137

انور مسعود کی مشہور کتاب قطعہ کلامی سے منتخب مزاحیہ اشعار۔


انشورنس ایجنٹ
آپ کرائیں ہم سے بیمہ چھوڑیں سب اندیشوں کو
اِس خدمت میں سب سے بڑھ کر روشن نام ہمارا ہے
خاصی دولت مل جائے گی آپ کے بیوی بچوں کو
آپ تسلی سے مَر جائیں باقی کام ہمارا ہے


تُرکی بہ تُرکی

اپنی زوجہ سے کہا اِک مولوی نے نیک بخت
تیری تُربت پہ لکھیں تحریر کس مفہوم کی
اہلیہ بولی عبارت سب سے موزوں ہے یہی
دفن ہے بیوہ یہاں پر مولوی مرحوم کی


سستا انصاف

قبضہ دلا دیا مجھے میرے مکان کا
میرے جو تھے وکیل عدیم النظیر ہیں
فیس اُن کی پوچھتے ہو تو آج اس مکان میں
خود حضرتِ وکیل رہائش پذیر ہیں

کچھ بعید نہیں
راز داری سے یہ سب فضل و کرم ہوتا ہے
کیا عجب کل کو مرے پاس بھی کار آ جائے
اس طرح ہاتھ لگے میرے متاعِ رشوت
’’جیسے ویرانے میں چپکے سے بہار آ جائے‘‘

بر صغیر کی سیاست
افسوس کہ کچھ اس کے سوا ہم نہیں سمجھے
دیکھے ہیں علاقے کی سیاست کے جو تیور
جمہوریت اِک طرزِ حکومت ہے کہ جس میں
والد کی جگہ لینے کو آ جاتی ہے دُختر

چالان
آپ بے جرم یقیناً ہیں مگر یہ فدوی
آج اس کام پہ مامور بھی، مجبور بھی ہے
عید کا روز ہے کچھ آپ کو دینا ہو گا
’’رسمِ دُنیا بھی ہے، موقع بھی ہے، دستور بھی ہے‘‘

لوک لاج
لوگ تو رہتے ہیں ہر لمحے ٹوہ میں ایسی باتوں کی
پیار محبت کے ہیں دشمن دل کے ایسے کالے ہیں
دیکھیئے کچھ محتاط ہی رہیئے اس جاسوس زمانے سے
میں بھی بچوں والی ہوں اور آپ بھی بچوں والے ہیں


توفیق

چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہلِ ہمت
اُن کو یہ دھُن ہے کہ اب جانبِ مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اِسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں

پدر تمام کند
بھینس رکھنے کا تکلف ہم سے ہو سکتا نہیں
ہم نے سُوکھے دودھ کا ڈبا جو ہے رکھا ہوا
گھر میں رکھیں غیر محرم کو ملازم کس لئے
کام کرنے کے لئے اَبا جو ہے رکھا ہوا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں