138

برمودہ ٹرائی اینگل اور اس سے وابستہ مختلف نظریات۔

اٹلانٹک سمندر (بحراوقیانوس) میں ایک تکون کی شکل کے سمندری علاقے کو برمودہ ٹرائی اینگل کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس علاقے کا ایک کونہ برمودا جزیرے میں، دوسرا پروٹوریکو جزیرے میں اور تیسرا کونا امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر میامی کے قریب واقع ہے۔ برمودا ٹرائی اینگل انہی تین کونوں کے درمیانی علاقے کو کہا جاتا ہے۔ اس علاقے میں تین سمندر، گلف آف میسیکو، کریبین سمندر اور اٹلانٹک سمندر آپس میں ملتے ہیں۔ برمودا تکون کی مشہوری  کا باعث وہ حیرت انگیز واقعات ہیں جو اس کے ساتھ جڑے ہوئے  ہیں۔ ان واقعات کے مطابق کئی بحری اورہوائی جہاز اس بحری علاقے سے گزرتے ہوئے لاپتہ ہوگئے تھے اور آج تک انکا کوئی نام و نشان نہیں ملا۔

اس مقام سے جڑی ہوئی چند کہانیاں ایسی ہیں کہ جن کے باعث اسکو شیطانی یا  آسیبی تکون Devil’s Triangle بھی کہا جاتا ہے۔ ان کہانیوں میں انسانوں کا غائب ہوجانا اور بحری اور فضائی  جہازوں کا گم ہو جانا جیسے غیر معمولی اور مافوق فطرت واقعات شامل ہیں۔ یہ واقعات  فزکس کے قوانین سے بالا تر ہیں اور ان کی تفصیل جاننے کیلیۓ جو کوششیں کی گئی ہیں ان میں بھی اکثر غیر معمولی اور مسلمہ سائنسی اصولوں سے ہٹ کربات کی گئی ہے۔ جن کیلیۓ کم از کم موجودہ سائنس میں کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملتا۔ ان کہانیوں میں فزکس کے قوانین کا غیر موثر ہوجانا اور ان واقعات میں بیرون ارضی حیات کا ملوث ہونا جیسے خیالات پائے جاتے ہیں۔ ان گمشدکی کے واقعات میں سے زیادہ تر یا تقریباً تمام ہی ایسے ہیں کہ جن کے ساتھ ایک معمہ کی خصوصیت وابستہ ہو چکی ہے اور ان کو انسانی عمل دخل سے بالا پیش آنے والے حوادث کی حیثیت دی جاتی ہے۔

بہت سی دستاویزات ایسی ہیں کہ جو یہ ظاہر کرتی ہیں کہ برمودا ٹرائی اینگل کو تاریخی اعتبار سے ملاحوں کیلیۓ لیۓ ایک اسطورہ یا افسانوی مقام کی سی حیثیت حاصل رہی ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ مختلف مصنفین اور ناول نگاروں نے بھی اس مقام کے بیان کو الفاظ کے بامہارت انتخاب اور انداز و بیان کی آرائش و زیبائش سے مزید پراسرار بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ فلوریڈا کے جنوب مشرقی ساحل کے پاس جغرافیائی اعتبار سے یہ تند و تیز طوفانوں کا علاقہ ہے لیکن میڈیا میں اسے ایک ماورائی یا پیرانارمل جگہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا جہاں فزکس کے تسلیم شدہ تمام قوانین یا تو غلط ثابت ہو جاتے ہیں، بدل جاتے ہیں یا ان کے ساتھ بیک وقت دونوں صورتیں پیش آجاتی ہیں۔

  موجودہ ترقی یافتہ دور میں اگرچہ سائنس اور ٹیکنالوجی کے ذریعے انسان نے دنیا کے تقریباََ سارے سربستہ راز معلوم کر لئے ہیں تاہم سائنسدان اور ماہرین ان بحری اور ہوائی جہازوں کی گمشدگی کا راز معلوم نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی غرق ہونے والے مسافروں اور جہازوں کے ملبے کا کوئی پتہ چلا سکے ہیں۔ فلوریڈا کے جنوب مشرقی ساحل کے پاس جغرافیائی اعتبار سے یہ تند و تیز طوفانوں کا علاقہ ہے ۔ یہ تکون 11لاکھ 40 ہزار مربع کلو میٹر( 4 لاکھ 40 ہزار مربع میل) پر مشتمل ہے۔ اس کے ایک طرف برمودا جزیرہ ہے۔ دوسری طرف امریکہ کا شہر میامی اور تیسری طرف پورٹوریکو کا جزیرہ واقع ہیں۔ دراصل برمودا تکون کا مسئلہ کوئی نیا نہیں۔ اس پر سال ہا سال سے بحث ہورہی ہے لیکن حیرت کی بات ہے کہ اب تک سائنسدان یہاں رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں کوئی ٹھوس شہادت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس علاقے میں جہازوں کے غائب ہونے کی بات سب سے پہلے 1950ء میں کی گئی۔ یہ کہانی ایسوسی ایٹڈ پریس کے ذریعے سامنے آئی اوراس کے لکھنے والے کا نام ای وی ڈبلیوجونز تھا۔ جونز نے جہاں اپنے آرٹیکل میں ان حادثات کو ہوائی’ جہازوں اور چھوٹی کشتیوں کی ”پراسرار گمشدگی” سے تعبیر کیا وہیں اس علاقے کو ”شیطان کی تکون” کا نام بھی دیا۔ دوسری بار اس کا ذکر 1952ء کے ”فیٹ میگزین” کے ایک فیچر میں ہوا جسے جارج ایکس سینڈ نے تحریر کیا اور اس میں کئی پراسرار بحری گمشدگی کا ذکر کیا گیا۔

”برموداٹرائی اینگل” کی اصطلاح 1964ء میں وینسنٹ گیڈیز کے فیچر ARG-OSY کے ذریعے مقبول ہوئی۔ عام خیال یہ ہے کہ فزکس کا کوئی قانون یہاں کام نہیں کرتا اور یہاں ہر طرف عجیب و غریب روشنیوں کا ہجوم رہتا ہے۔ عام لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں شیطانی قوتوں کی حکومت ہے۔ جو مقبولیت اس علاقے کو آج حاصل ہے وہ چارلس برلٹیز نامی شخص کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ”برموداٹرائی اینگل” کے نام سے چارلس کی ایک کتاب 1974ء شائع ہوئی اور بعد میں اس پرایک فلم بھی بنائی گئی۔ بہت سے مصنفین اور ناول نگاروں نے ان واقعات کو مزید نمک مرچ لگا کر اور اندازو بیان کی آرائش سے مزید پر اسرار بنا کر پیش کیا۔ اس مثلث پر اب تک کئی فلمیں بن چکی ہیں اور ناول بھی لکھے جا چکے ہیں مثلاَ ہیری پوٹر کی بعض مہمات بھی اس خطے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ”لارڈ آف دی رنگز”نامی فلم کا مرکزی خیال بھی اس سے تعلق رکھتا ہے۔ چارلس کی کتاب ”برموداٹرائی اینگل” میں ان ہوائی اور بحری جہازوں کے بارے میں طویل اورپراسرار کہانیاں لکھی گئی ہیں جو اس سمندری علاقے میں غائب ہوگئے تھے۔ اس میں خصوصی طور پر امریکی بحریہ کے پانچ تارپیڈو بمبار طیاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو 5 دسمبر 1945ء کو یہاں پہنچ کر غائب ہو گئے۔ اس واقعہ میں 14افراد بھی ہلاک ہوئے۔ جہاز جب روانہ ہوئے تو موسم بہت سازگار تھا لیکن پھر اچانک خطرناک ہو گیا اور ہوا بازوں کے لئے سمت تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔

یہ سب جہاز 3 بجکر 45 منٹ پر غائب ہو گئے اور اس کے بعد ان کا بیس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔اس بیڑے کو بچانے کے لئے جانے والا ایک اور جہاز Martin Mariner بھی پراسرارطور پر غائب ہو گیا۔ تحیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق یہ جہاز اپنی اڑان کے کچھ ہی دیر کے بعد ایک دھماکے سے تباہ ہو گیا تھا بعد میں اس جہاز کا تیل اور ٹکڑے سطع سمندر پر تیرتے ہوئے ملے۔ اس جہاز کی تباہی کا سبب کاک پٹ میں گیس بھر جانے اور عملے کے ارکان میں سے کسی کے سگریٹ جلانے کی وجہ سے اس میں ہونے والے دھماکے کو بیان کیا گیا۔ ادھر ایونجر کی گمشدگی کے بارے میں تحقیق میں کہا گیا کہ ٹیلر سمت کے بارے میں دو راہے کا شکار تھا لیکن ٹیلر ایک ماہر پائلٹ تھا اور اس سے اس قسم کی غلطی کی کوئی توقع نہیں تھی۔

بعد میں اس تحقیق کو اس عنوان کے ساتھ بند کر دیا گیا کہ یہ واقعہ اس مثلث کی پر اسراریت کے عنوان میں بار بار دہرایا جاتا ہے۔ چارلس کی کتاب ”برموداٹرائی اینگل” میں ان ہوائی اور بحری جہازوں کے بارے میں طویل اورپراسرار کہانیاں لکھی گئی ہیں جو اس سمندری علاقے میں غائب ہوگئے تھے۔ اس میں خصوصی طور پر امریکی بحریہ کے پانچ تارپیڈو بمبار طیاروں کا ذکر کیا گیا ہے جو 5 دسمبر 1945ء کو یہاں پہنچ کر غائب ہو گئے۔ اس واقعہ میں 14افراد بھی ہلاک ہوئے۔ جہاز جب روانہ ہوئے تو موسم بہت سازگار تھا لیکن پھر اچانک خطرناک ہو گیا اور ہوا بازوں کے لئے سمت تلاش کرنا مشکل ہوگیا۔
 امریکی ماہرین نے ان جہازوں کو بہت تلاش کیا لیکن بے سود۔ اسے ”فلائٹ19” کا حادثہ کہا جاتا ہے۔ یہ کتاب ریکارڈ تعداد میں فروخت ہوئی۔ اس میں گمشدگیوں کی وجوہات کا ذکر ملتا ہے۔ مثلاََ حادثوں کی ایک وجہ اس علاقے میں بھاری آمدورفت بھی ہوسکتی ہے سمندری طوفان بھی ان حادثوں کا باعث ہوسکتے ہیں۔ ان دو سمجھ میں آنے والی وجوہات کے علاوہ کئی ایسے اسباب کا ذکر بھی کتاب میں ہے جو ماورائے عقل ہیں۔ مثلاَ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ ان گمشدگیوں کا باعث ٹمپرل ہولز (Temporal Holes) بھی ہو سکتے ہیں۔ برمودامثلث میں اب تک جتنے بھی جہاز غائب ہوئے ان کا آخری پیغام بھی یہی موصول ہوا کہ”اب ہم سفید پانی پر آگئے ہیں” اور اس کے بعد ابدی خاموشی چھاگئی۔ اس مثلث کے بارے میں دانشوروں اورسائنسدانوں کی سرگردانی صرف بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کو غائب ہوجانے سے متعلق ہی نہیں بلکہ اب تک ہزاروں پائلٹوں’ مداحوں اوردوسرے بحری و ہوائی سفر کرنے والے مسافروں نے اس منطقے کو عبور کرنے کے موقع پر بہت سی حیرت انگیز اور مافوق الفطرت باتوں کا مشاہدہ کیا ہے۔ ان پراسرار واقعات میں بھی یہ بات مشترکہ ہے کہ مسافر جب بھی اس ٹرائی اینگل کے قریب پہنچے ان کی گھڑیوں میں تعطل پیدا ہوگیا اور مشینوں نے اپنی حرکت بند کردی اور اس کا کنٹرول پائلٹوں اور ملاحوں کے اختیار میں نہیں رہا۔

موجودہ ریکارڈ کے مطابق پہلا بحری جہاز مارچ 1918ء میں لاپتہ ہوا۔ ”US Cyclons” نامی یہ امریکی جہاز تھا۔ بعض کے نزدیک پہلا بحری جہاز 1952ء میں یہاں ”اسکارپین” نامی امریکی ایٹمی آبدوز غائب ہوئی تھی۔ 23مارچ 1973ء کو ”آمتا” نامی امریکی مال بردار بحری جہاز غرق ہوا جبکہ1950ء میں سپین کے تین بحری جہاز سمندر کی تہ میں چلے گئے۔ بحری اور ہوائی جہازوں سے جو آخری ریڈیائی پیغام موصول ہوا وہ یہ تھا کہ ”ہمارے تمام آلات سے عجیب و غریب آوازیں آنے لگی ہیں” کے بعد مکمل خاموشی چھاگئی۔ پانچ امریکی تارپیڈو بمبار جہازوں کی غرقابی کے بعد عملے اور ملبے کی تلاش میں بھیجا جانے والا ہوائی جہاز بھی برمودا تکون کے اوپرپہنچے ہی پراسرار کشش کا شکار ہوگیا اور پھر اس کا بھی نام و نشان نہ مل سکا۔

آج کل کے جہازوں کے پاس تو اپنی موجودہ پوزیشن کو چیک کرنے
کے لئے بہت سے راستے موجود ہیں جن کا مطالعہ جی۔پی۔ایس ) (Global
Positioning Satellites) کے تحت کیا جاتا ہے اور اگر جہاز چلانے والا ان سب
آلات کو بہترین طریقے سے استعمال کرنا جانتا ہو تو ان حالات میں یہ بات
تقریبا ناممکن ہے کہ کوئی پائلٹ اپنا راستہ کھو دے ۔ لیکن 1945 میں پانی پر
اڑتے ہوئے اپنے ابتدائی نقطے کے بارے میں معلومات پر انحصار کیا جاتا تھا
کہ وہ کتنی رفتار سے کتنی دور اور کس سمت میں اڑ رہے ہیں اور اگر پائلٹ ان
میں سے کسی ایک کا بھی حساب نہیں رکھ پاتا تو وہ یقینآ گم ہو جاتا تھا
سمندر کے اوپر کوئی نشانیاں نہیں تھیں جو انہیں سیدھا راستہ دکھا سکتیں۔

برمودا ٹرائی اینگل کی حقیقت کیا ہے ، اس بارے میں کئی دہائیوں سے مختلف اندازے لگائے جاتے رہے ہیں ، مگر امریکی نیوی کا موقف یہی ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کا کوئی وجود نہیں۔ امریکی بحریہ کے ترجمان جیک گرین کا کہناہے کہ امریکی نیوی اور کوسٹ گارڈ ز یہ سمجھتے ہیں کہ سمندر ہوتا ہی خطرناک اور ناقابل بھروسہ ہے ۔اور برمودا ٹرائی اینگل کے بارے میں بھی ہمارا یہی کہنا ہے کہ اگرچہ یہاں حادثوں کا شکار ہونے والے ہوائی اور بحری جہازوں کی تعداد دنیا کے دوسرے سمندروں سے زیادہ ہو سکتی ہے پھر بھی ہم نہیں سمجھتے کہ یہ کوئی پر اسرار یا غیر معمولی صورتحال ہے۔

یہ امریکہ کا سرکاری موقف ہے ۔امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ سمندر کے اس تہہ کے نیچے کوئی مافوق الفطرت مخلوق یا گڑھے نہیں ہیں ، جو مسافر جہازوں کے ڈوبنے کا سبب بنے ہیں ۔ امریکی نیوی کے میڈیا ترجمان کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران لا پتہ ہونے والے جہازوں کے غائب ہو نے کی کوئی نہ کوئی سائنسی وضاحت یا وجہ موجود ہے ۔

لیکن جیک گرین کے مطابق ،برموڈا ٹرائی اینگل کی کچھ دلچسپ خصوصیات بھی ہیں ، جیسے کہ اگرقطب نما کی مدد سے اس علاقے کی نشاندہی کی کوشش کی جائے تو اسے حقیقی شمال کے رخ پر ہونا چاہئے ۔لیکن عام طور پر قطب نما حقیقی شمال کی بجائے مقناطیسی شمال کی طرف اشارہ کرتا ہے ،جو حقیقی نارتھ ویسٹ سے جنوبی مغرب کی جانب ہے ۔ اب اگر ہوائی جہاز یا بحری جہاز میں سمت کا تعین کرنے والے آلات یہ سراغ نہیں لگاپاتے ، تو ظاہر ہے کہ وہ راستہ بھٹک جائیں گے اور ایسا ہی سمندر کے اس علاقے میں ہوتا ہے۔

جیک گرین کا کہناہے کہ دوسری دلچسپ بات یہ ہے کہ برموداٹرائی اینگل سمندر کے ایسے حصے کے ساتھ ہے جو گلف سٹریم کہلاتا ہے ۔گلف سٹریم کا پانی گرم ہے جبکہ اس کے دونوں طرف کا پانی سرد ہے ۔ اس علاقے میں عموما خراب موسم اور طوفانی گرج چمک کے ساتھ سمندری طوفان یا ٹارنیڈوز آتے رہتے ہیں۔ امریکی حکومت اور کئی دیگر ملکوں کے سائنسدان بھی اس بات پر متفق ہیں کہ سمندر میں لہروں کی غیر معمولی کشش اور خراب موسم ہی وہ وجوہات ہو سکتی ہیں جو بحر اوقیانوس کے اس حصے میں لا تعداد حادثوں اورانسانی جانوں کے زیاں کا سبب بنی ہیں ۔اور یہی برمودا ٹرائی اینگل کےراز کا سب سے قابل قبول اور معقول جواب ہو سکتا ہے ۔

برمودا تکون کے بارے میں مختلف نظریات:۔

برمودا تکون کے بارے میں کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جگہ ایک دروازے کی حیثیت رکھتی ہے جہاں دوسری دنیا سے آنے والی مخلوق اس دنیا میں داخل ہوتی ہے۔ کچھ لوگ اسے وقت کا خلاء کہتے ہیں جہاں آنے والی ہر چیز وقت کے خلاء میں گم ہو جاتی ہے۔ کچھ لوگ اسے سمندر کی تہہ میں ڈوبے ہوئے اٹلانٹس کے سگنلز کی کارستانی قرار دیتے ہیں۔ لیکن سائنس اور ماہرین اس سب کو حقیقت کے منافی اور من گھڑت افسانوں سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہیں۔

اس کے علاوہ اس کا ایک سبب پانی کی تیز لہروں کو قرار دیا جاتا ہے جو ہر ہونے والے حادثے کے نشان کو اس طرح صاف کر دیتی ہیں کہ ان کا نشان تک نہیں ملتا۔اس کے علاوہ ایک وجہ علاقائی موسم بھی بتایا جاتا ہے جو اچانک بادو باراں اور طوفان کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے جہاز غائب ہوتے ہیں اور اموات واقع ہوتی ہیں۔ کچھ دانشور ایک وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں تین سمندروں گلف آف میکسیکو، اٹلانٹک اور کیریبئن کے پانیوں کا میلاپ ہوتا ہے۔ اور ان کے پانیوں کے آپس میں ٹکرانے کی وجہ سے اس میں ایسی مقناطیسی لہریں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے اوپر سے گزرنے والی ہر چیز کو اپنی جانب کھینچ لیتی ہیں۔ اور بعد میں تیز لہریں وقت کے ساتھ ساتھ اس کا نشان مٹا دیتی ہیں۔

  برمودہ تکون کے متعلق ایک خیال یہ بھی پایا جاتا ھے کہ اس علاقے میں زیرسمندر زمین سے میتھین کا اخراج ہو رہا ہے۔ جس کی وجہ سے پانی کی کثافت بہت کم ہو جاتی ہے۔ اور کوئی جہاز پانی میں تیر نہیں سکتا۔ یہی گیس جب فضا میں شامل ہو جاتی ہے تو پھر فضا میں ‌کسی بھی جہاز کے انجن میں ‌تیزی سے آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ اور وہ گر جاتا ہے۔  ناروے کی آرکٹک یونیورسٹی کے سائنس دان کہتے ہیں کہ انہوں نے بحیرۂ بیرنٹس میں موجود عظیم گڑھوں پر تحقیق کی ہے جو برمودا تکون کے راز بھی کھول سکتی ہے۔ یہ گڑھے ناروے کے ساحل کے ساتھ سمندر کی تہہ میں موجود ہیں جہاں میتھین گیس کے بڑے ذخائر پھٹتے رہتے ہیں۔ 150 فٹ تک گہرے اور نصف میل تک چوڑے ان گڑھوں پر تحقیق بتاتی ہے کہ میتھین گیس سمندر کی گہرائی سے نکلتی ہے۔ گزشتہ دو سالوں میں امریکا کی ریاست واشنگٹن اور اوریگون بلکہ مشرقی ساحلوں پر بھی سمندر سے میتھین گیس خارج ہونے کے شواہد ملے ہیں۔ گزشتہ سال سائبیریا کے برف زاروں میں بھی سائنس دانوں نے چار ایسے گڑھے دریافت کیے جو میھتین گیس خارج کرتے ہیں۔

بعض مفکرین کے نزدیک ایک سبب یہاں اٹھارویں اور انیسویں صدی میں برطانوی اور امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی ہے جن سے لوگوں کو دور رکھنے کے لئے یہ من گھڑت قصے گھڑے گئے۔ اب چونکہ اڈوں والا مسئلہ اتنا اہم نہیں رہا اس لیے ایک عرصے سے سمندر کے اس حصے میں ہونے والے پراسرار واقعات بھی نہیں ہوئے۔ کچھ مفکرین یہ بھی کہتے ہیں کہ یہاں امریکہ نے ایسی لیبارٹریاں بنا رکھی ہیں جہاں انسانوں کے خاتمے کے لئے مہلک ترین ہتھاروں کی تیاری اور تجربات کا کام کیا جاتا ہے۔ اور لوگوں کو اس کے بارے میں پتہ نہ چلے اس لئے یہ ڈرامہ رچایا گیا۔

بعض سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شدید سمندری طوفانوں میں جہاز برقی رو کا شکار ہوئے ہونگے جبکہ بعض ماہرین قیاس کرتے ہیں کہ اس علاقے کو سمندر میں موجود کوئی بہر ہی طاقتور مقناطیسی قوت بحری اورہوائی جہازوں میں نصب ریڈیائی آلات پر اثرانداز ہوجاتی ہے جس سے سارا نظام ہی معطل ہو کر رو جاتا ہے۔

کچھ مذہبی حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ برمودہ تکون اصل میں دجال کا مسکن ہے۔ بعض علما حدیث کی روشنی میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ دجال پیدا ہوچکا تھا اور
اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہےاور اس کی رہنے کی جگہ ایک بے آباد جزیرہ ہے
مزید اس کے کارندے اسے لمحہ بہ لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے ہیں۔ اور اسکے ظہور کے بعد اسکو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔

بہر حال افواہیں’ کہانیاں حقیقت اور اندازے جتنے بھی ہوں حقیقت یہ ہے کہ آج کی 21ویں صدی کی حیرت انگیز سائنسی ترقی کے باوجود  برموداٹرائی اینگل سائنسدانوں کے لئے ایک چیلنج ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں