116

ووٹ کی طاقت یا بوٹ کی طاقت۔

یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی ملک میں عوام ہی طاقت کا سرچشمہ ہوتے ہیں اور ان کی طاقت کا سر چشمہ ووٹ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر وہ کسی کو بھی منتخب یا مسترد کر سکتے ہیں۔

میں خود بھی آمریت کے خلاف اور جمہوریت کا حامی ہوں۔ مگر کیا کریں اس دیس کے نظام کا کہ جس کی تشکیل میں بوٹوں کا کردار وہی رہا ہے جو کسی عمارت میں بنیاد کا۔ آپ کوئی بھی پارٹی اٹھا کے دیکھ لیں اس کے ماضی میں کہ جب وہ نوزائیدہ پودا تھی اسی آرمی کی کیاری میں پھلنا پھولنا نصیب ہوا۔ مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، متحدہ قومی مومنٹ، مسلم لیگ قاف کے سر پر کیا کسی جرنل کا دست شفقت نہیں رہا؟ جب یہ پارٹیز خود اپنی نگہداشت اور حفاظت کے لئے کسی بوٹ والے کی محتاج ہیں تو کیوں کر ممکن ہے کہ ان کو ووٹ دینے والا اسی بوٹ سے اختلاف کرسکے جس کی وہ پارٹی مرہون منت ہے جسے وہ منتخب کرنے جا رہا ہے۔

سوال صرف اتنا سا ہے کہ جب عوام اپنے ووٹوں سے انہیں منتخب کرتے ہیں تو ان کے جانے پر مٹھائیاں کیوں بانٹی جاتی ہیں؟ صف ماتم کیوں برپا نہیں ہوتی؟ ہونا تو یہی چاہیئے کہ محبوب پارٹی اور لیڈر کے اس طرح نکالے جانے پر عوام سڑکوں پر اس طرح نکل آئیں کہ آمر کو خود اقتدار چھوڑ کر عوامی رائے عامہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑے۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ کیوں نہیں ہوا؟ اس کی وجہ صاف اور سیدھی ہے کہ کبھی پاکستان میں حکومت عوام کے ووٹوں سے بنی ہی نہیں۔ یہ بات نہیں ہے کہ عوام کے ووٹ کوئی معنی نہیں رکھتے مگر کچھ ایسا ضرور ہے کہ جو رات تک ہارنے والے کو صبح جیت کی نوید سناتا ہے۔ جو پولنگ کا وقت شام ۵ بجے ختم ہوچکنے کے باوجود نواز شریف کے ہاتھ میں مائیک پکڑوا دیتا ہے جس میں نواز شریف استدعا کرتے ہیں کہ ہمیں دو تہائی اکثریت سے جتوائیں۔ اگر یہ عوام سے درخواست تھی تو عوام تو ۵ بجے اپنا کام کرکے جا چکی تھی۔ شاید یہ ان سے خطاب تھا کہ جو اسلام آباد چھوڑ کر مٹیاری میں آبیٹھے تھے اور تمام آر اوز کو مانیٹر کیا جارہا تھا۔

بہت معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ پاکستان جیسے ملک میں عوام کی حیثیت ایک تشو پیپر سے زیادہ نہیں ہوتی جن کو استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ ان کا شناختی کارڈ تو ہوتا ہے مگر شناخت نہیں ہوتی بالکل اسی طرح جیسے ان کی پیدائش تو ہوتی ہے مگر یوم پیدائش نہیں منایا جاتا۔ اگر واقعی پاکستان میں عوام اپنی شناخت رکھتے ہیں اور اتنے ہی طاقتور ہیں کہ کسی کو بھی اٹھا، یا گرا سکتے ہیں تو آج تک کسی حکومت کو گرایا، یا گرنے والی کو بچایا کیوں نہیں؟

چلیں تھوڑی دیر کے لئے مان بھی لیا جائے کہ صرف عوام ہی منتخب کرنے کی طاقت رکھتے ہیں اور بوٹ والے ان کے ووٹ پر اپنا پائوں رکھ کر اسے روند ڈالتے ہیں تو یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بوٹ خود اس پر آتا ہے یا یہ بوٹ کے نیچے جاتا ہے؟ جب عوام کی منتخب کردہ حکومت ہر معاملے میں فوج کی محتاج ہو۔ اداروں کو تباہ کردیا گیا ہو۔ کرپشن، اقربا پروری، کمیشن، لوٹ مار کی وجہ سے کوئی ادارہ اپنا کام ٹھیک نہ کررہا ہو ایسے میں کسی بھی افتاد کا سامنا کرنے کے لئے فوج آگے بڑھ کے عوام کو ریلیف پہنچاتی ہے۔ زلزلہ، سیلاب، طوفان، دہشت گردوں کا صفایا غرض کوئی تو ایسا کام ہو جس میں فوج کو بلایا نہ گیا ہو۔ صرف ان سول اداروں نے سو فیصد ریلیف دیا ہو جن کا سالانہ خرچہ یہ عوام اپنے ٹیکس سے ادا کرتی ہے۔

قانون قدرت ہے کہ کوئی بھی خالی جگہ ہمیشہ خالی نہیں رہتی جب جب جگہ خالی جگہ چھوڑی جائے اسے پُر کرنے کے لئے متبادل آجاتا ہے۔ اس لئے کسی بوٹ والے سے شکوہ کرنے کے بجائے اگر سوئیلین اپنا کام ایمانداری سے کرتے رہیں تو کوئی ان کی جگہ نہیں لے سکتا۔ پھر ووٹ کی طاقت بوٹ سے زیادہ ہوگی۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

تعارف: سید علی اکبر عابدی، حیدرآباد پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ بورڈ آف ریونیو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں