھر پہنچا جائے۔ اس سارے سفر میں کل 5000 کلومیٹر گاڑی چلنی تھی اور ڈرائیور چونکہ ایک ایک تھے اسلئے یہ منصوبہ بھی ترک کر دیا گیا۔

منصوبہ نمبر 4
اس منصوبے کے مطابق گھروں سے سٹاک ہوم سکاواستہ آئرپورٹ اپنی گاڑیوں پر جایا جائے اور گاڑیاں کار پارکنگ میں لمبے عرصے تک پارک کر دی جائیں اور ہوائی جہاز سے جرمنی کے شہر ڈوسلڈوف جایا جائے جو بلجئیم کی سرحد کے نزدیک واقع ہے۔ یہاں سے سات نشتوں والی دو گاڑیاں کرایہ پر لی جائیں اور 600 کلومیٹر دور سویٹزرلینڈ کے شہر زیورچ پہنچا جائے۔ وہاں پانچ دن قیام کیا جائے اور سویٹزرلینڈ سمیت 300 کلومیٹر دور اٹلی کے شہر میلان بھی جایا جائے۔ پانچویں دن زیورچ سے کرایہ کی گاڑیوں پر بیلجیئم کے شہر مونس جایا جائے جو فرانس کے شہر لیل سے 100 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے اور بیلجئیم کے شہر برسلز سے 60 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہاں سے ایک دن میں فرانس کے شہر لیل اور بیلجئیم کے شہر برسلز کی سیر کی جائے اور ایک دن ہالینڈ کے شہر ایمسٹرڈیم جایا جائےگا جو یہاں سے صرف 200 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس منصوبے میں چھ ملکوں کی سیر، ہوائی جہاز اور کرایہ کی گاڑیوں پر ہونا ہے اور اس میں ڈرائیونگ بھی زیادہ نہیں ہے۔ سات دن کے اس ٹور میں آٹھویں دن ہوائی جہاز کے ذریعے واپس سٹاک ہوم اور وہاں پر پارکنگ میں موجود اپنی گاڑیوں سے اپنے گھروں کو روانہ ہونا ہے۔ اس منصوبے پر مشکل سے سب کا اتفاق ہو جاتا ہے۔ اور ہر چیز کی ایڈوانس بکنگ کر لی جاتی ہے۔ اب فی الحال سب خوش ہیں اور جولائی میں آنے والے اس ٹور کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔

قارئین کو اس کے بارے میں مزید معلومات اب جولائی میں سویٹزرلینڈ کا سفر شروع ہونے کے بعد اگلی قسط میں ملیں گی۔

 ( طارق محمود، اڈیٹر اردونامہ)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

قصہ سویٹزرلینڈ جانے کا۔ Story how to visit Switzerland” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں