96

مجھے اس شور سے بچا لو۔

وقت تیزی سے تبدیل ہورہا ہے۔ ہر روز نئی اختراعات اور نئی ایجادات سننے اور دیکھنے میں آرہی ہیں۔ کل تک عوام کے ووٹ سے عوام کے ہاتھوں عوام کے لئے بننے والی حکومت جمہوریت کہلاتی تھی۔ مگر آج کل عوام کے جوتے عوام کے ہاتھوں عوام کے سر پر مار کر الزام دوسرے پہ لگانا جمہوریت قرار پایا۔ کل کے علی بابا چالیس چور آج کے جہموریت پسند کہلائے۔ ان سے معافی بھی مانگی گئ اور خود کو جمہوریت کا نام دے کر ان سے جمہوریت بچانے کے لئے مشورے بھی لئے گئے۔

خیر سیاست میں سب چلتا ہے۔ اگر نہیں چلتا تو غریب کے روزگار کا پہیہ نہیں چلتا۔ بات ہورہی تھی نئی اختراعات کی۔ نئی تعریفوں کی۔ کل تک جس کی تعریف تھی آج مطعون ہے۔ اور کل تک جو مطعون تھا آج اس کی تعریف ہے۔ الفاظ کی تعریفیں بھی تبدیل ہوگئیں یا یوں کہیں کہ تعریف کو وسعت مل گئ ایسا ہی ایک لفظ ہے دہشت گردی۔ پہلے کسی جگہ بم پھاڑنا، کسی کو فائرنگ کرکے ہلاک کرنا، جہاز ہائی جیک کرلینا دہشت گردی کہلاتا تھا۔ مگر پھر اس لفظ میں ہم نے کچھ وسعت دیکھی کہ دہشت گردی صرف بم پھوڑنے، خودکش حملہ کرنے، فائرنگ کرنے اور جہاز ہائ جیک کرنے ہی کا نام نہیں ہے بلکہ عوام کے وسائل پر قابض ہونا، ان سے اپنی جائیدادوں میں اضافہ کرنا، ملاوٹ، رشوت غرض ہر وہ طریقہ جس سے عوام کو نقصان ہو ان کی جان و مال کو خطرہ ہو دہشت گردی کہلاتا ہے۔ بالکل ٹھیک واقعی یہ بھی دہشت گردی ہے کہ خوراک اور صحت کی سہولیات کی کمی سے سینکڑوں بچے مر جائیں، ناقص منصوبہ بندی اور ٹھیکوں میں کمیشن کے باعث کسی پروجیکٹ، کسی بند کے ٹوٹ جانے یا بہہ جانے کی وجہ سے کسی کی موت واقع ہوجائے تو یہ بھی دہشت گردی میں شمار کیا جانا چاہیئے۔

یہاں ہم دہشت گردی کے لفظ میں اگر تھوڑی سے وسعت اور دے دیں تو شاید حلقہ یاراں پر گراں نہ گذرے۔ اگر ہر اس کام کو جو کسی کے ساتھ زبردستی کیا جارہا ہے دہشت گردی کہہ دیا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا۔ کیوںکہ اس سے فرد کی آزادی، اور زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ اور آج کل ہماری زندگی پر جو سب سے زیادہ اثر انداز ہے وہ لاوڈ اسپیکر ہے۔ مجھے یہاں اس کے ایک اور نقصان کو بیان کرنا مقصد ہے اور وہ ہے اس کا زیادہ استعمال۔ لاوڈ اسپیکر کا استعمال جہاں انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہا ہے وہیں اس کا زیادہ اور فضول استعمال بھی کیا جارہا ہے۔

 پہلے کہیں میلاد، مجلس یا کوئی درس کا پروگرام ہوتا تھا تو لوگ خود سننے جاتے تھے مگر اب یہی خدمت لاوڈ اسپیکر سے لی جارہی ہے۔ کوئی سننا چاہے نہ چاہے، کوئی بیمار ہو یا کسی نے امتحان کی تیاری کرنا ہو ان سب سے لاتعلق مسجد یا کسی کے گھر پہ منعقدہ محفل میں لگا لاوڈ اسپیکر کئی کئی گھنٹے آپ کو فیض یاب کرتا رہے گا۔ صرف یہ ہی نہیں ہم ایک دوسرے کو زبردستی کے شور سنانے کے شوقین سے ہوگئے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں لگے ہوئے بے ہنگم اور تیز گانے جو مسافروں کے سر میں درد کر دیتے ہیں کسی دہشت گردی سے کم تو نہیں ہیں۔ ذہنی امراض میں اضافہ کی کئی اور وجوہات کے علاوہ یہ صوتی آلودگی یعنی شور بھی تو ہے۔ ہم اگر کسی کو سکون نہیں دے سکتے تو کم سے کم بے آرام تو نہ کریں اسے ذہنی دباو اور درد تو نہ دیں۔ اس لئے میری گذارش ہے
اے صاحبان عقل و شعور۔ 
اپنی مستیوں میں مسرور۔ 
اپنی خوشیوں میں خوش رہو لیکن۔
کوئی تو حل اس کا بھی نکالو۔
مجھے اس شور سے بچالو۔



تعارف: سید علی اکبر عابدی، حیدرآباد پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ بورڈ آف ریونیو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں