81

فتح مکہ۔

صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان اس گمان میں تھے کہ شاید اب کچھ عرصے تک جنگ
نہ ہو اور اس بات کا غم بھی تھا کہ بیت اللہ کی طرف پیش قدمی جیسے حج و
عمرہ وغیرہ کی سعادت سے محروم تھے۔ لیکن ہوا کچھ یوں کہ مشرکین مکہ
نے معاہدے کو توڑتے ہوئے مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنو خزاعہ پر حملہ کیا اور
اس دوران قریش کے مشرکین نقاب پہن کر گئے تاکہ شناخت ظاہر نہ ہو البتہ بات
چھپی نہ رہی۔

بنو خزاعہ کا وفد حضور علیہ السلام کے سامنے حاضر ہوا اور انکو اپنی ساری روداد سنائی۔ حضور
علیہ السلام نے بغیر بتائے لشکر اسلامی کو تیار ہونے کا حکم دیا۔ مسلمان
سوچ رہے تھے کہ نہ جانے کس جگہ کا ارادہ ہے؟ کیونکہ سب سوچ رہے تھے کہ مکہ
والوں سے تو معاہدہ ہوچکا ہے اور انکو مشرکین کی طرف سے معاہدہ شکنی کی خبر
نہ تھی۔
10 رمضان 8 ہجری کو روانگی ہوئی اور ایک ہفتے کے بعد مکہ سے
کچھ دور “مر الظہران” نامی جگہ پر لشکر نے پڑاؤ ڈالا۔ مشرکین مکہ یہ سمجھے
کہ شاید بنو خزاعہ نے ان پر چڑھائی کی ہے۔

اس دوران ابو سفیان جو اس
وقت تک اسلام نہ لائے تھے اور اس غزوے میں اسلام لائے، نے پہاڑ پر چڑھ کر
افرادی قوت جانچنی چاہی تو حیران رہ گئے۔ ہوتا کچھ یوں تھا کہ پڑاؤ
کے دوران ایک آگ جلائی جاتی تھی جس کے گرد دس سے بارہ لوگ بیٹھ کر اپنی
ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ مگ اس رات حضور علیہ السلام نے اپنی فراست
دکھاتے ہوئے ہر مسلمان کو الگ آگ جلانے کا حکم صادر فرمایا۔ ابو سفیان نے
آگ کو گِنا اور جب دس سے ضرب دیا تو بوکھلا گئے وہ حضور علیہ السلام کی
خدمت میں حاضر ہوئے اور ایک طویل مکالمے کے بعد مشرف باسلام ہوئے اور پھر
جر کر مشرکین کو ڈرایا کہ اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ ناممکن ہے۔ محمد علیہ
السلام بھی ساتھ ہیں۔ ہتھیار ڈال دو۔

لڑائی کی تقریبا نوبت ہی نہ آئی۔ مشرکین بری طرح مرعوب تھے۔ حضور علیہ السلام نے لشکر کو چار حصوں میں تقسیم کرکے مختلف سمتوں سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ اور
اعلان فرمایا کہ: “ابوسفیان لوگوں کو اطمینان دلا سکتے ہیں کہ جو کوئی ان
کی پناہ میں آجائے گا امان پائے گا۔ جو شخص اپنے ہتھیار رکھ کر ان کے گھر
میں چلا جائے اور دروازہ بند کر لے یا مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ لڑائی
سے محفوظ رہے گا۔”

صرف ایک چھوٹے سے جتھے کے علاوہ باقی سب نے ہتھیار ڈال دیئے اور لڑائی کرنے والے مشرکین ہزیمت کے ساتھ مارے گئے۔ اب
مشرکین بہت ڈرے ہوئے تھے کہ نہ جانے حضور علیہ السلام انکے ساتھ کیا سلوک
کرینگے کیونہ جو سلوک انہوں نے حضور علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا اس کے
جواب میں وہ کوئی اچھی امید نہ رکھتے تھے لیکن پھر آسمان و زمین نے دیکھا
کہ جس مقام سے حضور علیہ السلام کو مختلف اذیتیں دے دے کر شہر بدر ہونے پر
مجبور کیا گیا تھا۔
جہاں معاشی بائیکاٹ کرکے پتے کھانے پر مجبور کیا
گیا تھا وہاں آپ نے مسجد الحرام کے صحن میں کھڑے ہوکر عام معافی کا اعلان
کردیا۔ اس حسن اخلاق کو دیکھ کر ہزاروں لوگوں نے اسلام قبول کیا اور مکہ کی
فضا “اللہ اکبر” کے نعروں سے گونج اٹھی۔

اس کے بعد حضور نے اپنے جد
حضرت ابراھیم علیھم السلام کے بنائے ہوئے اللہ کے گھر میں سے تصاویر کو
نکالنے اور بتوں کو توڑنے کا حکم دیا۔ حضور علیہ السلام خود تشریف لے گئے
اور اپنے عصا مبارک سے بتوں کو گراتے جاتے اور اللہ کی تعریف بیان کرتے
جاتے۔ کچھ بت ذرا اونچے تھے تو آپ کے کاندھے مبارک پر حضرت علی کرم اللہ
وجھہ نے چڑھ کر ان بتوں کو پاش فرمایا۔ فتح مکہ انسان دوستی کی وہ اعلیٰ مثال ہے جس کی مثل تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اس عظیم معرکے کے بعد اسلام کو بے پناہ قوت نصیب ہوئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں