106

چونکہ ہم حکمران ہیں۔ ۔ ۔ ۔

واہ۔ کیا الفاظ ہیں!

 یقین جانئیے آج مریم نواز شریف کے یہ الفاظ سن کر خود کو کچھ کہہ گزرنے سے نہیں روک  پائی۔ یہ گھمنڈ، یہ غرور، یہ نشہ! میرے اللّہ کے یہاں لفظوں کی بڑی سخت پکڑ ہوا کرتی ہے۔ میری دعا ہے کہ آج ان الفاظ کو میرا رب غریبوں کی آہ کے بدلے جمع خاطر کر لے۔ ان ظالموں کی نااہلی اور لاعلمی کی تو حد یہ ہے کہ یہ نہیں جانتے کہ خود کو اس قوم کے چنیدہ ’خادم ‘ کہہ دینا، مسلط ’حکمرانی‘ کے دعوے سے بہتر ہے۔

مریم نواز صاحبہ کی تو میں ذاتی نقاد ہوں۔ ان کو تو میں لا شعوری طور پر کئی برس فالو کرتی رہی، بھلا کیوں؟ کیونکہ آرمی میڈیکل کالج میں جس کا حق مار کر انھوں نے سیٹ حاصل کی تھی، میں ہی وہ کنڈیڈیٹ ہوں۔ مجھے آج بھی یاد ہے جب آرمی میڈیکل کالج کے ایڈمشن آفس میں بیٹھے فوجی وردی میں ملبوس آفیسر نے مجھے بتایا تھا کہ میں نے 786 مارکس کے ساتھ سیٹ کوالیفائی کی مگر وہ سیٹ مریم نواز کو765 مارکس کے ساتھ دے دی گئی کیونکہ وہ وزیر اعظم کی بیٹی ہے۔ میں پہلی بار وہیں ان کے نام سے روشناس ہوئی۔ وہ سفید روشن دن مجھے کبھی نہیں بھولا کیونکہ اس دن زندگی میں پہلی بار میں نے سب کچھ بے معنی ہو جانے کے احساس کا ادراک کیا تھا۔ اور دفتر کی وہ کھلی کھڑکی جس کے اس پار میں آنسو پی گئی تھی، میرے دل میں ایک بے یقینی کا استعارہ بن کے ہمیشہ کے لئے کھلی رہ گئی۔ میڈیکل کی سیٹ کے لئے میرا حق مارنے والی یہ لڑکی چونکہ’حکمران خاندان‘ سے تھی تو مجھ جیسی ’عام‘ لڑکی کی مات یقینی تھی۔ اپنی ناکامی کے دکھ سے زیادہ یہ ملال میرے دل میں سال ہا سال پلتا رہا کہ عہدوں کا ناجائز استعمال اس طرح جب ایک آنکھ سے خواب چھینتا ہے تو اس کے اثرات معاشرے کے کتنے لوگوں پہ پڑا کرتے ہیں۔ اور سوچئے کہ جب لوگوں کے حقوق اجتماعی حیثیت سے لوٹے جائیں تو قوم کیوں نہ اس خیبت (جھنجھلاہٹ) کا شکار ہو جس کا شکار آج ہماری قوم ہے۔

