101

خواہشات کا سودا۔

ہم دونوں دوست چائے خانے کے سامنے سڑک کنارے رکھی کرسیوں پر بیٹھے چائے کی چسکیاں لے رہے تھے. جب وہ نئے برانڈ کی کار ہمارے سامنے سے گزری. پیچھے بیٹھے مالک سے میری شناسائی تھی. اس نے چلتے چلتےہاتھ اٹھا کر سلام کیا. میں نے بھی ہاتھ کا اشارہ کیا.

 
دوست نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور کہا، بس زندگیاں تو انکی ہوتی ہیں. یہ زندگی جی لیتے ہیں. پھر ساتھ کھڑی اپنی بائیک کی طرف اشارہ کیا اور کہنے لگا ایک میں ہوں اور ایک یہ میری پرانی بائیک اور روز کی نوکری.
میں نے پوچھا.. گر تمہیں اختیار ملے تو کیا اسکے ساتھ زندگی بدلنے کا سودا کرو گے..؟؟ لیکن سودے سے پہلے تمہیں مال کی تفصیل بتادوں.
 
تمہاری ایک محبت کرنے والی بیوی دو بچے ہیں. چھوٹا سا اپنا گھر ہے. مشقت سہی لیکن روز کا روزگار ہے. 

یہ صاحب ہوزری کا بزنس کرتے ہیں. کاروبار کا زیادہ سرمایہ بینکوں کا قرضہ ہے. مارکیٹ کا قرض اس کے علاوہ ہے. شوگر اور دل کے بیمار ہیں. تین بیٹے ہیں. بڑا عیاش اور انتہا درجے کا نافرمان ہے. منجھلا ذہنی کمزور گھر کا ایک بوجھ ہے. ساری امیدوں کا مرکز چھوٹا بچہ ہے. بچیوں کی معلومات نہیں، لیکن بیگم سے ہر وقت شاکی رہتا ہے. رشتہ داروں سے کٹ چکا ہے. بلکہ یہ ان سے وہ اس سے نفرت کرتے ہیں.
 
یہاں تک ہی کہا تھا کہ دوست نے کہا بس کر.. دفع کر.. میری زندگی میں اس سے زیادہ سکون ہے.  ☺️

میں نے کہا شکر کر اپنی زندگی پر. جس گاڑی کو دیکھ کر تم نے آہ بھری یہ بھی لیز کی ہے.
 
ہماری زندگیوں میں زیادہ تر حسرتوں کا جنم دوسرے کی زندگی کے ان حصوں سے جنم لیتا ہے جو ظاہری آنکھ نظر آتی ہیں۔ اگر سودا کرنے بیٹھ جائیں تو یہ حسرتوں کا بازار ہی بند ہوجائے گا۔
قناعت اور شُکر کرنا سیکھیں. یہ عادت اپنی نعمتوں پر نگاہ مرکوز رکھتی ہے. اور بےشک شُکر میں بہت برکت ہے.
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {font: 12.0px ‘.Apple Color Emoji UI’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں