55

تعصب پسندی کا ناسور، قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

اس موضوع پر بھی لکھتے ہوئے قلب ودماغ مجتمع نہیں اور قلم بھی کچھ لرزش محسوس کررہا ہے ذہن ماؤف تو انگلیاں بھی ساتھ چھوڑنے کی کوشش کررہی ہیں لیکن جب قرآنی حکم حبیب خدا صلى الله عليه وسلم کا طریقہٴ عمل اور جہد پیہم اسلاف واکابر صالحین وخدا ترس حضرات کا شیوہ تصور بدیہی کی طرح دیکھتے ہیں تو قلب مضطر کو بےکلی سے اطمینان حاصل ہوتا ہے لیکن آپ سوال کرسکتے ہیں کہ طفل مکتب صاحب کیوں آپ گھبرارہے ہیں اور کیا آپ کو ضرورت محسوس ہوئی کہ اس عموم بلویٰ حاصل کرچکے تعصب پر آپ لکھ رہے ہیں تو بندئہ بے بضاعت یہی جواب دے گا کہ قلم کی لرزش، قلب ودماغ کی گھبراہٹ بے معنی نہیں۔ نا معلوم کتنے حضرات کی دستار اچھلتی نظر آئے گی تقویٰ و تورُع کا بھرم رازِ سربستہ ٹوٹتا پھوٹتا نظر آئے گا، نا جانے کتنی مقدس ہستیاں اس حمام میں عریاں نظر آئیں گی کتنے مقبول و محبوب ومعروف لیڈران کی فلک بوس سیاست زمین بوس ہوتی نظر آئیگی۔ کتنے صاحب تصنیف وتالیف حضرات کی شخصیت مجروح ہوتی نظر آئیگی۔ کتنے جمہوریت کے علمبردار و مساوات کے داعی جھوٹے نظر آئیں گے۔

غرض قلم قاتل تو اہل تقدس مقتول ہوجائیں گے اور یہ ہر ایک پر واضح رہے کہ ان کی نظر میں بیچارہ قلم اور صاحب مضمون ہدفِ ملامت بن جائیگا لیکن لاَ تَخَفْ فِی اللّٰہِ لَوْمَةَ لاَئِم پر عمل پیرا ہونے کی اللہ تعالیٰ ہر ایک کو توفیق عطا فرمائے (آمین) اور ضرورت اسلئے محسوس ہوئی کہ اسی تعصب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بیروزگار تو ہزاروں حضرات جن عہدوں کے لائق ہیں ان سے وہ محروم ہیں۔

برا ہو اس تعصب کا نا جانے کتنے لائق عہدوں پر نااہل براجمان ہیں اور لائق حضرات خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔ قرآن واحادیث میں اس تعصب کی بہت برائی بیان کی گئی ہے۔ تعصب کے لغوی واصطلاحی معنی یہ ہیں۔ تَعَصَّبَ․ پٹی باندھنا تعصب سے کام لینا۔ تَعَصَّبَ علیہ مقابلہ کرنا اور عصبیت دکھلانا اَلْعَصَبِیَّةُ دھڑے بندی اَلْعَصَبِی تعصب کی وجہ سے ظلم میں قوم کی مدد کرنے والا۔

التَّعَصُّبُ دلیل ظاہر ہونے کے بعد بھی حق قبول نہ کرنا المنجد/۶۵۶ حق بات کی دلیل ظاہر ہوتے وقت حق قبول نہ کرنا قواعد الفقہ /۲۳۱ وکذا فی رد المحتار ۱/۶۴۲، مشکوٰة/۴۱۸۔

اس منحوس تعصب کی وجہ سے خشکی وتری میں ہفت اقلیم میں عرب وعجم میں ایک فسادِ عظیم برپا ہے کتنے انصاف کے طالب نام نہاد عدالتوں کے چکر کاٹتے کاٹتے لقمہٴ اجل ہوگئے لیکن ان کو انصاف نہ مل سکا، آزادی کی انتظار میں انسانیت سسک رہی ہے ان کو آزادی نصیب نہیں ہوئی اس تعصب کی چنگل میں انسانیت ایسی پھنسی ہوئی ہے کہ سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے لیکن انسانوں کو انسانیت نصیب نہیں ہوئی، اسلام ایک ایسا منفرد ویکتا مذہب حق ہے جس نے تعصب کی مضبوط دیواروں کو ہلادیا اور منظم نظامِ حیات انسانیت کو بخشا اور انسانیت کی بقاء اسلام ہی کی مرہون ہے جس نے انسانیت کو حیوانیت و درندگی، ظلم واستبداد تعصب و عصبیت سے باہر نکال کر جینے کا حق دیا اور صالح معاشرہ فراہم کیا اور حق وباطل ہدایت وگمراہی کے درمیان ایک خلیج قائم کی رب ذوالجلال نے بڑے عمدہ پیرائے میں ایک جامع سبق انسان کو دیا ہے ۔ فرمایا:

یٰاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَّاُنْثٰی وَجَعَلْنٰکُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ (القرآن)

اے لوگو ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت (آدم وحوا) سے بنایا اور تم کو مختلف قومیں اور مختلف خاندان بنایا (محض اس لئے کیا) تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے بڑا شریف وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہو بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا اور پوری خبر رکھنے والا ہے۔

اس آیت کریمہ میں جن چیزوں کا ذکر ہے ان سے تمام طرح کی عصبیت کی بیخ کنی ہوجاتی ہے۔ تعصب کی کئی شاخیں ہیں، حسبی ونسبی تعصب، قبیلہ پرستی و ذات برادری کی عصبیت، لسانی ووطنی عصبیت ملکی وقومی عصبیت علاقائی وقومی عصبیت۔ مالداری وکثرتِ اولاد کی وجہ سے تفاخر وتعاظم اور غیروں کو حقیر وذلیل سمجھنے کا جذبہ ان ہی تمام عوارضِ قبیحہ کی وجہ سے موٴجزن ہوتا ہے ان تمام تر خرابیوں اور بیماریوں میں سب سے قبیح حسبی و نسبی تعصب ہے اس کے بعد قبیلہ پرستی وذات برادری کا تعصب ہے، حسب ونسب کا تعصب تو اتنا شدید تھا کہ جو لوگ اپنے کو بزعم خود اونچا سمجھتے تھے اور جو برادریاں اپنے کو بہت اونچا وبے نظیر سمجھتی تھیں ان کی نظر میں ان کا غیر انسانیت کے مراتب حاصل کرنے کا حقدار نہیں ہوتا تھا لیکن یہ برادریاں ہندوستان میں برہمنوں و آریوں و آچاریوں کی ہوتی تھیں جن کی عبادت گاہوں میں دوسرے کو داخلہ کی اجازت نہ تھی جبکہ علی الصباح نیچ برادری کے کسی فرد کا گذر اس کے سامنے سے ہوجاتا تھا تو اس کو بدشگونی خیال کرتے تھے اوراس بیچارہ کو غلیظ گالیوں سے نوازا جاتا تھا وہ بیچارہ خاموشی سے گذر جاتا تھا، افسوس یہ بیماریاں مسلمانوں میں بھی داخل ہوئیں کیوں کہ یہ مسلمان بھی تو آباواجداد کے اعتبار سے ہندی ہیں آبائی و اجدادی اثر ختم نہ ہوسکا اور ان مسلمانوں کا ذہنی فاسد مادہ بھی یہی رہا کہ وہ خاندان و برادری کے لوگ جو اونچے حسب ونسب واونچی برادری کے سمجھے جاتے تھے دوسری برادری کے لوگوں کو ان کے پائینتی بیٹھنے کا بھی حق نہ ہوتا تھا یہ ذہنی تباہ کن بیماری یہیں نہیں رُکی بلکہ ان برادریوں سے جو علماء پیدا ہوئے ان کے اندر بھی یہ بیماری بوجوہِ تمام موجود تھی بلکہ تعصب و عصبیت کے یہ حضرات سرغنہ بنے ہوئے ہیں۔

افسوس تو یہ ہے کہ اس تعصب نے امامت جیسے اہم منصب کو بھی نہیں بخشا چنانچہ آج بھی کتنے شہروں میں محض زبانی وطنی وعلاقائی عصبیت کی بناء پر امام کا انتخاب ہوتا ہے خواہ وہ لیاقت و صلاحیت کے اعتبار سے کچھ بھی ہو اور دوسرا عالم خواہ جید استعداد رکھتا ہو خطابت وموعظت میں مہارت رکھتا ہو تقویٰ و پرہیزگاری میں ممتاز ہو اس کو نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اسی طرح کی ایک مثال ملا علی قاری نے بیان کی ہے کہ مثلاً کوئی عالم غریب وتنگ دست ہو اور یونہی کوئی شیخ طریقت لوگوں کی نظروں میں حقیر ہوتو کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا (ان کا کلام سننے کیلئے تیار نہیں ہوتا) ان کے برخلاف کوئی عالم یا کوئی شیخ مشہور ہو اور جاہ ومنزلت کے اعتبار سے لوگوں میں اس کا تعارف ہوتو اس کی بات قبول کی جاتی ہے اس کے فعل کی اتباع کی جاتی ہے اگرچہ یہ دوسرا اول الذکر سے علم میں کمتر عمل وتقویٰ کے اعتبار سے کمزور ہو اور اللہ تعالیٰ ہی اپنے دین کا محافظ اور نبی کا مددگار ہے۔ مرقاة المفاتیح ۹/۴۲۳ باب فضل الفقر اء وما کان من عیش النبی صلى الله عليه وسلم ملاعلی قاری نے یہ شکوہ آج سے تقریباً چار سو پچیس (۴۲۵) سال قبل کیا ہے اورآج یہ مناظر ہماری بدقسمتی سے خوب پھل پھول رہے ہیں ۔ والی اللّٰہ المشتکی․

مذکورہ بالا آیت کریمہ میں ان تمام تعصبات خاندانی تفوق حسبی ونسبی تعلی ذات برادری کی اونچ نیچ قومی وعلاقائی عصبیت کو عُبِیَّتِ جاہلیت قرار دیا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ آیت کریمہ کا شانِ نزول دیکھیں تو اس کی بنیاد بھی یہی ہے۔ شانِ نزول کے بارے میں تین قول ہیں:

(۱) امام زہری فرماتے ہیں حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے بنو بیاضہ قبیلہ والوں سے کہا کہ تم اپنے قبیلہ کی کسی لڑکی سے ابوہند صحابی کا نکاح کردو انھوں نے جواب دیا کہ ہم اپنی لڑکیوں کا نکاح اپنے غلاموں سے کردیں یعنی غلاموں سے نکاح کرنے کو انھوں نے اپنے لئے عار سمجھا اس واقعہ کی وجہ سے یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ زہری فرماتے ہیں خاص طور سے یہ آیت ابوہند کے بارے میں نازل ہوئی۔ (ابوہند پیشہ کے اعتبار سے حجام تھے) مراسیل ابوداؤد/۱۲، الجامع الاحکام للقرطبی ۸/۶۰۴، الصاوی ۴/۱۴۶

(۲) ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت ثابت بن قیس بن شماس کے بار ے میں نازل ہوئی۔ یہ قول ابن عباس کا ہے ابن عباس فرماتے ہیں کہ ثابت بن قیس کچھ اونچا سنتے تھے صحابہ کرام حضور صلى الله عليه وسلم کی مجلس میں سبقت کرنے کے باوجود ان کیلئے جگہ دیدیا کرتے تھے تو یہ ثابت حضور صلى الله عليه وسلم کے پہلو کے قریب بیٹھ جاتے تھے تاکہ فرامین نبوی کو سن سکیں ایک دن یہ آئے تو ایک رکعت فجر کی ان سے فوت ہوگئی نماز سے فارغ ہوکر تمام صحابہ نے حضور صلى الله عليه وسلم کے قریب اپنی اپنی نشست پکڑلی اور صحابہ کرام حضور صلى الله عليه وسلم کی مجلس میں اس طرح بیٹھا کرتے تھے کہ درمیان میں کسی کے بیٹھنے کی گنجائش نہ رہتی تھی ثابت بن قیس نماز سے فارغ ہوکر حضور صلى الله عليه وسلم کی طرف آئے لوگوں کی گردن پھلانگتے ہوئے اور جگہ دو جگہ دو کہتے ہوئے، صحابہ نے ان کے لئے گنجائش دی اور یہ حضور صلى الله عليه وسلم کے قریب پہنچ گئے مگر ان کے اور حضور صلى الله عليه وسلم کے درمیان ایک اور صحابی تھے ان آگے کے صحابی سے ثابت نے کہا کہ جگہ دو آگے والے صحابی نے جواب دیا میں اپنی جگہ بیٹھا ہوں تم اپنی جگہ بیٹھو ثابت بن قیس غصہ کی حالت میں ان کے پیچھے بیٹھے اور کسی سے پوچھا یہ کون ہے جواب ملا کہ فلاں ہے ثابت نے ان آگے والے صحابی کو یا بن فلانة کہا جس سے زمانہٴ جاہلیت کی کوئی عار دِلانی مقصود تھی وہ آگے والے صحابی بہت شرمندہ ہوئے۔

حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یا بن فلانہ کہنے والا کون ہے ثابت نے عرض کیا میں یا رسول اللہ حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ان سب کے چہروں کو دیکھو ثابت نے موجود تمام صحابہ کے چہروں کو دیکھا حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ثابت کیا دیکھا عرض کیا کوئی سفید ہے کوئی سرخ ہے کوئی سیاہ ہے حضور صلى الله عليه وسلم نے فرمایا دیکھو تم ان سے نہیں بڑھ سکتے مگر تقویٰ کی وجہ سے یعنی تمہارا تقویٰ اور پرہیزگاری ان سے بڑھ کر ہے تو تمہارا مقام عند اللہ اونچا ہوگا یہ دنیوی اونچ نیچ کی وقعت عند اللہ نہیں ہے۔ (الجامع الاحکام للقرطبی ۸/۵۹۲/۶۰۵، الصاوی ۴/۱۴۶)

(۳) ایک قول یہ ہے کہ فتح مکہ کے دن حضور صلى الله عليه وسلم نے حضرت بلال کو اذان پڑھنے کا حکم دیا حضرت بلال نے کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دی تو کفار مکہ میں سے عتاب بن اسید بن ابی العاص نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے میرے والد کو یہ برادن دیکھنے سے قبل ہی اٹھالیا۔ حارث بن ہشام نے کہا اس کالے کوے کے سوا محمد کو کوئی موٴذن ہی نہ ملا سہیل بن عمرو نے کہا اگر اللہ تعالیٰ چاہیں تو اس کو بدل دیں۔ ابوسفیان جوابھی اسلام قبول نہیں کئے تھے انھوں نے کہا میں کچھ نہیں کہتا مجھے خوف ہے کہ اس کی خبر آسمان کا رب محمد صلى الله عليه وسلم کو دیدے۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور کفار مکہ کی یہ شرارت انگیز خبر حضور صلى الله عليه وسلم کو دی آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کو بلایا اور ان سے پوچھا کیا یہ باتیں تم سب نے کہی ہیں ان سب نے اقرار کیا۔ (تفسیر قرطبی ۸/۶۰۵، الصاوی ۴/۱۴۶)

آیت کریمہ کے شانِ نزول میں تینوں اقوال میں کسی ایک کو متعین کرنا تو مشکل ہے البتہ اکابر نے حضرت بلال کے واقعہ کو ترجیح دی ہے شان نزول خواہ کوئی بھی ہو تینوں صورتوں میں مشترکہ طور سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اہل مکہ میں تعصب کی بنیادیں کتنی مضبوط تھیں محض رنگی وطنی علاقائی امتیاز کو بنیاد بناکر کتنا سخت برا بھلا کہا گیا چنانچہ ابوعبداللہ محمد بن احمد انصاری قرطبی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کو حسب ونسب کے تفاخر مال ودولت کی کثرت، فقراء وتنگ دست کی حقارت کے جذبہ کی بناء پر زجر و توبیخ کی کہ عظمت و فضیلت تفوق وتعلی بلندی و سرفرازی کا مدار تقویٰ پر ہے چنانچہ آیت کریمہ کے اندر اعلان کردیا آج کے بعد کوئی یہ بات نہ کہے سب کی تخلیق آدم وحواء سے ہوئی اور تمہارے درمیان قومیت وقبیلہ محض ایک دوسرے کی پہچان کیلئے ہیں جیسے بہت سے لوگوں کا نام زاہد ہے تو کیسے معلوم ہو سائل کو کونسا زاہد مطلوب ہے اس کی معرفت خاندان و برادری وقبیلہ سے ہوگی کہ فلاں برادری وقبیلہ کا فلاں کا بیٹا مطلوب ہے۔

تعصب و تفاخر بدبختی ہے

حضرت امام ابوعیسیٰ ترمذی نے ابن عمر کی حدیث روایت کی ہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا فرمایا اے لوگو آدمی دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ آدمی جو عند اللہ کریم و شریف ہے اور دوسرا آدمی وہ جو فاجر وبدبخت ہو عند اللہ ذلیل وبے وزن اور تمام انسان آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا اس کے بعد حضور صلى الله عليه وسلم نے وہ یہی آیت شریفہ یایہا الناس الخ پوری تلاوت فرمائی (ترمذی ۲/۱۶۲، مسند امام احمد بن حنبل ۲/۵۲۴) اور ایک روایت میں واضح طور سے ان تمام تعصبات کی سخت انداز میں بیخ کنی کرتے ہوئے سیدنا محمد عربی صلى الله عليه وسلم نے افضلیت کا مدار بزرگی و برتری کا مناط محض تقویٰ وپرہیزگاری کو قرار دیا۔

عَنْ اَبِی نَضْرَةَ قَالَ حَدَّثَنِی اَو حَدَّثَنَا مَنْ شَہِدَ خُطَبَ رَسُولِ اللّٰہِ بمِنٰی فِی وَسَطِ اَیَّامِ التَّشْرِیْقِ وَہُوَ عَلٰی بَعِیْرٍ فَقَالَ یٰایُّہَا النَّاسُ أَلاَ اِنَّ رَبَّکُمْ وَاحِدٌ وأنَّ اَبَاکُمْ وَاحِدٌ أَلاَ لاَ فَضْلَ لِعَرَبِیّ عَلٰی عَجَمِیّ وَلاَ عَجَمِیِّ عَلٰی عَرَبِیّ وَلاَ لِأسْوَدَ علٰی اَحْمَرَ وَلاَ لِاَحْمَرَ عَلٰی اَسْوَدَ اِلاَّ بِالتَّقْوٰی أَلاَ ہَلْ بَلَّغْتُ قَالُوْا نَعَمْ قَالَ لِیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِب․

ابونضرة کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا جو مقام منی میں ایامِ تشریف کے درمیان میں حضور صلى الله عليه وسلم کے خطبوں میں حاضر تھا درانحالیکہ آپ اونٹ پر سوار تھے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اے لوگو خبردار تمہارا رب ایک ہے اور تمہارا باپ (آدم) ایک ہے خبردار کسی عربی آدمی کو کسی عجمی پر کوئی فضیلت نہیں اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر نہ کسی کالے وسیاہ آدمی کو کسی سرخ پر اور نہ کسی سرخ کو کسی سیاہ آدمی پر کوئی فضیلت ہے ہاں تقویٰ فضیلت کا مدار ہے پھر آپ نے صحابہ سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا میں نے پیغام الٰہی امت تک پہنچادیا؟ صحابہ نے جواب دیا جی ہاں آپ نے پہنچادیا آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو یہاں موجود ہے وہ اس تک پہنچا دے جو موجود نہیں ہے۔ (روح المعانی ۸/۱۶۴ من روایت البیہقی والمردویہ، تفسیر قرطبی ۸/۶۰۵)

غور کیجئے ہادیٴ امت صلى الله عليه وسلم نے اس مختصر پیغام کو تین مرتبہ کلمہ ألا سے مربوط کیا جو تاکید و تنبیہ کیلئے آتا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے سختی کے ساتھ بھیدبھاؤ اونچ نیچ ہر طرح کی عصبیت کو ختم کردیا۔ چنانچہ اسی طرح کی ایک روایت حضرت ابوذر کی ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اے ابوذر تم کسی سرخ و سیاہ سے بہتر نہیں ہو ہاں تقویٰ و پرہیزگاری کی وجہ سے تم ان سے بڑھ جاؤگے، رواہ احمد مشکوٰة/۴۴۳۔

ظاہری حسن وجمال بھی فضیلت وبرتری کا مدار نہیں ہے

تفسیر قرطبی میں بحوالہ طبری حضرت مالک اشعری سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہارے حسب ونسب کو نہیں دیکھتے اور نہ تمہارے جسموں ومالوں کو دیکھتے ہیں لیکن تمہارے دلوں (کے حال) کو دیکھتے ہیں پس جس کا دل صالح ونیک ہو اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوتے ہیں اور بلاشبہ تم سب آدم کی اولاد ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تم میں وہ ہے جو بڑا متقی ہے۔ (قرطبی ۸/۶۰۵ کذا فی مسلم بلفظ غیرہ ۲/۳۱۷)

دورِ جدید نے جہاں انسان کو بہت سی ترقیات سے لطف اندوز کیا وہیں سفلی عادتوں اور جبلی فطرتوں کو خوب برانگیختہ کیا چنانچہ مذہب اسلام نے معاشرہ کو محبت وموٴدت الفت و انسیت کے ذریعہ متحد کیا اور آج انسان بکھرا ہوا منتشر ایک دوسرے سے نالاں شکوہ کناں دیکھا جارہا ہے اور بڑی بڑی خرابی تعصب و عصبیت قومیت و برادری کے بھنور میں ایسا پھنسا ہوا ہے کہ اسے آقاء نامدار محمدعربی صلى الله عليه وسلم نے ملت محمدیہ سے خارج کردیا مگر مسلمان سمجھنے کیلئے تیار نہیں۔

تعصب کرنے والا امت محمدیہ سے خارج ہے

جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو عصبیت کا داعی ہو اور عصبیت کی خاطر قتال وجنگ وجدل کررہا ہو اور جو تعصب کی خاطر قتال کرتا ہوا مرجائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

عن جبیر بن مطعم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ لَیْسَ مِنَّا مَنْ دَعَا اِلی عَصَبِیَّةٍ وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ قَاتَلَ عَصَبِیَّةً وَلَیْسَ مِنَّا مَنْ مَّاتَ عَلٰی عَصَبِیَّةٍ․ رواہ ابوداوٴد، مشکوة/۴۱۸۔

رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی دعوت دی اور ہم میں سے نہیں جس نے عصبیت کی خاطر قتال کیا اور ہم میں سے نہیں وہ جو عصبیت کی حالت میں مرگیا۔

یعنی جس وقت اس کا آخری وقت تھا اس وقت بھی وہ قوم وبرادری کی ظالم ہونے کے باوجود مدد کرہا تھا اور ظلم وتعدی کو ظلم نہیں سمجھ رہا تھا قومیت و برادری پر فخر کررہا تھا اسی حالت میں مرگیا تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اس کیلئے یہ وعید بیان فرمائی ہے۔

متعصب کی نماز جنازہ نہیں پڑھی جائے گی

اگر یوں کہا جاوے کہ تعصب ناسور سے بھی بدتر ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا کیونکہ ناسور جیسے امراض تو دنیوی زندگی کو تباہ وبرباد کرتے ہیں بلکہ ان امراض میں مبتلا انسانوں کو ایمان والوں کو اخروی ثواب سے نوازا جائے گا اور تعصب وعصبیت سے دنیا بھی برباد اور آخرت بھی، دنیا میں بھی رسوائی اور آخرت میں بھی۔ ایک تو اس وجہ سے کہ لوگ ان کو ذلیل وحقیر سمجھتے ہیں دوسرے حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے ان کو ملت بیضاء سے خارج کردیا تیسرے دنیوی رسوائی اس طرح سے کہ مذکورہ حدیث و دیگر احادیث کے پیش نظر فقہاء نے چار طرح کے لوگوں کی نماز جنازہ پڑھنے کو ناجائز لکھا ہے حالانکہ یہ تمام مسلمان ہیں:
(۱) امام عادل کے خلاف اسلامی حکومت میں بغاوت کرنے والے،
(۲) ڈاکو ،
(۳) تعصب کی وجہ سے آپس میں لڑنے والے دوگروپ اور اسی حالت میں قتل ہوجائیں،
(۴) شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعہ کسی بے گناہ کے قتل کے درپے ہونے والا یا مال غصب کرنے والا اور اسی حالت میں قتل ہوجائے۔ ان بدقسمت لوگوں کو نہ غسل دیا جائے گا اور نہ نماز پڑھی جائے گی تاہم یہ حکم اسی وقت ہوگا جب کہ یہ حضرات بغاوت کرتے ہوئے، ڈاکہ ڈالتے ہوئے، تعصب کی خاطر قتال کرتے ہوئے، شہر میں ہتھیار وغیرہ کے ذریعہ کسی بے گناہ کے قتل یا مال لینے کے فراق میں قتل ہوجائیں ورنہ اگر مذکورہ افعال کے صدور سے قبل یا بعد میں موت واقع ہوتو ان کو غسل بھی دیا جائیگا اور نماز بھی پڑھی جائے گی۔ (درمختار علی رد المحتار (شامی) ۱/۶۴۲-۶۴۳)

لیکن یہ حکم چونکہ شہداء کا ہے کہ ان کو غسل نہ دیا جائے تو ان لوگوں کی مشابہت بالشہداء سے احتراز کی وجہ سے ان کو غسل دیا جائے گا اور نماز نہیں پڑھی جائے گی اور اسی پر فتویٰ ہے۔ تاتارخانیہ ۱/۶۰۷، رد المحتار ۱/۶۴۳ ، اور ان کی نماز نہ پڑھنا اس لئے تاکہ لوگوں پر ان کی ذِلت واضح ہوجائے اور سبق حاصل کریں کہ یہ افعال قبیح اور قابل احتراز ہیں۔ شامی ۱/۶۴۲۔

تعصب کی وجہ سے آدمی کی ذلت وہلاکت

ایک حدیث میں اپنی قوم کی ناحق مدد کرنے والے کو اس اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی ہے جو کنویں میں گرجائے اور اس کو دم پکڑ کر کنویں سے نکالا جائے۔ ملا علی قاری نے اس حدیث کے دو معنی بیان کئے ہیں کہ اس ظالم نے اپنی قوم کی ناحق مدد کرکے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالدیا کیونکہ اس کا ارادہ نصرتِ باطلہ سے عزت وسرفرازی رفعت وبلندی تھا پس یہ گناہوں کے کنویں میں گرگیا اور اونٹ کی طرح ہلاک ہوگیا پس یہ ناحق مدد اس کے لئے ایسے ہی غیر نافع ہے جس طرح اونٹ کو کنویں سے دم پکڑ کر نکالنا۔ (۲) دوسرا مطلب یہ ہے کہ سیدنا محمد عربی صلى الله عليه وسلم نے قوم کو ہلاک ہونے والے سے اونٹ کے ساتھ تشبیہ دی کیونکہ جو حق پر نہیں ہوتا وہ تباہ وبرباد ہی ہوجاتا ہے اور اس ناحق مدد کرنے والے کو اونٹ کی پونچھ (دم) کے ساتھ تشبیہ دی کہ جس طرح اس اونٹ کو دم کے بل کھینچ کرنکالنا ہلاکت سے نہیں بچاسکتا اسی طرح اپنی ظالم قوم کی ناحق نصرت کے ذریعہ اس قوم کو ہلاکت کے اس کنویں سے نہیں بچاسکتا جس میں یہ لوگ گرگئے ہیں۔ مرقاة المفاتیح ۹/۱۲۸۔

حدیث شریف ملاحظہ فرمائیں:

عن ابن مسعود عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ نَصَرَ قَوْمَہ عَلٰی غَیْرِ الْحَقِّ کَالْبَعِیْرِ الَّذِیْ رَوٰی فَہُوَ یُنْزَعُ بِذَنْبِہ․ ابوداوٴد ۲/۶۹۸، مشکوة/۴۱۸۔

ابن مسعود نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کا فرمان نقل فرماتے ہیں آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے۔

تعصب جسمانی وروحانی بیماریوں کا مخزن ہے

قارئین غور کریں کہ اس وبائی مرض کا منتہی صرف یہی نہیں ہے بلکہ اس کے علاوہ اس کی وجہ سے دوسرے امراض بھی پیدا ہوجاتے ہیں:
(۱) حقوق العباد سے آدمی چشم پوشی کرتا ہے بلکہ عمداً ادا نہیں کرتا،
(۲) حسد وبغض تجسس و تنافس کا جذبہ پیدا ہوتا ہے،
(۳) ظلم وتعدی کا دروازہ کھلتا ہے،
(۴) الزام و بہتان تراشی و افتراء پردازی کا بازار گرم ہوجاتا ہے،
(۵) ایک دوسرے کو ذلیل و حقیر اور نہایت گھٹیا بناکر پیش کرنے کی کوششیں تیز تر ہوجاتی ہیں،
(۶) چھوٹے بڑے کا فرق ختم ہوکر ادب وتعظیم سلام کرجاتے ہیں،اور ظاہر ہے کہ یہ تمام روحانی امراض متعدی ہوکر جسم تک ان کا نقصان پہنچتا ہے اس طرح کہ قتل وغارت گری ظلم و بربریت اپنے عروج تک پہنچتا ہے بسا اوقات نامعلوم کتنی جانیں تلف ہوکر حدیث کے بموجب دنیا و عقبیٰ کا خسران اپنے سر پر لاد کر لے جاتی ہیں۔ اس کی صدہا مثالیں تاریخ میں موجود ہیں کہ کس طرح تعصب و قبیلہ پرستی میں مبتلا اقوام پیوند خاک ہوگئیں اور آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں۔ مذکورہ بالا امراض کو قدرے تفصیل سے پیش کرکے مضمون ختم کردیا جائے گا (انشاء اللہ)

حقوق العباد ادا کرنے کی قرآن وحدیث میں بہت زیادہ تاکید بیان کی گئی ہے حتی کہ علماء کرام نے مستقل تصانیف صرف حقوق العباد کے بارے میں لکھی ہیں اس اہتمام سے معلوم ہوتا ہے کہ حقوق العباد ادا نہ کرنا ایسا جرم ہے جس کی بخشش خدا تعالیٰ کی عدالت میں نہیں ہوتی وہاں یا تو حق کو حق والے کو دیدیا جائے گا یا خود حق تعالیٰ معاف فرماکر صاحب حق کو ادا کریں گے مگرحق کی ادائیگی بہرحال ضروری ہوگی اس لئے اے ایمان والو حق کی ادائیگی دنیا میں ہی کرلو تاکہ آخرت میں موٴاخذہ و محاسبہ سے بچ جائیں جہاں چھوٹی سی نیکی بہت بڑی غنیمت ہوگی۔

واعبدواللہ ولا تشرکو بہ شیئا وبالوالدین احسانا وبذی القربیٰ والیتٰمٰی والمساکین وابن السبیل وما ملکت ایمانکم ان اللّٰہ لا یحب من کان مختالا فخورًا․ النساء

اور بندگی کرو اللہ تعالیٰ کی اور شریک نہ کرو اس کا کسی کو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو اور قرابت والوں کے ساتھ اور یتیموں فقیروں اور ہمسایہ قریب اور ہمسایہ اجنبی اور پاس بیٹھنے والے اور مسافر کے ساتھ اور اپنے ہاتھ کے مال یعنی غلام باندیوں کے ساتھ بیشک اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آتا وہ جو اترانے والا اور بڑائی کرنے والا گھمنڈی ہے۔

آیت کریمہ سے خوب واضح ہے کہ حقوق ادا کرنا فرض ہے آیت کریمہ کے علاوہ اور بھی آیات ہیں جن میں حقوق ادا کرنے کی بہت تاکید کی گئی ہے آیت کریمہ کی تفسیر تفصیل کی جائے یہ اس کا مقام نہیں۔ بہرحال توحید باری کے بعد حقوقِ والدین کا تذکرہ ہے اور ان کے بعد رشتہ داروں یتیموں فقیروں، مسکینوں اور پڑوسی قریبی مسلم رشتہ دار پڑوسی غیررشتہ دار غیرمسلم قریبی، پڑوسی مسلم دور کا ہو اور ہمنشیں ہم مجلس مسافر غلام باندیوں ماتحتوں کے حقوق کی ادائیگی کا حکم اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم ہے۔

ایک روایت میں ہے کہ پڑوسی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک پڑوسی ایسا ہوتا ہے جس کے تین حقوق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا ہوتا ہے جس کے دو حقوق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا ہوتا ہے جس کا صرف ایک حق ہوتا ہے وہ پڑوسی جس کے تین حق ہوتے ہیں وہ پڑوسی ہے جو مسلم رشتہ دار ہو اس کیلئے پڑوس کا حق قرابت و رشتہ داری کا حق واسلام کا حق ہوتا ہے اور جس کے دو حق ہوتے ہیں وہ ہے جو پڑوسی اور مسلم ہو اس کیلئے اسلام اور پڑوس کے دو حق ہوتے ہیں اور جس کا ایک حق ہوتا ہے وہ پڑوسی ہے جو کافر ہو اس کو محض پڑوس کا حق ہوتا ہے یعنی پڑوس کی وجہ سے حسن سلوک کا مستحق ہوتا ہے۔

ورُوی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اَنہ قَالَ اَلجِیرَانُ ثَلاثَةٌ فَجَارٌ لَہ ثَلاَثَةُ حُقُوْقٍ وَجَارٌ لَہ حقَّانِ وَجَارٌ لَّہ حَقٌّ وَاحِدٌ فَاَمَّا الْجَارُ الَّذِیْ لَہ ثَلاَثَةُ حُقُوقٍ فَالْجَارُّ الْمُسْلِمُ الْقَرِیْبُ لَہ حَقُّ الْجَوَارِ وَحَقُّ الْقَرَابَةِ وَحَقُّ الاِسْلاَمِ وَالْجَارُّ الَّذِیْ لَہ حَقَّانِ فَہُوَ الْجَارُّ المُسْلِمُ فَلَہ حَقُّ الْاِسْلاَمِ وَحَقُّ الْجَوَارِ وَالْجَارُّ الَّذِیْ لَہ حَقُّ وَّاحِدٌ ہُوَ الْکَافِرُ لَہ حَقُّ الْجَوَارِ․ الجامع لِاحکام القرآن للقرطبی ۳/۱۶۶، الجامع الکبیر ۶/۵۲ کشف الخفاء ۱/۳۲۸ ۔

حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا پڑوسی تین قسم کے ہوتے ہیں ایک پڑوسی ایسا جس کے تین حقوق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا جس کے دو حق ہوتے ہیں اور ایک پڑوسی ایسا جس کا ایک حق ہوتا ہے بہرحال وہ پڑوسی جس کے تین حقوق ہوتے ہیں تو وہ پڑوسی ہے جو مسلمان قریبی ہو اس کے تین حقوق پڑوس قرابت واسلام کی وجہ سے ہوتے ہیں اور وہ پڑوسی جس کے دو حق ہوتے ہیں تو وہ پڑوسی مسلم ہے اس کے دو حق پڑوس واسلام کی وجہ سے ہوتے ہیں اور ایک حق والا پڑوسی کافر ہے اس کا ایک حق پڑوس کی وجہ سے ہوتا ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ پڑوسی کون ہوتے ہیں۔ مذکورہ آیت کریمہ وحدیث شریف سے واضح ہوگیا کہ قریبی وبعیدی پڑوسی ہوتے ہیں اس کے علاوہ ہر چہار طرف کے چالیس گھر بھی پڑوسی ہوتے ہیں بلکہ پڑوسی کے اندر عمومیت ہے کہ پورا شہر بھی پڑوسی و پڑوس کہلاتا ہے یہ الگ بات ہے کہ بعض پڑوسی بعض پڑوسیوں سے درجہ میں اونچے وقریب ہوتے ہیں چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص حضور صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ میں نے ایک قوم کے محلہ میں بود وباش اختیار کی میرا جو سب سے قریب پڑوسی ہے وہ مجھے تکلیف دینے میں سب سے زیادہ سخت ہے حضور صلى الله عليه وسلم نے حضرت ابوبکر وعمر وعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو بھیجا کہ جاؤ مسجدوں کے دروازوں پر کھڑے ہوکر اعلان کرو کہ چالیس گھر پڑوسی ہوتے ہیں اور جس کا پڑوسی اس کے شرور وفتن ومظالم سے مامون نہ ہو وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔ قرطبی ۳/۱۶۶۔

(۲) تعصب و عصبیت سے پیدا ہونے والے قبیح امراض میں سے حسد و بعض وغیرہ بھی ہے جس کی قرآن وحدیث میں سخت ممانعت آئی ہے۔

وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ․ اور (پناہ میں آیا میں) بدی سے برا چاہنے والے کی جب وہ لگے ٹوک لگانے (معارف القرآن)

وَلاَ تَجَسَّسُوا (القرآن) اور دوسروں کے عیبوں کو تلاش مت کرو۔

آدمی تجسس تبھی کرتا ہے جب وہ کسی سے حسد کرنے لگے حسد دوسرے کو برباد کرے یا نہ کرے مگر حسد کرنے والا تباہ و برباد ضرور ہوجاتا ہے دنیا میں بھی اورآخرت میں بھی، حسد کہتے ہیں کسی پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھ کر کڑھنا جلنا اور یہ تمنا کرنا یہ نعمت اس سے دور ہوجائے۔

حسد گناہوں میں سب سے پہلا گناہ ہے

حسد ہی سب سے پہلا گناہ ہے جس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کی گئی آسمان میں سب سے پہلے ابلیس ملعون نے معصیت کی اور دنیا میں سب سے پہلے معصیت حسد کی وجہ سے قابیل نے کی ہابیل سے حسد کرکے حاسد مبغوض ملعون دھتکارا ہوا ہوتا ہے چنانچہ بعض حکماء کا قول ہے حاسد پانچ وجوہات سے خدا تعالیٰ سے مبارزت ومقابلہ کرتا ہے:

 (۱) حاسد اس نعمت کو ناپسند کرتا ہے جواس کے غیر کو حاصل ہوئی
(۲) دوسرے قسمت خداوندی سے ناراض ہوتا ہے گویا کہتا ہے کہ یہ نعمت مجھے حاصل کیوں نہ ہوئی
(۳) فعل خداوندی سے بغض وعناد رکھتا ہے
(۴) اولیاء اللہ کی رسوائی کا ارادہ کرتا ہے
(۵) یہ دشمن خدا ابلیس کی مدد کرتا ہے کیونکہ سب سے پہلے حسد اسی نے کیا تھا۔

بعض حکماء نے یوں کہا- کہ حاسد مجلسوں میں صرف شرمندگی ہی اٹھاتاہے (مثلاً کسی مجلس میں کسی ایسے آدمی کی تعریف و تعظیم کی گئی جس کو یہ ناپسند کرتا ہے منع کرنے کی طاقت رکھتا ہے یا نہیں رکھتا پھر بھی اسے شرمندگی ہی اٹھانی پڑتی ہے اور فرشتوں کی لعنت وبغض اٹھاتا ہے اور خلوت و تنہائی میں محض گھبراہٹ وغم و اندوہ میں مبتلا رہتا ہے اور آخرت میں حزن وملال اور آگ کا جلنا ہی نصیب ہوگا اور اللہ تعالیٰ سے غصہ و دوری حاصل کرے گا۔ الصاوی۴/۵۰۳۔

اور ایک حدیث میں ہے کہ تین چیزوں سے کوئی محفوظ نہیں رہتا: بدشگونی، بدگمانی، حسد سے۔ عرض کیاگیا یا رسول اللہ ان سے نکلنے کا راستہ کیا ہے ، فرمایا جب تو بدشگونی کرے دوبارہ مت کر اور جب بدگمانی کرے اس کو ثابت مت کر اور جب حسد کرے تو ظلم مت کر۔ فتح الباری ۱۰/۵۹۱

عن الزہری قال حدثنی انس بن مالک ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال لا تباغضوا ولا تحاسدوا ولا تدابروا کونوا عبادًا لِلّٰہِ ولا یَحِلُّ لمسلم ان بہجر اخاہ فَوق ثَلٰثَةِ اَیامٍ․ وقال الحافظ بن حجر وزاد عبدالرحمن بن اسحاق عنہ فیہ ولا تنافسوا وکذا وقعت فی روایة لِلْمسلم عن الاعمش وفی روایة للمسلم ولا تقاطعوا․ بخاری ۲/۸۹۶، فتح الباری ۱۰/۵۹۳، مسلم ۲/۳۱۶۔

حضور اکرم صلى الله عليه وسلم فرماتے ہیں آپس میں ایک دوسرے سے بغض مت رکھو اور ایک دوسرے سے حسد مت کرو اور ایک دوسرے سے دشمنی مت کرو اوراللہ کے بندے بھائی بھائی ہوکر رہو اور مسلمان کے لئے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن (تین رات) سے زائد بولنا چھوڑ کر رکھے اور دنیوی سازوسامان میں حرص بازی مت کرو۔

تین دن تین رات سے زائد ترکِ کلام وقطع تعلق جائز نہیں ہے ہاں اگر اس سے گفتگو و تعلق بحال کرنے میں دین میں مفسدہ کا خوف ہو یا خود کی جان مال وغیرہ کا خطرہ ہوتو اس سے ترکِ کلام جائز ہے اور بہت سی قطع تعلقی تکلیف اختلاط وتعلق سے بہترہوتی ہے۔ فتح الباری ۱۰/۶۰۸۔

تین آدمیوں کی دعا قبول نہیں ہوتی

علماء نے تحریر فرمایا ہے کہ تین قسم کے بدبخت لوگوں کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ جس کی غذا مال حرام سے ہو جو لوگوں کی غیبت میں بکثرت مبتلا رہتا ہو اور تیسرے وہ جس کے دل میں مسلمان کی خیانت اور حسد ہو۔ تفسیر قرطبی ۱۰/۶۰۳۔

(۶) تعصب و عصبیت کی وجہ سے انسان ایک دوسرے کو ذلیل و گھٹیا سمجھتا ہے حالانکہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے اس کو سخت انداز میں منع فرمایا ہے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے اس کو چاہئے مسلمان بھائی پر ظلم نہ کرے نہ اس کی مدد کرنا چھوڑے اور نہ اس کو حقیر سمجھے اور تقویٰ تو یہاں ہوتا ہے یہ آپ صلى الله عليه وسلم نے تین مرتبہ کہا اور اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کیا مطلب یہ ہے کہ فضیلت کا مدار تو تقویٰ ہے آدمی کے برا ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو ذلیل سمجھے ہر مسلمان کا مسلمان پر حرام ہے اس کا خون بہانا (ناحق) اس کا مال (لینا یا ضائع کرنا) اور اس کی آبرو ریزی کرنا۔ مسلم ۲/۳۱۷۔

(۷) تعصب کی وجہ سے آدمی ایک دوسرے کی عظمت و بزرگی کو نظر انداز کرکے اس کو ذلیل وحقیر سمجھتا ہے اور دوسرے کے سامنے اس کی ہجو کرتا ہے حالانکہ یہ تمام چیزیں معاشرہ کو تباہ و برباد کرتی ہیں۔ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو چھوٹوں پر رحم نہ کرے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے اور آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا جو جوان کسی بوڑھے کی اس کی درازیٴ عمر کی وجہ سے اکرام کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی عمر کے دراز ہونے کے وقت یعنی بوڑھاپے میں ایسا آدمی مقدر کردیتے ہیں جو اس کا اکرام کرے گا۔ ترمذی ۴/۲۲، مشکوٰة/۴۲۲۔

اور حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اکرام میں سے ہے بوڑھے مسلمان کا اکرام کرنا اور حافظ قرآن کا اکرام کرنا جو قرآن میں غلو نہ کرتا ہو اور نہ قرآن سے دور ہو (یعنی قرآن پر عمل کرتا ہو) اور عادل بادشاہ کا اکرام کرنا۔ مشکوٰة/۴۲۳۔

اپنی قوم سے محبت کرنا مذموم نہیں

یہ بات بھی قابل ملحوظ ہے کہ تعصب وہی مذموم ہے جس میں آدمی اپنی قوم کی محبت میں قوم کے ظالم ہونے کے باوجود اس کی مدد کرتا ہے ورنہ اپنی قوم اور اقرباء سے محبت کرنا ظلم کی ان سے مدافعت کرنا کوئی مذموم شئی نہیں بلکہ قابل تعریف ہے چنانچہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا تم میں بہترین آدمی وہ ہے جو اپنے اقرباء سے ظلم کی مدافعت و دفاع کرتا ہے ۔ رواہ ابوداؤد، مشکوٰة/۴۱۸۔

اور حضور اکرم صلى الله عليه وسلم سے عرض کیاگیا یا رسول اللہ کیا اپنی قوم سے محبت کرنا بھی تعصب وعصبیت ہی کا حصہ ہے آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: نہیں! (یعنی قوم سے محبت کرنا کوئی برا نہیں اور نہ یہ تعصب کہلاتا ہے بلکہ) عصبیت یہ ہے کہ آدمی اپنی قوم کی ظلم پر مدد کرے۔ رواہ احمد وابن ماجہ، مشکوٰة/۴۱۸۔
***

مفتی محمد شاہد ، شیرکوٹ بجنور, انڈیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں