104

نمکین ہنی مون۔

اس کہانی کا پورا نام “نمکین ہنی مون اور بجلی کا سیاپا” ہونا چاہئے تھا، بہرحال کہانی کچھ یوں ہے کہ باس کی سیکریٹری بجلی کو باس سے شادی کرنے کا بہت شوق تھا اسلئے وہ ہمیشہ باس کا دل لُبھانے والا میک۔اپ اور ڈریسنگ کرکے آتی تھی لیکن اس کے ناز و انداز دیکھ کر باس صرف اس کے سر پہ ہاتھ پھیر کے چھوڑ دیا کرتا کیونکہ لڑکی پسند کرنے کے جملہ حقوق اس نے اپنی والدہ صاحبہ کے نام کر رکھے تھے، بجلی نے بارہا والدہ صاحبہ کی توجہ بھی حاصل کرنا چاہی لیکن ناکام ہی رہی، وہ جب بھی سر پہ دوپٹہ ڈال کے کچھ شرماتے ہوئے باس کی شادی کی بات چھیڑتی تو والدہ صاحبہ اسے نظرانداز کرکے دیگر رنگ برنگی لڑکیوں کا تذکرہ لے کے بیٹھ جاتی، بلآخر جب باس کا بی۔پی ہائی ہونے لگا اور ایک دو دن ہسپتال میں گزارنے پڑے تو والدہ صاحبہ کو شدید احساس ہوا کہ اب اسے خوب سے خوب تر کی تلاش چھوڑ کے جو پہلی نستعلیق لڑکی نظر آئے اسی سے شادی پکی کر دینی چاہئے اور پھر ایسا ہی ہوا کہ آناً فاناً باس کی شادی طے ہوگئی۔

بجلی کو اس موقع پر سخت صدمہ پہنچا، تھوڑی دیر رو دھو کر بجلی نے سوچا کہ وہ شادی تو اب رکوا نہیں سکتی البتہ اس باس کے بچے کو سبق ضرور سکھائے گی، کافی غوروخوض کے بعد اس نے ایک خوفناک منصوبہ ترتیب دیا اور بڑے حکیم صاحب کے پاس چلی گئی، وہاں اپنا مسئلہ بیان کرنے میں کافی دیر ہچکچاہٹ کی اداکاری کرتی رہی بلآخر حکیم صاحب کے اعتماد بحال کرانے پر اس نے اپنا مسئلہ یہ بتایا کہ میری نئی نئی شادی ہوئی ہے اور میرا شوہر ایک پہلوان ہے، وہ مجھے سونے نہیں دیتا، یہ اس کا روز کا معمول ہے، اگر آپ نے کچھ نہ کیا تو وہ میرا کچومڑ ہی نکال دے گا، حکیم صاحب کو اس پر ترس آگیا اور اسے تسلی تشفی کے علاوہ شوہر کو سلو۔ڈاؤن کرنے کیلئے حبِ تقلیلِ جوش کی پندرہ گولیاں بھی دے دیں، حکیم صاحب نے کہا کہ سونے سے پہلے ایک گولی دودھ میں ملا کر اسے روزانہ دے دیا کرو، اس گولی سے اسے تحریک نہیں ہوگی اور تم چین سے سوتے رہنا تاہم ہفتے میں ایک دو مواقع اسے ضرور دے دیا کرنا کیونکہ شوہر کا تمہارے اوپر اتنا تو حق بنتا ہی ہے، بجلی نے گھر آکے ڈبیہ پر سے حکیم صاحب والا لیبل اتارا اور بی۔پی کنٹرول کا لیبل چپکا کے ڈبیہ پرس میں رکھ لی۔

شادی کی اگلی صبح باس اور اس کی دلہن ہنی مون کیلئے روانہ ہونے والے تھے اور سیکریٹری ہونے کی حیثیت سے پیکنگ کی تمام تر ذمہ داری بجلی کے ہی سر پر تھی، بجلی نے ساری پیکنگ کروا کے وہ ڈبیہ دلہن کو تھمائی اور کہا کہ جذباتی صورتحال میں باس کا بی۔پی ایکدم شوٹ۔اپ کر جاتا ہے جو جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے اسلئے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ یہ ایک گولی سونے سے پہلے صاحب کو ہر قیمت پر کھلانی ہے تاکہ ان کے اگلے چوبیس گھنٹے اچھے گزر جائیں۔

نیولی میریڈ کپل نے ساؤتھ ہلز کے ایک ہوٹل میں قیام کیا، ڈنر کے بعد باس نے دلہن کیساتھ شرارتیں شروع کر دیں، دلہن نے کہا ابھی صبر کریں میں زرا تیار ہو لوں، دلہن نے سہاگ رات والا سوٹ پہنا میک۔اپ کیا اور ایک گلاس دودھ کے ساتھ گولی نکال کے لے آئی، باس نے بہت یقین دلایا کہ کام کی بھرمار سے صرف ایک ہی بار بی۔پی ہائی ہوا تھا، اب میں بلکل ٹھیک ہوں بلکہ سہاگ رات کی خوشی میں بہت ہلکا پھلکا محسوس کر رہا ہوں لیکن مشرقی روایات کی ماری نئی نویلی دلہن نے ایکسٹرا محبت کے جذبے سے چند ڈائیلاگ بول کے گولی کھلوا کے ہی دم لیا، ادھر باس نے دلہن کیساتھ سہاگ رات کی کاروائی شروع کی اور ادھر بجلی کی گولی نے اپنا کام کرنا شروع کیا، ابتدائی کاروائی کے مختلف مراحل طے کرکے باس جب دلہن کے بلاؤز تک پہنچا تو باس کی بجلی ہی چلی گئی۔

باس نے ساری رات بے چینی میں کبھی اپنی اور کبھی دلہن کی سانسیں گن کر گزاری، کئی بار اس نے کوشش کی مگر بجلی لوٹ کر نہیں آئی، رات کے آخری پہر تھک ہار کر وہ سو گیا، دوپہر کو جب ناشتے کیلئے اٹھا تو وہ کافی شرمندہ سا ہو رہا تھا لیکن جب دلہن کے ساتھ سیر سپاٹے کو نکل گیا تو اسے محسوس ہوا کہ بجلی آگئی ہے، اس نے دلہن کو کمرے میں جانے کیلئے کہا لیکن وہ ساوتھ ہلز کے نظارے دیکھنے میں ایسی مگن تھی کہ شام سے پہلے واپس جانے کو تیار نہ ہوئی، رات کو دلہن نے سوچا بجلی صحیح کہتی تھی یہ آج پھر گولی نہ کھانے پر بضد ہوگا اسلئے دودھ کے گلاس میں گھول کے پلا دیتی ہوں، باس نے جب سہاگ رات شروع کی تو اس وقت بجلی موجود تھی لیکن دودھ کا گلاس پی کے جیسے ہی وہ بلاؤز تک پہنچا تو بجلی پھر چلی گئی اور وہ ہکا بکا ساری رات پہلو بدلتا رہا۔

اگلے دن وہ اٹھتے کے ساتھ ہی دبے پاؤں تیار ہوا اور کسی حکیم کی تلاش میں نکلا، حکیم صاحب نے لمبا ہی علاج تجویز کر دیا یعنی تین ماہ کا مکمل شادی کورس کرنا پڑے گا، حکیم سے مایوس ہو کے وہ غریب کسی ڈاکٹر کی تلاش میں نکل گیا، ڈاکٹر نے اس کا معائنہ کرکے کہا بھیا آپ طبی طور پر تو بالکل فٹ۔فاٹ ہیں لیکن جب پہلی بار عورت سے ملیں تو بعض لوگوں کو نروس۔نیس ہو جاتی ہے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں، میں آپ کو اعصابی طاقت کی دوا دیتا ہوں اس سے آپ کا حوصلہ قائم رہے گا، اعصابی طاقت کی دوا کھانے کے بعد باس نے بجلی آتی ہوئی محسوس کی اور ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کرکے نکلا، ٹیکسی لی اور خوشی خوشی ہوٹل کی طرف روانہ ہو گیا، ہوٹل جا کر اس نے دلہن سے پیار ویار کیا دلہن نے بغیر بتائے جانے اور دیر سے آنے کا گلوگیر انداز میں شکوہ کیا لیکن جب اس نے باس کی بجلی چمکتی دیکھی تو سب گلے شکوے بھول کر اس کی بانہوں میں جھولنے لگی، آج دونوں کو امید تھی کہ کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا لیکن دودھ کا گلاس پینے کے بعد جب ایک مخصوص مرحلے پر پہنچے تو ان کی بجلی پھر سے چلی گئی۔

اگلے دن اس نے دلہن کو بتایا کہ میں سخت شرمندہ اور نفسیاتی الجھن کا شکار ہو رہا ہوں اسلئے میں ڈاکٹر سے مل کے آتا ہوں، دلہن خاموش رہی اور وہ چلا گیا، ڈاکٹر نے کہا آپ میں وِل۔پاور کی شدید کمی ہے، آج آپ کو اعصابی طاقت کے علاوہ ول۔پاور کی گولی بھی دیتا ہوں، آج آپ ضرور کامیاب ہو جائیں گے، باس نے دوائی کھا کے بجلی کے ہائی وولٹیج محسوس کئے اور خوشی خوشی واپس ہوٹل چلا گیا، شام کا کھانا انہوں نے باہر جا کے کھایا، باس کو خوش دیکھ کر دلہن بھی اس کا حوصلہ بڑھانے لگی یوں اٹھکیلیاں کرتے ہوئے وہ دونوں واپس آگئے اور دودھ کا گلاس پی کے پیار کرنے لگے لیکن آدھے راستے میں بجلی پھر چلی گئی، دلہن بہت مخلص تھی اس نے کوئی طعنہ دینے کی بجائے باس کو حوصلہ دینے اور اس کا اعتماد بحال کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر بجلی واپس آنی تھی نہ آئی۔

اگلے دن وہ دونوں ڈاکٹر صاحب کے پاس گئے، باس نے کہا دیکھو میری بیوی کتنی خوبصورت ہے پھر بھی میں ناکام کیوں ہو جاتا ہوں…؟ آج مجھے کامیابی نہ ہوئی تو میں نفسیاتی مریض بن جاؤں گا، ڈاکٹر نے شیشے کے باہر اس کی بیوی کو بیٹھے ہوئے دیکھا تو اسے ان دونوں پر واقعی ترس آگیا، ڈاکٹر نے کہا مسئلہ تمہیں کچھ بھی نہیں بس اعتماد کی کمی ہے، ابھی تم دونوں اس بات کو بھول کر خوشی خوشی گھومنے پھرنے جاؤ، آج رات کو میں خود ہوٹل آکے تمہیں دوائی کھلاؤں گا اور جب تک تمہاری بجلی نہیں آجاتی میں واپس نہیں آؤں گا، اس سے زیادہ میں کچھ نہیں کر سکتا۔

رات کو ڈاکٹر صاحب نے اسے اعصابی طاقت اور ول پاور کی ڈبل ڈوز دی تو باس کی بجلی فوراً واپس آگئی بلکہ وولٹیج بھی کچھ زیادہ ہی محسوس ہو رہے تھے اس نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا اور کمرے میں چلا گیا، بیگم صاحبہ نیا جوڑا پہن کر بہت محنت سے تیار ہوئی تھی، باس میں بجلی بھری دیکھ کر وہ خوشی سے پھولے نہ سمائی اور جھٹ سے دودھ کا گلاس نکال لائی، دونوں بہت والہانہ انداز سے ایکدوسرے کیساتھ لپٹتے رہے لیکن مختلف مراحل طے کرتے ہوئے جونہی وہ بلاوز تک پہنچا تو بجلی پھر سے چلی گئی۔

اگلے دن وہ ایک ماہر نفسیات کے پاس گیا اور اسے سارا مسئلہ تفصیل کے ساتھ بتایا، ماہر نفسیات نے بھی اسے اعتماد کی کمی اور نروس۔نیس پر محمول کیا، ماہر نفسیات کا خیال تھا کہ تمہیں دوا سے زیادہ اعتماد بحال کرنے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب کوئی عورت تمہیں دوستانہ ٹریٹ کرے اور قربت کے وقت تمہارا حوصلہ بڑھاتی رہے، میں اس کام کیلئے ایک لیڈی ماہر نفسیات کو تیار کرتا ہوں لیکن اس کی فیس تمہیں بھاری ادا کرنی پڑے گی البتہ وہ تمہاری بجلی بحال کردے گی۔

شام کو لیڈی ڈاکٹر آئی اور اس نے مسکرا کر باس سے ہاتھ ملایا اور ہاتھ چھڑانے سے پہلے اس کے منہ تک لے گئی، باس نے ایک خوشگوار احساس کیساتھ اس کا ہاتھ چوم لیا، لیڈی ڈاکٹر نے اس کا اعتماد دیکھ کر کہا بہت خوب ڈارلنگ، اب ہم سالسہ کریں گے، اس دوران آپ میرے ساتھ کھل کر ڈانس کیجئے اور جو محسوس کریں وہ کھل کر کہیں، آپ کا اظہار محبت کو جی چاہے تو بلا جھجھک کہہ دیجئے گا اور کسی مرحلے پر اگر آپ کا من چاہے تو مجھے کِس بھی کر سکتے ہیں۔

سائیکاٹریسٹ نے ایک دو ٹیزر اسٹیپ کئے، پھر لوئیر پیس میں ایک دو میٹاڈور کئے تو باس کو بجلی چڑھنا شروع ہوگئی، لیڈی نے اسے جوش میں آتے دیکھا تو اگلے اسٹیپ میں اسے ربڑبینڈ مووز میں لے گئی، ایکدوسرے سے ٹچ ہوتے ہوئے باس کو بجلی چڑھتی گئی تو اس نے سالسہ کی ایک خوبصورت دھن پر خوب جم کر ڈانس کیا، اس دوران جذبات سے مغلوب ہو کر باس نے کئی بار ڈاکٹر کو اپنے گرد گھمایا، اپنے بازو پر گرایا اور بلآخر اس کے سینے پر سر رکھ دیا، ڈاکٹر کا کام ختم ہو چکا تھا، باس کی بجلی بحال ہو چکی تھی، وہ خوشی خوشی ٹیکسی میں بیٹھا اور ہوٹل کی طرف چل دیا لیکن پھر وہی دودھ کا ایک گلاس پی کر ہنی مون منانے لگا تو ایکدم سے بجلی پھر چلی گئی۔

اگلے دن وہ پھر ماہر نفسیات کے کلینک پر بیٹھا تھا، لیڈی ڈاکٹر نے کہا کل تم میرے پاس سے تو اچھے بھلے گئے تھے پھر کیا ہوا…؟ شائد تم نے ہوٹل کے راستے میں ارد گرد کے مناظر دیکھتے ہوئے ساری توانی کھو دی تھی، اب صرف ایک ہی صورت باقی ہے کہ تم ہوٹل میں کمرا بک کراؤ تاکہ تمہیں توانائی حاصل کرنے کے بعد راستے کا سفر نہ طے کرنا پڑے لیکن یاد رکھنا یہ آخری بار ہے اس سے آگے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتی، باس نے اپنے کمرے کے ساتھ والا کمرا بک کرایا اور اس بار لیڈی ڈاکٹر نے کراس باڈی لیڈ، انسائیڈ آؤٹ سائیڈ ٹرنز، کڈل ٹرنز اور بیک اینڈ فورتھ مووز میں اسے بار بار اپنے ساتھ لگنے کا موقع دیا، وہ بدستور اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی اور اپنے سرخ ہونٹوں اور کٹورے جیسے نینوں کی جنبش سے اسے برانگیختہ کرتی رہی بلآخر باس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور وہ چلتے میوزک اور ڈانس میں ہاتھ چھڑا کر اپنے کمرے کی طرف بھاگا جہاں دلہن پوری تیاری کیساتھ اس کے انتظار میں موجود تھی، دلہن نے اپنے ہاتھوں سے اسے دودھ کا گلاس پلایا، خالی گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور اپنی جان اس کے حوالے کر دی مگر ابھی وہ اگلے ہی موڑ پر پہنچے تھے کہ باس کی بجلی پھر سے چلی گئی۔

امید کی اب کوئی کرن باقی نہیں تھی، وہ سو کر اٹھا تو بے مقصد پہاڑوں کی طرف نکل گیا، دن ڈھلنے لگا تھا اور شام ہونے کے خوف سے اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا بلآخر جب اسے کوئی حل نہ سوجھا تو اس نے پہاڑی پہ چڑھ کے چھلانگ لگانے کا فیصلہ کرلیا، ابھی وہ چڑھائی کے آدھے راستے میں بھی نہیں پہنچا تھا کہ اسے کسی نے آوازیں دینا شروع کر دیں، اس نے ایک بار پیچھے مڑ کے دیکھا اور تیزی کیساتھ اوپر جانا شروع کر دیا۔

سنیاسی باوا کسی بوٹی کی تلاش میں وہاں گھوم رہا تھا کہ اس نے باس کو چڑھائی چڑھتے ہوئے دیکھا لیکن جب وہ اس کی آواز پہ نہ رکا تو باوا نے اپنی گدڑی وہیں پھینکی اور اس کے پیچھے چل دیا، سنیاسی باوا نے اسے آدھے راستے میں جالیا اور مزید اوپر جانے سے منع کیا، باس نے چھلانگ لگانے کا بہت پکا ارادہ کیا ہوا تھا لیکن باوا نے اس کا مسئلہ حل کرنے کی یقین دہانی پر اسے واپس چلنے پر آمادہ کر ہی لیا۔

جب وہ بازار پہنچے تو شام ہونے والی تھی، سنیاسی باوا نے ایک ریڑھی پر جا کے کہا اس سے دو کلو پیاز لے لو، پیاز لیکر وہ قریبی فٹ پاتھ پر کپڑا بچھا کے بیٹھ گئے، باوا نے اپنی گدڑی سے چاقو نکالا اور پیاز چھیل چھیل کر پھینکنے لگا، پھر اس نے ہر پیاز کے اندر کی آخری گٹھلی نما نرم اور کچی سی لہریں نکال کر ایک جگہ جمع کرنا شروع کیں، جب سارے پیاز کی گٹھلیاں نکل آئیں تو سنیاسی باوا نے کہا لو بیٹا یہ ساری گریاں کھالو، اس سے دیکھنا کیسے تمہارا مسئلہ سو فیصد حل ہو جائے گا۔

باس نے گریاں کھانا شروع کیں، شروع شروع میں اسے ہلکی ہلکی سے میٹھی لگیں، پھر کڑوی لگنے لگیں اور پھر اس کی ناک سے دھواں نکلنے لگا، پھر اس کے کانوں سے دھواں پھر ناک اور آنکھوں سے پانی بہنا شروع ہو گیا لیکن سنیاسی باوا اس کی ہمت بڑھاتا رہا اور وہ پیاز کھاتا رہا، جب ساری گریاں ختم ہو گئیں تو اسے پیاس نے سخت تنگ گیا، سنیاسی باوا نے کہا یہ نہیں ہو سکتا، اس کے اوپر نہ کچھ کھانا ہے اور نہ کچھ پینا ہے، باس نے کہا میرے منہ سے بہت بو آرہی ہے، میں ایک میٹھا پان ہی کھا لوں…؟ سنیاسی باوا نے کہا، خبردار جو اب کچھ کھانے پینے کی بات کی تو، کھانے پینے کے معاملے میں آج اپنا منہ یکسر سی لو، بس اب تھوڑی دیر میرے پاس بیٹھو جب بجلی آنے لگے تو بیشک چلے جانا لیکن اس کے اوپر کھانا پینا کچھ نہیں۔

دلہن شام سے تیار ہو کر بیٹھی سوچ رہی تھی، وہ بیچارہ پھر کسی ڈاکٹر کے پاس گیا ہوگا، پتا نہیں کب ہانپتا کانپتا آئے گا، پتا نہیں آج پھر اس کا کیا بنے گا، باس نے کمرے میں پہنچ کر کوٹ اتارا اور پرے صوفے پر پھینک دیا، بیڈ پر بیٹھ کر وہ جوتے اتار رھا تھا کہ دلہن دودھ کا گلاس لے آئی، ابھی تک اسے پیاز کی کُڑتن ہی چڑھی ہوئی تھی لیکن جب اس نے دلہن کو غور سے دیکھا تو ایکدم سے بجلی کڑکنے لگی، آندھی طوفان آگیا، اسی طوفان میں اس نے دودھ کے گلاس کو زور کا ہاتھ مارا اور پرے پھینک دیا، وہ دلہن کو اپنے پاس کھینچ کر والہانہ پیار کرنے لگا، پیاز کی بو سے دلہن کو کچھ ناگواری محسوس ہو رہی تھی مگر وہ پھر بھی خوش تھی اور اس کے گلے کا ہار بنی رہی لیکن تقدیر کا کرنا کیا ہوا کہ ابھی وہ آدھے راستے میں ہی تھا کہ ہوٹل کی بجلی چلی گئی۔

تھوڑی دیر تک وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے دیکھتا رہا لیکن جب اسے احساس ہوا کہ اس کی اپنی بجلی نہیں گئی تو وہ جئے سنیاسی باوا کا نعرہ لگا کر عشق کی ساری منزلیں سر کرتا چلا گیا، صبح تک ہوٹل کی بجلی کئی بار آئی اور کئی بار گئی لیکن وہ حیران تھا کہ اس کی اپنی بجلی نہیں گئی۔

یہ جو اپنے ہاں بجلی کا آنا جانا لگا رہتا ہے اس کے پیچھے بھی کوئی دودھ کا گلاس ہے، اس بات کا پتا لگا کر اس کا دودھ چھڑوانا چاہئے یا پھر تمام گرڈ اسٹیشنوں پر ایک ایک دو دو ٹن پیاز چھیل کر ڈلوانا چاہئے تاکہ اسے بھی استحکام نصیب ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “نمکین ہنی مون۔

اپنا تبصرہ بھیجیں