ان ’حکمرانوں‘ کا دم بھرنے والوں پر آفرین ہے جو ان کو ہاتھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں۔ جن کو اپنی نااہلیت پر اس قدر یقین ہے کہ اپنے عہدوں کا وقار مسمار کر کے مریم نواز جیسی بے عہدہ خاتون کو سیلوٹ کرتے ہیں۔ مریم نواز کو بے عہدہ کہنا اس بنیاد پر بجا ہے کہ یہ اپنی قابلیت یا اہلیت سے کسی سیٹ پر نہیں بیٹھیں، بلکہ صرف اس لئے عہدوں پر غاصب رہی ہیں کہ یہ ’حکمران‘ خاندان سے ہیں۔ مجھے خوشی ہوئی یہ دیکھ کر کہ وقت، عہدوں اور اختیار کے باوجود، مریم نواز آج بھی کسی منطقی سوال کا مدلّل جواب دینے کے قابل نہیں۔ صحافیوں کے سوالوں سے بچ کر نکل جانے والی مریم نواز، آج بھی مجھے سفارشی ہی لگی۔ ہنسی آتی ہے اس بات پر کہ ا ن جیسے لوگوں کو یہ علم ہی نہیں ہوتا کہ کس جگہ انھیں سوال کرنا ہے اور کس جگہ صرف جواب دینا ہے۔ کوئی بتائے انھیں کہ آج بحیثیت ملزم جب آپ جے آ ئی ٹی کے سامنے حاضر ہوئی ہیں تو سوال آپ نہیں، جے آئی ٹی آپ سے پوچھے گی۔ آپ تو جواب دہ ہیں یہاں۔ نالائقی کی انتہا تب عیاں ہوئی کہ جب آپ فرماتی ہیں کہ پتہ تو چلے کہ ہم پر الزام کیا ہے؟ بات تو درست ہے۔ سوال سمجھ میں آئے گا تو جواب دیں گی ناں۔ اور مجھے یقین ہے کہ یہ خاتون بحیثیت طالب علم بھی اتنی ہی نا لائق ہوا کرتی ہوں گی جن کے لئے کافی تگ و دو کے بعد مذکورہ بالا نمبر حاصل کیے گئے ہوں گے جس کے بعد کا تعلیمی کیرئیر بھی خاصا مشکوک نظر آتا ہے۔ تقدیر کہئے یا ان کی آزمائش، کہ ’ حکمران‘ خاندان میں پیدا ہونے کی وجہ سے  گورنمنٹ یوتھ بزنس ونگ کی صدر بن جاتی ہیں اور نہ جانے کیا کیا کچھ۔ اب قوم کے نوجوانوں کے معاملات جن کے ہاتھ ہوں ان کی نا اہلی کا کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی ثبوت ہوگا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے زیادہ پریشان حال طبقہ نوجوان ہیں۔

الزامات یوں تو بہت ہیں مریم بی بی آپ پر مگر آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ آپ جے آئی ٹی کے آگے اس لئے حاضر ہوئی ہیں کہ آپ نے کہا تھا کہ میں مان جاؤں گی اگر کوئی ثابت کر دے کہ آپ کی لندن میں یا پاکستان میں کوئی پراپرٹی ہے۔ تو جب یہ کھوج لگ گیا کہ پراپرٹی نہیں بلکہ پراپرٹیز ہیں تو اب آپ کو ان پراپرٹیز کو جسٹیفائی کرنے کے لئے بلایا گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ یہ سب ناجائز طریقے سے بنائی گئی پراپرٹیز ہیں، ملک و قوم کا پیسہ لوٹ کر یا اختیارات کے استعمال سے ڈھیروں ڈھیر پیسہ بنا کر۔ با لکل اسی طرح جیسے آپ کے شوق کی خاطر کبھی میرا حق مارا گیا تھا اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے۔

مگر دراصل مریم نواز شریف کی پرورش اس متھ پر ہوئی ہے کہ جن سے وہ مخاطب ہیں، ان کی سوچ کبھی اِن کے پیدا کردہ خوف سے آگے نہیں جا سکتی۔ حکمرانی کا ڈنڈا سر پہ نہ پڑ جائے، کوئی بولے گا ہی نہیں۔ مگر اب وقت ہے جاگ جانے کا۔ اور ان کی اصلیت کو سمجھ جانے کا۔ اپنے حق کو پہچاننے اور اپنے حقوق کی بات کرنے کا۔ پاکستان بائی برتھ ایک جمہوری ملک ہے۔ اس کو نہ ’حکمرانی ‘کے لئے حاصل کیا گیا تھا، نہ ہی یہاں کسی کی ’حکمرانی ‘چل سکتی ہے۔ بلکہ یہ وطن تو حاصل ہی حکمرانوں (ہندو اکثریت اور انگریزی سامراج) سے نجات حاصل کرنے کو کیا گیا تھا۔ اب جو یہ الفاظ سننے کو ملیں تو تف نہ کہئے ان کی سوچ پر۔ ان کے الفاظ کا انتخاب، دراصل ان کی سوچ کا غماز ہے۔ ان کی خام خیالی کو دور کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ کس بات کی ’حکمرانی‘؟ ان کو منتخب کرنے کا مقصد اس وطن عزیز کے لئے ان کی خدمات حاصل کرنا ہے۔ یہ پبلک سرونٹس ہیں۔ ’حکمران ‘ نہیں۔

ہماری قوم کے دکھ درد کی وجہ ہی یہ ہے کہ اس معاشرے کے بیشتر افراد کو اپنی اہمیت اور اپنی طاقت کا اندازہ ہی نہیں۔ چند افراد اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی خاطر خود تو ایسے نا اہل حکمرانوں کے آگے جھکتے ہی ہیں، بلکہ پوری قوم کو بھی یرغمال بنا ڈالتے ہیں۔ اور بدلے میں مریم نواز جیسی ایک انتہائی عام کیلیبر کی خاتون کو یہ سرخوشی ملتی ہے کہ یہ ’حکمران‘ ہیں۔ کیا صرف اس لئے کہ وہ وزیراعظم کی بیٹی ہے؟ کوئی ہے اس خاتون سے پوچھنے والا کہ کس عہدے یا اختیار کے تحت یہ پرائم منسٹر ہاوئس میں بین الاقوامی لیڈران اور عہدیداران سے ملاقاتیں کرتی ہیں؟ کس کوالیفیکیشن کی بنا پر ان کے سپرد ملک و قوم کے سکیورٹی معاملات کیے جاتے ہیں؟ ان کے والد محترم نواز شریف صاحب ’حکمران‘ ہونے کی حیثیت سے قوم کو صرف یہی سبق سکھانے میں کامیاب رہے ہیں کہ’ جس کی لاٹھی، اس کی بھینس‘۔ تو یہ بھینس ہی اب لاٹھیاں کھا کھا کر سیانی ہو جائے نا! یہ سمجھ جائے نا کہ ان کے لئے ان کی اولاد ہی سب کچھ ہے تو ہم اپنی اولادوں کی زندگیاں ان کے ہاتھ میں کیوں دیں؟ خدارا، اپنے لئے اور اپنی اولادوں کے لئے حکمران نہیں، لیڈرز چنیں۔

ایک لیڈر کی زندگی کھلی کتاب کی طرح ہوتی ہے جس سے عوام کو تحریک ملا کرتی ہے، جس کی شخصیت سے فکر اور رجحان کے ہزار ہا سوتے پھوٹتے ہیں۔ ہم نے تو بچپن سے اب تک محترم نواز شریف صاحب کو یا وزیر اعلٰی دیکھا یا وزیر اعظم۔ کبھی ان کو اپنی اہلیت اور قابلیت بڑھاتے نہ دیکھا۔ کوئی لفظ، کوئی کتاب، کوئی نظریہ، کوئی نقطہ، کوئی فلسفہ ان کے توسط سے ہم تک نہ پہنچا۔ کسی شوق، کسی دلچسپی، کسی عمل کو قوم کے لئے مشعل راہ بنانے کا خیال انھیں کبھی نہ آیا۔ کبھی ’میں‘ کی اکڑ اور ’تو‘ کی حقارت سے باہر ہی نہیں نکلے یہ لوگ۔ آج تو دنیا کی بادشاہتیں بھی جمہوری اقدار کے بغیر اپنے نظام نہیں چلاتیں۔ دبئی کی اعلیٰ۔ ترین مثال سب کے سامنے ہے جہاں بادشاہِ وقت بھی عام لوگوں میں بڑی ہی سادگی سے گھل مل جاتا ہے۔ جو اپنے ملک کے ہر شہری کو نہ صرف ترقی کے مواقع فراہم کرنے کی پالیسیاں مرتب کرتا ہے بلکہ بحیثیت قوم ان کو آگے سے آگے بڑھنے کے نئے اہداف کا تعین کرتا ہے۔ اور جس کے وژن کو حقیقت بنانے میں ہر شہری بلا امتیازِ رنگ و نسل اپنا اپنا حصّہ ڈالتا ہے۔ وہ حکمران جو اپنی رعایا کی جان، مال، عزت اور سہولت کو یقینی بنانے کا ذمہ دار تو ہے، تکبر کی علامت نہیں بنتا۔ کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو بھی ایسی ہی ایک مثال ہیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ آج کی دنیا ڈارون کی نظریہ ’سروائیول آف دا فٹسٹ ‘ کا بہترین نمونہ ہے۔ جو میرٹ پر نہیں، وہ دنیا کے چیلنجز کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ فطرت کے اصولوں کے مطابق، جھوٹ اور تکبر جیسے منفی رجحانات جو موجودہ ’حکمرانوں‘کے ہتھیار رہے ہیں، ان سے قوم کے سروائیول کی جنگ جیتنا اب ممکن نہیں۔ اب یہ سیٹ کسی حقدار کو ملنی ہی چاہیے۔

نوٹ: ( میں لفظ ’حکمران‘ کو اپنی اس تحریر میں محض طنزیہ استعمال کرنے اور اس خیالِ خام کو رد کرنے کو اپنا فرض سمجھتی ہوں)
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں