94

حضرت علیؓ، اک درویش حکمران۔

بطور ایک مسلمان اور بطور سیاسیات اور تاریخ کے طالب علم میں نے ہمیشہ جناب علی علیہ سلام کے کردار کو انتہائی دلچسپی سے پڑھا ہے۔ آپ کے کردار میں موجود درویشی، غنا، حکمت اور شجاعت ہمیشہ سے اہل علم و عمل کیلیے مینارہ رہنمائی رہے ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ بطور مسلمان، بطور امام، بطور امامِ تصوف اور بطور انسان کیا تھے، ہمارے بہت سے دوست مجھ سے زیادہ بہتر بیان کر سکتے ہیں اور اکثریت، حتی کہ غیر مسلم بھی، جانتی اور مانتی بھی ہے۔ آج انکے یوم شہادت پر میری نظر انکے انداز حکمرانی پر ہے کہ جناب علی(ر) بطور حکمران، اسلامی حکومت کے ایک بادشاہت بننے کی راہ میں آخری رکاوٹ تھے۔

آپؓ کا دور حکومت ایک مسلسل کوشش تھا کہ اسلامی نظم حکومت ان ہی خطوط پر قائم رہے جن پر ہمارے آقا(ص) نے اسکی بنیاد رکھی۔ نوجوانی میں مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی تھی کہ مروجہ سیاسی تعریفات کے مطابق حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا دور حکومت ناکام کیوں رہا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے سمجھ آیا کہ میسر حالات میں یہ ناکامی نہیں بلکہ کافی حد تک بے بسی تھی۔ انکی حکومت مسلسل بغاوت یا جنگ کا سامنا کرتی رہی مگر اسکے باوجود اپنے مقرر کردہ اصولوں پر قائم رہی۔ اور یہ ہی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی کامیابی تھی۔ جناب علی (ر) نے جب خلافت سنبھالی تو امارت اسلامی میں شکوے، فتنے اور سازشیں اپنے عروج پر تھیں۔ ایسے میں بہت مشکل تھا کہ اصولوں پر قائم رہا جاتا مگر جناب علی(ر) اسکے باوجود اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ میرے نزدیک انکے دور حکومت میں مندرجہ ذیل اقدامات بہت انقلابی اور اصولی تھے۔

اگر یہ ہی روئیے بعد ازاں بھی قائم رہتے تو اسلامی نظام حکومت سامراج نا بن پاتا۔ ۱- اقربا پروری سے گریز جناب علی (ر) جن حالات میں خلیفہ بنے، انکو چاہیے تھا کہ اپنا خاندان حکومت میں بھر دیتے تاکہ سب علاقوں پر اہل خاندان کا کنٹرول مضبوط ہوتا اور کسی قسم کی بغاوت یا نافرمانی کا ڈر نا ہوتا۔ اسکے بجائے ہم دیکھتے ہیں کہ بہت ہی کم علاقوں میں اہل خاندان کو مقرر کیا گیا۔ ‫شام کیلیے حضرت سہیل ابن حنیف کو مقرر کیا گیا۔ یہ معزز انصاری تھے۔ بصرہ کیلیے آپ نے حضرت عثمان ابن حنیف(ر) کو مقرر کیا۔ بعد ازاں حضرت عبد اللہ بن عباس یہاں مقرر ہوے۔ واحد یمن تھا جہاں اولین تقرریوں میں امیرالمومنین نے اپنے گھر کا کوئی شخص، اپنے چچا زاد حضرت عبید اللہ ابن عباس(ر) کو مقرر کیا۔ ‬مکہ کیلیے بنی مخذوم کے خالد بن عاص کو مقرر کیا۔ ‫کوفہ کیلیے پہلے حضرت عمارہ بن شہاب(ر)، پھر حضرت ابو موسی اشعری (ر) اور بعد ازاں‬ حضرت قرضہ بن کعب انصاری کو گورنر مقرر کیا۔‫مصر میں انصاری صحابی حضرت قیس بن سعد(ر) کو مقرر کیا۔ ‬بعد ازاں سوتیلے بیٹے محمد بن ابو بکر(ر) کا تقرر ہوا۔ ‫سو ہم دیکھتے ہیں کہ دو چچازاد بھائیوں اور ایک سوتیلے بیٹے کی تقرری کے علاوہ تمام اہم تقرریاں غیروں میں ہیں۔

معیار انصاف اور تقوی ہے اور اسکی خلاف ورزی پر بہترین دوست بھی ناراضگی کی قیمت پر قابل مواخذہ ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ حسنین کریمین (ر) بھی اس وقت اس عمر میں تھے کہ کوئی اہم گورنری پاتے مگر انھیں بھی مقرر نہ کیا گیا اور نہ ہی کوئی بیٹا ولی عہد مقرر کیا۔ جناب علی رضی اللہ عنہہ کا اقربا پروری سے یوں پرہیز سیاسی طور پر ایک انقلابی قدم تھا کیونکہ قریش کو اقتدار کی چاٹ لگ چکی تھی اور ایسے میں خاندان یا قبیلہ کے بجائے میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر عہدے دینا نہایت جرات مندانہ اقدام تھا۔ اگر یہ روایت جاری رہتی تو مسلم حکومتیں کبھی بھی خاندانی اجارہ داری کا ادارہ نا بنتیں۔ ‬ ‫۲-بیت المال کا درست استعمال ‬ ‫حضرت علی (ر) کے دور میں بیت المال کو اسی مقصد کیلیے استعمال کیا گیا جس کیلیے اسلامی حکومت میں یہ ادارہ قائم ہوا۔ سو ہم دیکھتے ہیں کہ تمام تر سیاسی ضروریات کے باوجود امیرالمومنین نا تو بیت المال سے تحائف بانٹتے ہیں اور نا ہی اسے بطور سیاسی رشوت استعمال کرتے ہیں۔ الٹا کئی مثالیں موجود ہیں جہاں بیت المال سے کچھ نا دینے پر اپنے ناراض ہوے۔

مزید ازاں بیت المال سے خاندان نوازی کی روایت بھی قائم نہیں ہونے دی گئی۔ حتی کہ اپنے ہی بھائی کے مانگنے پر گرم سلاخ آگے کر دی کہ اگر تم یہ نہیں پکڑ سکتے تو میں تم کو نواز کر خود کو مشکل میں کیوں ڈالوں۔ ‬ ‫اسلامی حکومت فتوحات کی وجہ سے کافی پھیل چکی تھی۔ ایسے میں بیت المال کا ادارہ سلطنت میں پیسے کی ریل پیل کا اور حکومت کی امارت کا باعث ہونا چاہیے تھا۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جناب علی (ر) روز بیت المال کو دھلوا کر وہاں دو نفل شکرانہ ادا فرما رہے ہیں۔ حکومت کا بجائے خزانے جمع کرنے کے، عوام پر یوں خرچ کرنا اور بیت المال کے غلط استعمال سے گریز ایسی روایت ہے جو قائم رہتی تو اسلامی نظام حکومت کبھی بھی نبی آخرالزماں(ص) کے دئیے ہوے اصولوں سے نا بھٹکتا۔ ‬ ‫۳- احتساب کی روایت‬ ‫مجھے پہلے حیرت ہوتی تھی مگر بعد ازاں دل عظمت سے بھر گیا کہ ایک ایسا حکمران جو چہار جانب سے مشکلات میں گھرا ہے، عاملین کے احتساب کی روایت قائم رکھتا ہے۔

حضرت عمر(ر) کے دور میں گورنروں کے کڑے احتساب کی روایت تھی، مگر تب سیاسی حالات یوں دگرگوں نا تھے۔ حضرت علی(ر) کو بمشکل وفادار ساتھی میسر تھے اور مسلسل ساتھیوں کے مخالف کیمپ میں جانے کا خطرہ تھا۔ مگر اسکے باوجود احتساب کی روایت مکمل طور پر قائم رہی۔ معمولی سی بد احتیاطی بھی برداشت نہیں کی گئی۔ حضرت ابو موسی اشعری(ر) جیسے صحابہ بھی نان پرفارمنس پر برطرف ہوے۔ ایک اہم مثال حضرت عبدللہ ابن عباس کی ہے جو حضرت علی(ر) کے شاید سب سے قریبی تھے بحثیت چچا زاد اور دوست۔ حضرت علی (ر) بیت المال کے سلسلے میں اتنے ہی سخت تھے جتنے کہ حضرت عمر(ر)۔ چنانچہ ایک مالی بےضابطگی کی شکایت پر تمام تر سیاسی احتیاط طاق پر رکھتے ہوے ان سے سخت بازپرس کی گئی۔ نتیجتا انھوں نے ایک سخت جواب دیا، استعفی دیا اور مکہ جا کر بیٹھ گئے۔

اسلامی حکومت میں بجائے گورنروں کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کے، اگر کڑے احتساب کی یہ روایت قائم رہتی تو وہ بہت سے ظلم نا ہوتے جو گورنروں کے ہاتھوں انکو کھلی چھٹی ملنے کے باعث ہوے۔ ‬ ‫جناب علی علیہ سلام کو جو دور ملا، معاشرہ قبائلی سے زرعی ہو رہا تھا۔ فتوحات کی بنا پر اسلامی حکومت پھیل چکی تھی۔ زرعی معاشرہ اپنے ساتھ دولت، غلام، زرخیز زمینیں لایا جو جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ معاشرے کی بنیاد ڈال رہے تھے۔ اسکے باوجود حضرت علی (ر) اپنی شہادت تک اس کی راہ میں رکاوٹ رہے اور سلطانی کو درویشی بنا کر دکھایا۔ آج انکی شہادت کے روز، اس حکمران عادل جو کسی بھی مسلم سوشلسٹ نظام حکومت کیلیے مثال ہیں، حکیم، صاحب علم، درویش اور شجاع کو ہمارا سلام پہنچے۔ ‬ ‫


درویش رہے نظم بہ احکام محمد‬ﷺ
‫حیدرؓ کرار کی سلطانی گواہ ہے‬
( انعام رانا، مکالمہ ڈاٹ کام)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں