582

برمودہ ٹرائی اینگل اور ڈریگن ٹرائی اینگل میں تعلق اور دجال کا ظہور قرآن و حدیث کی روشنی میں۔

برمودہ ٹرائی اینگل (Bermuda Triangle)، ڈریگن ٹرائی اینگل (Dragon Triangle) اور دجال میں کچھ حد تک مشترک خصوصیات پائی جاتی ہے۔ دجال کے متعلق ہمیں صرف مذہب سے ہی پتہ چلتا ہے اسلئیے ہم پہلے دونوں تکونوں کی مشترک چیزوں کا ذکر کریں گے اور پھر اس پر اسلامی نقطہ ذکر بیان کریں گے۔

برمودا تکون گزشتہ کئی دہائیوں سے انسانوں کے لیے ایک راز بنی ہوئی ہے۔ بحر اوقیانوس میں واقع امریکا کے شہر میامی سے جزیرہ پورٹو ریکو اور جزیرہ برمودا کے درمیان اس وسیع علاقے میں 165 سالوں کے دوران کئی واقعات پیش آئے جن میں 8 ہزار سے زیادہ افراد گم ہوگئے اور آج تک نہیں ملے۔ 1945 میں جب فلورایڈا سے اڑنے والے پانچ جہاز کہیں غائب ہوئے تب یہ ٹرائی اینگل منظر عام پر لائی گئی۔ ان جہازوں کو بہت تلاش کیا گیا مگر کہیں سراغ نہ مل سکا۔ آخر جب ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہے جن میں ہوائی جہاز ، کشتیاں فلوریڈا اور میامی کے سمندر سے گزرتے ہوئے کہیں غائب ہو جاتیں تو ان واقعات کا رخ برمودا ٹرائی اینگل کی طرف موڑا جانے لگا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک ایسی مصنوعی اور خود ساختہ تکون وجود میں لائی گئی جو انسان اور انسانیت کے لئے ایک راز رہ سکے اور جب وقت کی ضرورت ہو تو اس جگہ سے کچھ ظاہر کر کے لوگوں کے اذہان پر قابو پایا جاسکے اور یہ بتایا جاسکے کہ ہمارا نجات دہندہ ، دنیا کو بچانے والا ، اور یہودیوں اور عیسائیوں کا مالک (یعنی دجال) آگیا ہے۔
شیطانی مثلث جسے اژدہا مثلث (ڈریگن ٹرائی اینگل) بھی کہتے ہیں دراصل برمودہ ٹرائی اینگل کی طرح کا ایک پراسرار مقام ہے جو بحرالکاہل میں جاپان اور فلپائن کے نزدیک واقع ہے۔ یہ جاپان کے ساحلی شہر یوکوہاما ، ماریانا جزائر اور فلپائن کے جزیرے گوام کے درمیان واقع ہے۔ اس سمندر کو جاپانی لوگ مانواومی مانو اومی کہتے ہیں جس کے معنی شیطان کا سمندر ہے۔ برمودا تکون اور شیطانی سمندر پر تحقیق کرنے والوں میں ایک بڑا مشہور نام چارلس برلٹز کا ہے۔ وہ اپنی کتاب “دی ڈریگن ٹرائینگل” میں لکھتے ہیں: 1952 تا 1954 جاپان نے اپنے پانچ بڑے فوجی جہاز اس علاقے میں کھوئے ہیں۔ افراد کی تعداد 700 سے اوپر ہے۔ اس معما کا راز جاننے کے لیے جاپانی حکومت نے ایک جہاز پر 100 سے زائد سائنسدانوں کو سوار کیا۔ لیکن شیطانی سمندر کا معما حل کرنے والے خود معما بن گئے۔ اس کے بعد جاپان نے اس علاقے کو خطرناک علاقہ قرار دے دیا۔ یہ علاقہ بہت خطرناک ہے ۔ادھر ہی سے دجال کا ظہور ہو گا۔
بحر الکاہل کے شیطانی سمندر (Devil Sea) اور بحر اوقیانوس کے برمودا ٹرائی اینگل میں کئی خصوصیات کے اعتبار سے مماثلت پائی جاتی ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ ان دونوں میں کوئی ایسا تعلق ضرور ہے جو دنیا کی نظر سے پوشیدہ ہے اور یہ تعلق لازماً شیطانی ہے۔ رحمانی یا انسانی نہیں (کیونکہ جیسے پہلے عرض کیا کہ یہاں بہت سے حادثات رونما ہوچکے ہیں) مثلاً

1۔ دنیا میں یہی دو جگہیں ایسی ہیں جہاں قطب نما کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ دونوں میں متعدد ہوائی اور بحری جہاز غائب ہوچکے ہیں۔ انتہائی تعجب خیز بات یہ ہے کہ ان دونوں جگہوں کے درمیان ایسے جہازوں کو سفر کرتے دیکھا گیا جو سالوں پہلے غائب ہوچکے تھے۔

2۔ دونوں کے اندر ایسی مقناطیسی کشش یا برقی لہریں موجود ہیں جو بڑے بڑے جہازوں کو توڑ مروڑ کر نگل جاتی ہیں۔

3۔ دونوں کے درمیان اڑن طشتریاں اڑتی دیکھی گئی ہیں جنہیں امریکی میڈیا والے خلائی مخلوق کی سواری کہتے ہیں۔ امریکا کا یہودی میڈیا ان کے متعلق سامنے آنے والے حقائق چھپاتا رہتا ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کی جراءت کی اور ان حقائق کو منظر عام پر لائے تو انہیں قتل کردیا گیا۔ جیسے ڈاکٹر موریس جیسوپ اور ڈاکٹر جیمس ای میکڈونلڈ کو صرف اس وجہ سے قتل کیا گیا کہ یہ دونوں اڑن طشتریوں کو کھوجتے ہوئے اصل حقائق جان گئے تھے۔

4۔ دونوں جگہوں کو خواص و عوام قدیم زمانے سے شیطان سے منسوب کرتے ہیں اور یہاں ایسی قوتوں کی کارستانیوں کے قائل ہیں جو انسانیت کی خیر خواہ نہیں۔ لیکن ان کے گرد اسرار کے پردے آویزاں کر دیے گئے ہیں۔ وہ میڈیا جو بال کی کھال اور کھال کی کھال اتاردیتا ہے وہ اس راز کو کیوں چھپا رہا ہے ؟؟

اب ان باتوں کی حقیقت سوائے مخبر صادق ﷺ کے سوا کس سے پوچھی جائے ؟؟ آئیے اب ان کی زبانی ان باتوں کی حقیقت جانتے ہیں جنھیں اس وقت کے کفار و مشرکین بھی صادق الامین کہا کرتے تھے۔ایک دن حضور ﷺ نے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین کو جمع فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ ۔۔ تمیم داری پہلے عیسائی تھا ۔ وہ آیا ۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمھیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا تھا۔۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جزام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ سمندر کے سفر پر بحری جہاز میں روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں (طوفان کے سبب) انھیں مہینہ بھر تک ادھر اُدھر دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو ان کو ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت سے بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کا پتہ نہیں چلا رہا تھا۔ انہوں نے کہا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اُس بالوں والے جانور نے کہا: میں جساسہ ہوں۔
انہوں نے پوچھا: یہ جساسہ کیا چیز ہے ؟
جواب ملا: اے لوگو! خانقاہ (مراد گھر) میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ۔ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔ انہیں خوف ہوا کہ کہیں یہ جانور شیطان نہ ہو اور کہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھر کم قد کاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ گردن کے ساتھ بندھے ہوئے تھے۔
ہم نے پوچھا: تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے ؟
اس نے کہا: میرا پتہ تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو ؟
ہم نے کہا: ہم عرب سے ہیں (پھر ہم نے سارے سفر اور طوفان اور جساسہ کے بارے میں بتایا کہ اس نے ہمیں تیری طرف آنے کا کہا)۔
اس نے کہا: مجھے بیسان کے نخلستان (باغ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: میں جاننا چاہتا ہوں کہ اس باغ کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔ پھل آتے ہیں۔
اس نے کہا: مجھے طبریہ کی جھیل کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی موجود ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے۔
وہ بولا: اس کا پانی بہت جلد ختم ہو جائے گا۔۔ پھر اس نے کہا: مجھے زغر کے چشمے کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ اس کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتا ہے ؟
اس نے کہا: کیا اس میں پانی ہے اور کیا لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں ؟
ہم نے کہا: ہاں اس میں بہت پانی ہے اور لوگ اس سے اپنے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں۔
اس نے پوچھا: مجھے محمد(ﷺ) کے بارے میں بتاؤ ؟
ہم نے کہا: کہ وہ مکہ سے نکل کر یثرب (مدینہ) آ گئے ہیں۔
اس نے پوچھا: کہ کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی ؟
ہم نے کہا: ہاں۔
اُس نے پوچھا: کہ اس (حضرت محمد ﷺ) نے ان کے ساتھ کیا کیا ؟
ہم نے کہا: کہ وہ اردگر د کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انھوں نے اُن کی اطاعت قبول کرلی ہے۔
اس پر اُس نے کہا: کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے ؟
ہم نے کہا: ہاں۔۔
پھر اُس نے کہا: ان کے لیے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔۔
اب میں تمھیں اپنے بارے میں بتاتا ہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ
1۔ دجال پیدا ہوچکا تھا اور اب وہ اپنی رہائی کا منتظر ہے۔
2۔ اس کی رہنے کی جگہ ایک بے آباد جزیرہ ہے۔
3۔ اس کے کارندے اسے لمحہ بہ لمحہ دنیا اور انسانوں سے آگاہ کرتے ہیں۔
4۔ اس کو غیر معمولی طاقتیں دی جائیں گی۔
اب سوال یہ ہے کہ برمودا ٹرائی اینگل کو ہی اس کا اصل مقام کہا جائے ، جہاں پر کوئی جانے کی جراءت کرے تو اس کا نام و نشان صفحہ ہستی سے مٹا دیا جاتا ہے ؟؟
(یہ واقعہ سنانے کے بعد) حضور ﷺ نے اپنا عصاء مبارک منبر پر مار کر فرمایا، یہ ہے طیبہ۔ یہ ہے طیبہ (یعنی مدینہ منورہ) میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال نہ شام کے سمندر میں ہے اور نہ ہی یمن کے سمندر میں۔ نہیں وہ مشرق میں ہے۔۔ (اور حضور ﷺ نے مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ فرمایا)
(صحیح مسلم: حدیث 7208)
اب جزیرۃ العرب سے مشرق کی جانب دیکھا جائے تو دو جگہیں ہی ایسی ہیں جنہیں مغرب کے عیسائی بھی شیطانی سمندر، شیطانی جزیرے یا جہنم کا دروازہ مانتے ہیں۔۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ دونوں کا آخری سرا امریکہ سے جا ملتا ہے۔
مشرق بعید میں بحر الکاہل کے غیر آباد اور ویران جزائر آتے ہیں۔ ان کے اردگرد کے خوفناک پانیوں کا نام ہی شیطانی سمندر (Devil Sea) رکھ دیا گیا ہے۔ مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ آخر یہ شیطانی سمندر کا نام مغرب اور خصوصاً عیسائیوں نے کیوں دیا ؟؟ اگر مسلمان یہ نام رکھتے تو بات سمجھ میں آنا آسان بھی تھی۔۔ خیر یہ ابھی ہمارا موضوع نہیں۔۔ فی الحال ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا واقعی برمودا ٹرائی اینگل کا تعلق دجال سے ہے ؟؟
حدیث کے الفاظ دوبارہ پڑھئے۔۔ (دجال مشرق میں ہے) ۔۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر مبہم طور پر ہم مشرق کی طرف اشارہ کریں تو وہ اس کی گولائی کی وجہ سے مغرب (بحر الکاہل) تک پہنچے گا۔۔ مگر یہ ایک مبہم تاویل ہے۔ اس سے آگے مضبوط تاویل مصری محقق عیسی داؤد نے اپنی کتاب مثلث برمودا میں کی ہے۔
وہ لکھتے ہیں کہ پہلے دجال بحر الکاہل کے ان بے آباد اور ویران جزائر میں تھا اور حضور ﷺ کے وصال تک وہ بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ مگر ختم المرسلین ﷺ کے وصال کے بعد اسکی بیڑیاں ٹوٹ گئیں اور وہ آزاد ہوگیا ۔۔ مگر اسے خروج کی اجازت نہیں تھی لہٰذا وہ شیطانی سمندر (Devil Sea) سے شیطانی تکون (Bermuda Triangle) تک رابطے میں ہے۔ جس کے قریب شیطانی تہذیب پروان چڑھ کر نکتہ عروج کو پہنچنے ہی والی ہے۔
دوستو! ویسے تو قرب قیامت میں دجال کے منظر عام پر آ جانے پر کافی نشانیاں ہیں جو ان شاءاللہ آپ ہمارے اہم ترین مضمون سیریز (دجال کون ہوگا) کے اگلے حصوں میں پڑھ سکیں گے۔۔ لیکن جہاں تک صحیح مسلم کی اس حدیث میں موجود (دجال کے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے کیے جانے والے تین اہم اور بنیادی سوالات کا تعلق ہے) تو وہ سوالات دجال نے اسی لیے کیے تھے کیونکہ اسے پتہ تھا جب یہ تین نشانیاں بھی پوری ہو جائیں گی تو اسے دنیا کے سامنے آنے کی (یعنی خروج کی) مکمل اجازت مل جائیگی۔۔
سوال نمبر ایک میں بیسان کے نخلستان کا پوچھا گیا تھا اور اس نخلستان پر موجود درختوں کے پھلوں (کھجوروں) کا ذکر کیا گیا تھا۔۔ بیسان دراصل فلسطین کا علاقہ ہے جہاں دجالی ریاست اسرائیل کا قبضہ ہے۔۔ اور اب وہاں کوئی پھل پیدا نہیں ہوتا اور یوں دجال کے سامنے آنے کی یہ بہت اہم نشانی اور علامت پوری ہو چکی ہے۔
سوال نمبر دو میں طبریہ کی جھیل کا پوچھا گیا تھا۔۔ جہاں تک بات ہے بحیرہ طبریہ کی تو اس پر بھی اسرائیل کا ہی قبضہ ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا پانی بھی بہت تیزی سے خشک ہوتا جا رہا ہے۔۔ جس طرح پاکستان میں مشہور ترین دریائوں کا پانی انڈیا کی دشمنی اور چالاکی سے سوکھ رہا ہے اور کم ہو رہا ہے،، طبریہ کا پانی بھی کم ہوتا جا رہا ہے۔۔ بیشک آپ انٹرنیٹ پر سرچ کر لیں اور موجودہ حالات کی روشنی میں دیکھ لیں۔۔ یہ بات واضح ہو جائے گی کہ دجال کے دوسرے سوال والی نشانی بھی مکمل ہو چکی ہے۔
سوال نمبر تین میں زغر کے چشمہ کا پوچھا گیا تھا۔۔ زغر حضرت لوط علیہ السلام کی صاحبزادی کا نام ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی دو صاحبزادیاں تھیں۔ ربہ اور زغر ۔۔ بڑی صاحبزادی (ربہ) کو وفات کے بعد جہاں دفن کیا گیا تو قریب ہی ایک چشمہ تھا جو انکے نام سے منسوب ہو کر مشہور ہوا۔۔ اسی طرح چھوٹی صاحبزادی (زغر) کی وفات کے بعد انکی تدفین بھی ایک چشمہ کے قریب ہوئی اور وہ چشمہ زغر کے چشمے کے نام سے مشہور ہو گیا۔۔ دجال کی تفتیش اور تجسس کے عین مطابق یہ تیسری جگہ بھی دجالی ریاست اسرائیل میں ہی واقع ہے۔۔ اور اس کا پانی بھی پوری طرح خشک ہوتے ہی دجال کو نکلنے کی اجازت مل جائے گی۔
ویسے بھی ایک دوسری حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دجال کسی بات پر غضبناک (انتہائی غصے میں) نکلے گا اور منظر عام پر آ جائے گا۔۔ یوں یہ کہا جا سکتا ہے کہ موجودہ وقت اور مستقبل قریب میں جہاں یہ پانی خشک ہوتا رہے گا تو اللہ پاک کی طرف سے کچھ ایسے اسباب اور حالات و واقعات ضرور رونما ہونگے جس پر دجال کو سخت تشویش اور غصہ ہوگا اور وہ خروج کر جائے گا اور سامنے آ جائے گا۔۔ اب وہ ایسی کیا بات یا باتیں ہونگی،، واقعات ہونگے،، یہ سب غیب کی باتیں ہیں لیکن اتنا ضرور سمجھ آتا ہے کہ وہ دجالی ریاست اسرائیل،، دجالی چمچوں یعنی صیہونیوں اور یہودیوں ،، دجال پرست عیسائیوں ،، دیگر غیر مسلم مذاہب کے دجالی چیلوں اور نام نہاد مسلمانوں کے خلاف ہی کچھ ہوگا تبھی وہ اتنا غصے میں آ جائے گا۔۔ اللہ پاک اس عظیم ترین فتنے سے ہمیں اپنی امان میں رکھیں۔

 برمودا تکون کے بارے میں لکھنے کا مقصد معلومات میں اضافہ نہیں بلکہ ہمارے  پیارے نبی ﷺ کی اس  تعلیم پر عمل  کرنا ہے جو آپ ﷺ نے یہاں اپنے صحابہ  کو فتنوں کے بارے میں دی۔ آپ ﷺ نے اپنی امت  کے بارے میں بہت فکر مند رہتے تھے اور ان کو تمام فتنوں سے بار بار آگاہ  فرماتے تھے  ۔ آپ ﷺ نے اپنی امت  کو دجال سے ڈرایا ہے تاکہ امت اس  فتنے سے غافل نہ ہوجائے ۔

ڈریگن شیطانی سمندر اور برمواد تکون :۔

 بڑے بڑے جہازوں کا  پرسکون سمندر میں  بغیر  کسی خرابی یا حادثے  کے اچانک غائب ہوجانا ۔کبھی مسافروں  کا  بچ جانا اور جہازوں  کا اغوا کیاجانا، کبھی جہازوں  کا صحیح حالت میں بچ جانا  اور مسافروں  کا اغوا کرلیاجانا۔ فضاء میں اڑتے  جہازوں  کا اچانک گم ہوجانا۔ان کا غائب  ہونا اتنا تیز ہوتا کہ کسی شخص  کو ایمرجنسی  پیغام بھیجنے کی مہلت بھی نہ ملتی ۔ اور حیرت  یہ ہے کہ کسی کا کوئی نام ونشان  نہ مل سکا۔ اگر چہ  بعض ماہرین  کی طرف سے   یہ باور کرانے  کی کوشش کی جاتی  رہی کہ اس جگہ سمندر کےاندر تیز  طوفان  آتے ہیں جن کی شدت  سے یہ جہاز ٹکڑے ٹکڑے  ہوجاتے  ہیں لیکن اس تشریح  کو انسانی  ذہن تسلیم نہیں کرسکتا کیونکہ جدید ٹیکنالوجی  کے اس دور میں انسان  نے سمندر کی گہرائیوں میں  پہنچ  کر تحقیق کی سمندری جانوروں  پر تحقیق  کے لیے ان کےجسموں سے کیمرے لگاکر  انکی نقل  وحرکت  پر نظر رکھتے ہیں تو کیا برمودا تکون  میں غائب  ہونے والے جہازوں کا   ملبہ  نہیں ڈھونڈ سکے ۔
اکثر  محققین اس بات پر  متفق  ہیں برمودا تکون میں  پرا سرار کشش ہے  جو ہماری  کشش سے مختلف  ہے ۔

 ڈریگن تکون :۔  ـ( شیطانی سمندر )

 برمودا  تکون کی طرح جاپان  کا ڈریگن  تکون بھی پر اسراریت  اور حادثات  کی وجہ سے مشہور ہے ۔
ماہرین  کے خیال میں یہاں حادثات  کی تعداد  برمودا تکون  سے زیادہ ہے ۔ یہاں ایسے جہاز اورآبدوزیں بھی غائب  ہوئیں ہیں جن میں خطرناک  ایٹمی مواد  بھرا ہوا تھا۔
 یہ علاقہ  بحر الکاہل میں جاپان  کے ساحلی شہر  “یوکو پاما” سے  فلپائن  کے جزیرے   ” گوام” تک  اور ” گوام ”  سے پھر جاپان  کے ” ماریانا ” جزائر تک پھر  “ماریانا “سے  ” یوکوہاما ” تک  بنتی ہے ۔
برمودا کا محل وقوع :۔ برمودا بحر اوقیانوس کے کل 300 جزیروں  پر مشتمل  علاقہ ہے جن میں اکثر غیر آباد اس تکون کا کل رقبہ  1140000  مربع کلو میٹر  ہے اس کا شمالی سراجزائر  برمودا، اور جنوب  مشرقی سر “پورٹوریکو” اور جنوب مغربی سرا “میامی ” (فلوریڈا ) میں بنتا ہے ۔ فلوریڈا کے معنی ہے “اس خد اکا  شہر  جس کا انتظار کیاجارہا ہے ۔
کریسٹو فر کولمبس :۔ کریسٹو کولمبس   (1451.1506 )  جب اس  علاقے  سے گزرا  تو ا س نے بھی یہاں  کچھ  عجیب وغریب  مشاہدات کیے ۔ مثلا  آگ  کے گولوں کا سمندر کے اندر داخل ہونا۔ اس علاقے  میں پہنچ کر  کمپاس میں بغیر  کسی سبب کے خرابی  پیدا ہوجانا وغیرہ ۔

برمودا تکون اور شیطانی سمندر میں تعلق :۔

 برمودا تکون اور شیطانی سمندر میں  بہت گہراربط   ہے ۔ ماہرین کے مطابق  بہت سے ایسے شواہد  موجود ہیں  کہ گمنام  طیاروں اور جہازوں کو  ایک تکون سے  دوسری تکون  کی طرف سفر کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ یہ دونوں تکون  ایک ہی طو ل البلاد  وعرض  البلد (35)پرواقع ہیں ۔برمودا کی  طرح شیطانی سمندر میں بھی  اڑن   طشتریوں کا آنا  جانا اور پانی میں داخل ہونے اور نکلنے  کے متعدد واقعات موجود ہیں ۔ خالی جہاز سمندر میں تیزی سے سفر کرتے نظر آتے ہیں۔
مختلف نظریات :۔ برمودا میں غائب   ہونے والے اکثر  طیارے ،  بحری جہاز اور کشتیوں  کا تعلق امریکہ اور برطانیہ  سے رہا ہے ۔ لیکن حیرت کی بات  یہ ہے کہ ان دونوں  حکومتوں  نے نہ تو کبھی اس معاملے کو سنجیدگی سے  لیاہے  اور نہ ہی اپنی پروازوں  کو اس  علاقے  کے اوپر سے گزرنے  پر پابندی  لگائی  ہے ۔ بلکہ  جتنی بھی تحقیقاتی کمیٹیاں بنی ہیں ان کی رپورٹوں  کو شائع  نہیں کیا گیا ۔ یوں لگتا ہے کہ دنیا کی حکومتوں  کو اس کی اجازت نہیں  ہے سب کے  ہونٹ سلے ہوئےہیں۔ مشہور کتاب  ” دی برمودا  ٹرائنگل مسٹری سولوڈ “کے مصنف  لیری کوشے” لکھتے ہیں :
” برموداتکون  میں  رونما ہونے والے حادثات  کوئی عجیب  وغریب  بات نہ تھے ۔ لیکن میڈیا  اور غیر  عقلی جذباتی لوگوں کے ذریعے اس کو اچھالا گیا ۔”
٭قدامت پسند عیسائیوں  کا خیال ہے  کہ برمودا تکون جہنم کا  دروازہ ہے  ۔
٭ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہاں پانی بہت گہرا ہے ۔
٭بعض کہتے ہیں کہ  برمودا کے سمندر میں پانی کے اندر زلزلے آتے ہیں ۔
٭ امریکہ کا ایک  فرقہ  برمودا کی حقیقت  روحانیت  سے جوڑتا  ہے ۔
٭ یہ حقیقت  ہے کہ وہاں پانی کے اندر چھوٹی چھوٹی  غاریں ہیں۔
٭مصری محقیق محمد عیسیٰ داؤد  کے مطابق شیطانی سمندر اور برمودا تکون  کا نے دجال کے زیراستعمال  ہیں۔اس نے باقاعدہ  قلعے نما محل بنایا ہوا ہے جو تکون کی شکل کا ہے ۔
تنقیدی جائزہ :۔ جہاں تک اس نظریے  کا  تعلق ہے کہ برمودا میں کوئی  غیر معمولی بات نہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ایسے لوگ  برمودا سے دنیا کی توجہ  ہٹانا چاہتے  ہیں۔ نظریہ  نمبر ایک یعنی برمودا تکون جہنم کا دروازہ ہے ۔ اس پر کسی تبصرے  کی ضرورت نہیں ہے۔
 دوسرا  یہ کہ  پانی کتنا ہی  گہرا  ہو موجودہ  سائنسی ترقی میں سمندر  کے اندر کی مکمل معلومات  سائنسدانوں نے اکھٹی  کی ہے۔ پھر  اتنے بڑے  بڑے جہاز وں میں سے کسی ایک کا ملبہ  بھی آج  تک کسی کو نظر  نہیں آتا؟
چوتھا یہ کہ اگر حادثات  کی وجہ زلزلے  ہیں تو پھر  جہازوں  کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟
البتہ  غاروں  کی نوعیت  اور شکل نہیں بتائی گئی یا  پھر   بتانے کی اجازت  نہیں ہے۔
جہاں تک  محمد عیسیٰ داؤد  کے نظریے  کا تعلق ہے  تو انھوں نے دجال  کے موضوع پر بہت  محنت  کی ہے اورکئی کتابیں  تصنیف کی ہیں۔ اور خود ان جگہوں پر  گئے  ہیں جہاں سے دجال  یا یہودی  خفیہ  تنظیم   فریمیسن کا کوئی  تعلق  رہا ہے ۔مثلا سویڈن ، مصر، فلسطین ، امریکہ ، برمودا شام وغیرہ  ۔
برمودا کے اندر طاقت  ور قوت وتوانائی  کی موجودگی  کواکثرسائنسدان  تسلیم کرتے ہیں ۔
 وہ کون ہے  ؟
 اس قوت  کشش کو اتنے  منظم انداز میں استعمال کرنے والا کون ہے ؟جو فضاء میں اڑنے والے طیاروں  کو  غائب  کردیتا ہے  اگر اس علاقے  کے اوپر  سیٹلائٹ اور موسمی سیارے  تصویر یں نکالیں تو کیمرے  کی فلم صاف ہوجاتی ہے ۔ برمودا   کے اندر موجود خفیہ  قوت اتنی جدید ٹیکنالوجی کی مالک ہے  کہ ہزاروں کلو میٹر  سے کیمروں  کی  فلم صاف کرنے کی صلاحیت  رکھتی ہے ۔

وقت  کا تھم جانا :۔

ایسٹرن ائیر لائینز کو دوران پرواز شدید جھٹکا لگا اور وپ راستہ بھٹک  گیا۔ لیکن پھر بھی صحیح سلامت زمین  پراتر گیا۔ طیارے   کے مسافروں نے دیکھا کہ ان سب  کی گھڑیوں   کی سوئیاں بند  پڑی  تھیں۔یہ ٹھیک وہ وقت تھا جب  طیارے  کو  جھٹکا لگا تھا ۔
 وقت کا کسی اور جہت میں چلے جانے کا تصور البرٹ آئنسٹائن نے پیش کیا تھا۔
ہمارے پیارے نبی ﷺ نےا سی جانب اس سے پہلے اشارہ  فرمایا ہے ۔
“وہ  ( دجال )  دنیا میں چالیس دن رہے  گا ۔
پہلا دن  ایک سال کے برابر  دوسرا سن ایک مہینے  کے برابر اور تیسرا دن ایک ہفتے کے برابر  ہوگا۔ باقی دن عام دنوں  کے برابر ہوں گے ۔ ( مسلم شریف )
پینٹاگون کے ساتھ دجال کا رابطہ :۔
 دجال  پر تحقیق کرنے والے  اسرار عالم  کہتے ہیں کہ پینٹاگون یہودی  تعلیمات کے مطابق دجال کا عبوری  عسکری  ہیڈ کواٹر ہے ۔
اگر دجال متحرک ہے تو ان یہودی  خاندانوں سے وہ ضرور رابطے  میں رہتا ہوگا  ۔ ان کے بارے میں یہ جانتے  چلے گئے  کہ افغانستان  میں طالبان  کی پسپائی کے بعد  سب  سے پہلے  آنے والا یہودی ” راک فیلر ” فیملی کا ایک 22 سالہ لڑکا تھا۔ یہ خاندان ، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، عالمی  ادارہ صحت، اقوام متحدہ،جنگی جہاز بنانے والی کمپنیوں  ، جدید اسلحہ ، میزائل، خلائی  تحقیقاتی ادارے ناسا “فلمسار ادارہ ‘ ہالی وڈ جیسے اداروں  کا مالک ہے۔ یہ  خاندان  کٹر صیہونی مذہبی لوگ ہیں دجال اپنی  خدائی کے اعلان  سے پہلے  انہی کواستعمال کرتے ہوئے  اپنے لیے راہ ہموار  کرتا رہے گا۔
 قرآن وحدیث  سے بھی یہ ثابت ہے  کہ شیاطین   اپنے انسانوں میں موجود دوستوں کی مددکرتے ہیں ۔
هَلْ أُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ ﴿٢٢١﴾ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ ﴿٢٢٢
کیا میں تمہیں بتاؤں کہ شیاطین کن پر اترا کرتے ہیں
 وہ ہر ایسے شخص پر اترتے ہیں جو پرلے درجے کا جھوٹا گنہگار ہو۔ ( سورۃ الشعراء )
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيْعًا   ۚ يٰمَعْشَرَالْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ ۚ وَقَالَ اَوْلِيٰۗـؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّبَلَغْنَآ اَجَلَنَا الَّذِيْٓ اَجَّلْتَ لَنَا   ۭ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِيْنَ فِيْهَآ اِلَّا مَا شَاۗءَ اللّٰهُ   ۭاِنَّ رَبَّكَ حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ     ١٢٨؁
اور (اس دن کا دھیان رکھو) جس دن اللہ ان سب کو گھیر کر اکٹھا کرے گا، اور (شیطانین جنات سے کہے گا کہ) اے جنات کے گروہ ! تم نے انسانوں کو بہت بڑھ چڑھ کر گمراہ کیا۔ اور انسانوں میں سے جو ان کے د وست ہوں گے، وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم ایک دوسرے سے خوب مزے لیتے رہے ہیں۔ (٥٧) اور اب اپنی اس میعاد کو پہنچ گئے ہیں جو آپ نے ہمارے لیے مقرر کی تھی۔ اللہ کہے گا ؛ (اب) آگ تم سب کا ٹھکانا ہے، جس میں تم ہمیشہ رہو گے، الا یہ کہ اللہ کچھ اور چاہے۔ (٥٨) یقین رکھو کہ تمہارے پروردگار کی حکمت بھی کامل ہے، علم بھی کامل۔ ( سورۃ الانعام 128 )
وَمَنْ يَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَيِّضْ لَهٗ شَيْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِيْنٌ      36؀
اور جو شخص خدائے رحمن کے ذکر سے اندھا بن جائے، ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ (١١)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ  سے روایت ہے کہ انہوں نے حضورﷺ کو فرماتے سنا کہ ابلیس اپنا تخت  سمندر پر لگاتا ہے ۔  لوگوں کو فتنوں  میں ڈالنے  کے لیے وہ اپنے لشکر  روانہ کرتا ہے ۔ ( مسلم  شریف )

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں