57

اعتراض یہ ہے کہ۔ ۔

ہم بھی عجیب قوم ہیں جسے صرف اعتراض کرنا آتا ہے بس۔ آپ اپنے گردوپیش پر نظر دوڑائیں ساتھ دینے والے بہت کم جب کہ اعتراض کرنے والے ان گنت نظر آئیں گے۔ کسی کی شادی ہو، سالگرہ ہو، بیماری ہو، یا موت میت۔ ایسا کیوں، ویسا کیوں نہیں؟، یہ کیوں، وہ کیوں نہیں؟، ہم کیوں، وہ کیوں نہیں؟، اور وہ ہی کیوں، ہم کیوں نہیں جیسے عجیب عجیب اعتراض جڑنے والے کئی رشتہ دار، عزیز و اقارب اور دوست یار ہمیں نظر آتے ہیں۔ جن کے اعتراض میں نکتہ چینی تو ہوتی ہے مگر تنقید برائے اصلاح یا تو بہت کم ہوتی ہے یا بالکل مفقود اور مدد تو بالکل ناپید ہی ہوتی ہے یعنی جناب کا کام صرف یہ تھا کہ آپ کو اپنی ذہانت سے مستفید فرما دیں باقی کام کو ٹھیک کرنے کا ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا ناں۔

جیسی روح ویسے فرشتے اور جیسی قوم ویسے حکمران کے مصداق ہماری حکومت بھی تو آخر اسی قوم کا حصہ ہے وہ کیوں نہ پھر اعتراض کرے؟ اسی لئے اس نے بھی باقی قوم کی طرح صرف اعتراض پر توجہ مرکوز رکھی ہے۔ پانامہ لیکس جب منظر عام پر آئیں اس وقت اعتراض یہ ہوا کہ اس میں وزیر اعظم کے بچوں کے نام ہیں ان کا نام تو ہے ہی نہیں۔ گویا بچے پیدا ہوتے ہی ان فلیٹس کے مالک بن گئے تھے۔ پھر جب ان لیکس کے نتیجے میں دنیا کے دیگر حکمران استعفیٰ دینے لگے تو یہاں بھی یہ مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ حکومت نے پھر اعتراض کردیا کہ جب وزیر اعظم کا نام ہی نہیں تو وہ استعفیٰ کیوں دیں؟ پھر معاملہ عدالت میں گیا تو اعتراض یہ اٹھایا گیا کہ عدالت اس کیس کو سن ہی نہیں سکتی۔ خیر عدالت نے کسی کی نہ سنتے ہوئے کیس کو سن بھی لیا اور جے آئی ٹی بھی بنا لی۔ پھر مٹھائیاں تقسیم ہوئیں اور اپنی فتح کا جشن منایا گیا لیکن جب جے آئی ٹی نے اپنی کاروائی شروع کی تو بے چاری عادت سے مجبور حکومت نے اس پر بھی اعتراضات شروع کردئیے۔ کبھی اس کے دائرہ اختیار پر کبھی اس کے ارکان پر۔

خیر جیسے تیسے جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ عدالت کو جمع کروا دی اب حکومت اس پر بھی اپنے اعتراضات لے کر اسی سپریم کورٹ کے پاس گئی ہے جس نے جے آئی ٹی بنائی تھی۔

خیر ان سب باتوں سے سب لوگ واقف ہیں ان کو یہاں بیان کرنے کا مقصد تحریر کی طوالت نہیں تھی صرف یہ بتانا مقصود تھا کہ ہماری سرشت میں شاید اعتراض اٹھانا ہی رہ گیا ہے آپ مندرجہ بالا تمام واقعات اور جو کچھ ابھی بھی کیا جا رہا ہے پر نظر ڈالیں آپ کو صرف اعتراضات ہی نظر آئیں گے۔ کاش جتنی کوشش حکومت نے اعتراض اٹھانے میں صرف کی اس کی آدھی بھی اپنی صفائی میں کرلیتی تو یہ معاملہ اتنا الجھتا ہی نہیں۔ مگر چونکہ ہم عادت سے مجبور ہیں تو اسی لئے صرف وہ کام کرتے ہیں جو ہماری عادت ہو۔

سوال یہ نہیں ہے کہ حکومتی پارٹی کیوں اعتراض پر اعتراض اٹھا رہی ہے۔ اس نے تو ایسا کرنا ہی ہے جب کہنے اور کرنے کو کچھ نہ ہو تو پیچھے اعتراض ہی بچتا ہے۔ سوال یہاں یہ ہے کہ کیا ہم بھی اپنی زندگیوں میں کچھ ایسا ہی نہیں کرتے؟ جب کہ اس وقت ہمارے پاس کرنے اور کہنے کو بہت کچھ ہوتا بھی ہے مگر ہم صرف اعتراض کرنے میں مصروف ہوتے ہیں وجہ اس کی صرف اتنی ہے کہ یہ ہی سب سے آسان کام ہے۔ مدد کرنے میں پیسہ اور وقت دونوں لگتے ہیں جب کے اعتراض کرنے میں صرف الفاظ۔ کاش کہ ہم اپنی زندگیوں سے ہر اس برے کام کو نکال دیں جو ہمیں کوئی دوسرا کرتا ہوا نظر آتا ہے تو برا لگتا ہے۔ اگر ہم حکومت اور معاشرے کو برا کہنے کے بجائے خود کو اچھا کرنے میں مصروف ہوجائیں تو پھر قطرہ قطرہ سمندر کی طرح یہ معاشرہ خود ہی بہتر ہوجائے گا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

تعارف: سید علی اکبر عابدی، حیدرآباد پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ بورڈ آف ریونیو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں