105

نسوانی حسن اور مردوں کی نظریں۔

یہ دنیا بھی عجیب جگہ ہے بھانت بھانت کے لوگوں سے بھری ہوئی۔ کہیں گورے، کہیں کالے، کہیں چپٹی ناک والے، کہیں کھڑی ناک والے، کہیں پستہ قد، کہیں دراز قد۔ اور ان سب طبعیاتی درجات کے ساتھ ساتھ ان کے رہن سہن، رسم ورواج میں بھی کئی فرق موجود ہیں۔ دنیا میں ایسے تو کئی علاقے ہیں جو اپنے محل و قوع یا لوگوں کی وجہ سے دنیا کو حیران کردیتے ہیں مگر جو اہمیت افریقہ کو حاسل ہے وہ کسی اور علاقے کو نہیں۔ یہاں کے جنگلات، قبائل اور ان کا بودوباش دنیا کے لئے حیرتوں کا سمندر لئے ہوئے ہے۔

ایسی ہی ایک بات کا ہمیں کہیں پڑھ کے معلوم ہوا کہ افریقہ کے کچھ قبائل ایسے بھی ہیں جن کی عورتیں جسم کے اوپری حصے کو کھلا رکھتی ہیں اور نہ تو انہیں کوئی شرم آتی ہے نہ وہاں مرد حضرات مہذب دنیا کی طرح ان کی طرف للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں۔ ایسے مناظر قدیم تہذیبوں پر بننے والی فلموں میں تو نظر آتے تھے جن میں خواتین مردوں کی طرح اوپری حصے کو کھلا رکھتی تھیں مگر آج کی اس تہذیب یافتہ دنیا میں اس طرح کی قدیم تہذیب کا ہونا بھی کچھ کم حیران کن نہیں ہے۔

اس سے بڑھ کے بھی حیران کن امر یہ تھا کہ جب ان خواتین کو یہ بتایا گیا کہ یورپ، امریکہ یا باقی تہزیب یافتہ دنیا میں عورتوں کی چھاتیوں کو خاص اہمیت حامل ہے اور مردوں کی دلچسپی کا باعث ہیں تو وہ ہنس کے کہنے لگیں کہ کیا دنیا کے تہذیب یافتہ مرد حضرات بچے ہیں؟ اور کیا ان چھاتیوں کا بچوں کو دودھ پلانے کے علاوہ بھی کوئی اور مصرف ہوسکتا ہے؟ انہیں کیا معلوم کہ جس چیز کو وہ صرف بچوں کی خوراک کا ذریعہ سمجھتی ہیں وہ جدید دنیا میں نسوانی حسن سمجھا جاتا ہے۔ اور اس حسن میں اضافہ اور مزید دلکشی کے لئے پوری انڈسٹری موجود ہے۔ کاش وہ جدید دنیا کے ان مردوں کو دیکھ پاتیں جنہوں نے عورت کو کچھ بنایا ہو یا نہ بنایا ہو مگر سیکس سمبل ضرور بنا دیا ہے۔ عورتوں کو مزید خوبصورتی حاصل کرنے اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کا جو خبط حاصل ہے وہ بھی مردوں کا ہی عطا کردہ ہے۔ کیوںکہ اگر یہ عورتوں کا خود ساختہ ایجنڈا ہوتا تو دنیا کے ہر کونے کی عورت ایسا ہی کرتی مگر چونکہ فحاشی کا مرکز عورت کا جسم نہیں مرد کا دماغ ہوتا ہے اس لئے یہ تہذیب سے دور قبائل جدید تہذیب کی اس کاریگری سے محفوظ ہیں۔

یہ انسانی فطرت ہے جس چیز سے منع کرو دماغ اور دل اسی کام کو کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں جس چیز کو خفیہ رکھا گیا ہو وہی چیز دیکھنے کا من کرتا ہے۔ یہ انسان کا تجسس ہے جو اسے آمادہ کرتا ہے۔ اشفاق احمد نے کہا تھا ’مرد دریافت کا پرندہ ہے جب دریافت کرلیتا ہے تو آگے بڑھ جاتا ہے‘ مرد کا تجسس اور دلچسپی صرف اسی چیز میں رہتی ہے جو اس سے خفیہ اور دور ہو۔ وہ جسے دریافت یا تسخیر کرلے اس میں اس کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ شاید یہ ہی وجہ ہو جو افریقی مردوں کو عورتوں کی چھاتیوں کی جانب نظر کرنے سے روک لیتی ہے یا پھر وہ اتنے متقی اور پرہیز گار ہیں کہ ان کی طرف نظر کرنا گناہ سمجھتے ہوں۔ خیر وجہ جو بھی ہے ہمارے دیس میں ہونا تو یہی چاہیے کہ یہاں کی خواتین افریقی خواتین جیسی ہوں نہ ہوں مگر مردوں کی نظریں افریقی مردوں جیسی ضرور ہوجائیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

تعارف: سید علی اکبر عابدی، حیدرآباد پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ بورڈ آف ریونیو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں