روایات کی بھینٹ چڑھتی حوا کی بیٹی۔ Traditions Victimised Eva’s Daughter

ہم ایک ایسی دنیا کے باسی ہیں جہاں آئے روز شرفِ انسانیت کا مذاق اُڑاتی کوئی نا کوئی خبر پرنٹ یا الیکٹرانک میڈیا کے لیے بریکنگ نیوز بن کر انسانیت کا منہ چِڑھا رہی ہوتی ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے کا حصہ ہیں جس میں انسان کم اور انسان نما درندے زیادہ پائے جاتے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں حوا کی بیٹی کہیں زندہ درگور کر دیا جاتا ہے تو کہیں اُسے قبائلی روایات کی صلیب پر قربانی کے لیے لٹکا دیا جاتا ہے۔ کاروکاری، ونی یا کانی نکاح جیسی فرسودہ اور ظالمانہ روایات کی بھینٹ بھی حوا کی اسی بیٹی کو ہی چڑھایا جاتا ہے۔ کہیں اُسے وراثت کے حق سے محروم کرنے کے لیے قرآن سے اُس کا نکاح پڑھا دیا جاتا ہے تو کہیں اپنے اندر کی وحشت اور درندگی کو غیرت کی چادر اوڑھا کے حوا کی اِس بیٹی کو بے دردی اور سفاکی سے مار دیا جاتا ہے۔

ہم کیسی بے حس قوم ہیں جو اپنے اندر موجود اِن سفاک درندوں کے خلاف نہ تو آواز اور نہ ہی کوئی اقدام اٹھاتے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ خاموش بیٹھ بیٹھ کر ہمارے اندر کی شرافت اور غیرتِ انسانی بھی مر چکی ہے۔ہاتھی ہو یا شیر، طاقت میں انسان سے کہیں زیادہ برتر ہیں۔ لیکن انسان کے ہاتھوں ہمیشہ سے ہی مسخر رہے ہیں، سوائے اُن واقعات کے جب انسان نے اُن کا مقابلہ عقل کی بجائے طاقت سے کرنے کی کوشش کی ہے۔ انسان کو شعور اور عقل کی اعلٰی سطح سے نوازا ہی اِس لیے گیا تھا کہ وہ نِرا جانور ہی نہ رہ جائے۔ اُس کا مقصدِ تخلیق اِس بات کا متقاضی تھا کہ اُس کی عقل و شعور کی سطح باقی جانوروں سے بلند تر ہو۔

اگر انسان میں سے عقل اور شعور کی بلند تر صفات کومنفی کر دیا جائے تو اُس کی حیثیت عام جانوروں سے بھی کمتر رہ جاتی ہے۔ ایسے بے شعور انسانوں کو قرآن نے بھی جانورں سے بدتر قرار دیا ہے کیونکہ جب یہ مخلوق عقل و شعور سے خود کو عاری کر لیتی ہے تو اِس کی درندگی سے درندے بھی پناہ مانگتے ہیں۔
قرآن میں اللٰہ نے ایسے جانوروں سے بھی بدتر انسانوں پر یہ چارج شیٹ لگائی کہ ہم نے تمہیں احسنِ تقویم پر پیدا کیا لیکن تم نے خود کو اسفلَ سافلین کے گروہ میں جا شامل کیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے اُس مقام اور مرتبے کا ادراک اور اُس کی قدر نہ کر سکا جو اسے عطا ہوا تھا۔

درندوں اور کئی دوسرے جانوروں میں ایک عجیب جبلت یا عادت پائی جاتی ہے۔ اُن میں ہر پیدا ہونے والے نر بچے کو اپنے قبیلے کے بالغ نروں سے جان کا خطرہ ہوتا ہے۔ پیدا ہونے والی مادہ کی جان محفوظ ہوتی ہے۔ شاید جانوروں میں بھی اتنا شعور ہوتا ہے کہ اُنہیں اصل چیلنج اپنی ہی جنس کے دوسرے جانوروں سے درپیش ہے۔

لیکن انسان بھی عجیب مخلوق ہے کہ اِس کے نَروں کو اپنی بقا کو خطرہ اپنے قبیلے کی عورتوں سے محسوس ہوتا ہے۔ اِس مخلوق کی ماداؤں (عورتوں) کو اپنی پیدائش کے وقت اپنے نَروں (مردوں) سے خطرہ لاحق ہوتا ہے کہ اُسے نحوست قرار دے کر یا تو مار دیا جائے گا یا زندہ دفنا دیا جائے گا۔ اگر پیدا ہو کر بچ گئی تو بڑے ہو کر بھی اُس کے سر پر غیرت کی تلوار ہر گھڑی لٹکتی رہتی ہے۔

عورت بھی انسان ہے اور مردوں کی طرح وہ بھی اپنی جان، عزت، حرمت اور وقار کا برابر حق رکھتی ہے۔ اپنی تخلیق میں کمال تو کسی مخلوق کو حاصل نہیں۔ مرد ہو یا عورت، اپنی تخلیق میں کسی نا کسی کمی کو لیے ہوئے ہیں۔ اِن دونوں کا باہم اشتراک ہی ایک دوسرے کی کمی کو پورا کرتا ہے۔

ہر تخلیق بامقصد ہے۔ مثال کے طور پر اگر مرد کو جسمانی قوت زیادہ دی گئی ہے تو قوتِ برداشت عورت کو زیادہ عطا کی گئی۔ اب دیکھیں کہ عورت کی یہی خوبی مرد کے کتنے عیبوں کو ڈھانپ دیتی ہے۔ بچوں کی پرورش ایک جاں گُسل عمل ہے۔ اگر عورت میں قوتِ برداشت نہ ہوتی تو کیا مرد کے بس کی بات تھی کہ وہ اولاد کی پرورش کر سکتا؟ اِسی لیے ماں کا مقام باپ سے تین گُنا زیادہ بلند رکھا گیا ہے۔ انسان کی تخلیق کرنے والے خالقِ کائنات نے اُس کی اِنہی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہر انسان (چاہے مرد ہو یا عورت) کو دوسری انسانی جانوں کی عزت اور تحفظ کی تلقین کی ہے۔

چونکہ یہاں اصل موضوع عورت کی جان کو حاصل تحفظ ہے تو اِس کی سب سے بڑی دلیل قرآن سے ہی دینا مفید سمجھوں گا۔ مثال کے طور پر اگر ایک خاوند اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے کسی غیر مرد کے ساتھ ملوث پاتا ہے اور اپنے علاوہ اُس واقعہ کا کوئی اور گواہ نہیں پاتا تو قرآن نے یہ قانون یا اصول وضع کیا ہے کہ خاوند عدالت کے سامنے چار دفعہ قسم کھائے گا کہ اُس نے اپنی بیوی کو کسی غیر مرد کے ساتھ ملوث پایا ہے۔ اُس کے چار دفعہ قسم کھانے پر عورت پر حد جاری ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر عورت بھی چار دفعہ قسم کھا لے کہ اُس کا خاوند جھوٹ بول رہا ہے تو وہ عورت اپنے خاوند کے اُس الزام سے آزاد ہو جاتی ہے۔ اُس صورت میں بھی مرد کو اپنی بیوی سے علیحدگی کا اختیار تو دیا گیا ہے لیکن غیرت کے نام پر عورت کو قتل کرنے کا اختیار ہرگز نہیں دیا گیا۔

غیرت کے نام پر اگر قتل کرنے کو جائز قرار دے دیا جائے تو شاید دو تہائی سے زیادہ مرد زمین کے اوپر ہونے کی بجائے زمین کے نیچے جا سوئیں۔ دراصل یہ غیرت نہیں بلکہ درندگی ہے جو مرد کو عورت کی جان لینے پر اُکساتی ہے۔ ایسی درندگی جس پر درندے بھی شرمندہ ہوتے ہوں گے۔

 ( تعارف : لیکچرار، قومی ادارہءِ نفسیات، قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، مکالمہ ڈاٹ کام )

اپنا تبصرہ بھیجیں