Header Ads

ہیڈنگز لوڈ ہو رہیں ہیں...




میرے بھائی کی موت: ایک آپ بیتی

ہم چار بہن بھائیوں میں میرا نمبر آخری ہے. ہم تین بھائیوں میں سے سب سے بڑے بھائی ملتان میں اپنے آبائی گھر میں والدین، اپنی اور دوسرے بھائی (جو کہ انگلینڈ میں رہائش پذیر ہے) کی فیملی کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے تھے. میں گذشتہ 11 برس سے بسلسلہِ تعلیم و روزگار اسلام آباد میں رہ رہا ہوں. دوسرے بھائی کو انگلینڈ گئے ہوئے بھی 11 برس ہو چکے. گویا 11 برس سے ہمارے خاندان کی ذمہ داری ہمارے بڑے بھائی نے تنہا سنبھالی ہوئی تھی. بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا ہونے کی وجہ سے وہ لاڈ پیار مجھے اپنے بڑے بہن بھائیوں سے ہمیشہ حاصل رہا ہے جو کہ خاندان کے سب سے چھوٹے فرد کا نصیب ہوا کرتا ہے.ہم تینوں چھوٹے بہن بھائی قدرے سیریس مزاج کے حامل ہیں. جبکہ سب سے بڑے بھائی سب سے زیادہ ہنس مکھ اور سوشل تھے. گھر میں جب بھی ہمارا اکٹھ ہوتا تو اس کی روحِ رواں بڑے بھائی ہی ہوا کرتے تھے. سب کے ساتھ ہر وقت ہنسی مزاح گویا اُن کی فطرتِ ثانیہ تھی. میرے لیے سال میں ملتان کے دو تین چکر لگانا ہی ممکن ہوتا تھا. دونوں عیدوں پر تو والدین اور بڑے بھائی کے اسرار پر جانا ہی پڑتا تھا. میں ہمیشہ پہلی عید گزارنے کے بعد بھائی کو کہہ کر آیا کرتا کہ اگلی عید پر میرے لیے آنا ممکن نہ ہو گا کیونکہ میرا بجٹ اتنا ڈسٹرب ہو گیا ہے کہ مجھے اسے سیٹ کرتے کرتے تین چار ماہ لگ جانے ہیں. لیکن ہر دفعہ عید آنے پر بھائی کا اصرار شروع ہو جاتا کہ ملتان آؤ کیونکہ میری عید تمہارے ساتھ ہوتی ہے اور تمہاری میرے ساتھ (کیونکہ انگلینڈ والا بھائی گذشتہ گیارہ برس میں صرف دو دفعہ ہی پاکستان آ سکا).


23 مارچ کی چھٹی آئی تو لانگ ویکینڈ (Long weekend) ہونے کی وجہ سے میں نے اپنی بڑی بہن کے ساتھ پروگرام بنایا اور ہم 5 چھٹیاں منانے ملتان پہنچ گئے. کافی دنوں کے بعد خاندان کے اکٹھا ہونے سے خوب لطف اندوز ہوا اور اتوار کو اسلام آباد واپسی کا سفر اختیار کیا. دو ہفتے بعد بڑے بھائی 7 اپریل کو اسلام آباد آئے. میں نے انہیں ڈائیوو کے بس اڈے سے پک کیا اور ہم دونوں بھائی راولپنڈی میں بہن کے گھر چلے گئے. دو دن ہم تینوں بہن بھائی اکٹھے رہے اور دونوں بھائیوں نے بہن سے خوب لاڈ اٹھوائے جیسا کہ بہنیں اٹھایا کرتی ہیں. پھر میں 9 اپریل کی صبح بھائی کو بس پر روانہ کر کے واپس اپنے گھر اسلام آباد آ گیا. جاتے ہوئے کہہ کر گئے کہ اگلے ماہ دوبارہ آؤں گا تو تمہارے گھر رہوں گا.اگلے ماہ میں نے فون کر کے یاد کروایا کہ آپ نے میرے گھر آنا تھا تو انہوں نے جواب دیا کہ عید کے بعد فیملی کو اسلام آباد ساتھ لے کر آؤں گا زیادہ دنوں کے لیے. 10 جون کو بھائی کی کال آئی اور ناراض ہوئے کہ تم نے ابھی تک اپنے ناپ کا سوٹ نہیں بھجوایا اور رمضان کے آخری دنوں میں درزی نے کپڑے سی کر نہیں دینے. میں نے اگلے ہی روز ناپ کے لیے اپنا ایک سوٹ ملتان بھجوا دیا اور بھائی کو اپنی چوائس کے رنگ بھی بتا دیے. اگلے ہی روز وہ بازار گئے اور میری چوائس کے رنگ کے کپڑے خرید کر درزی کو دے آئے. عموماً میری ہر دوسرے دن بھائی سے فون پر بات ہوا کرتی تھی. 11 جون کی رات بھائی کی کال آئی اور ہم ایک نجی معاملے پر کافی دیر بات کرتے رہے. انہوں نے میرے ذمے ایک کام لگایا کہ اگلے دن انہیں وہ کام کر کے انہیں آگاہ کروں. لیکن اس روز میں مصروفیت کی وجہ سے ان سے بات نہیں کر سکا. رات 1 بجے خیال آیا کہ آج بھائی سے بات نہیں ہو سکی. پھر خیال آیا کہ ابھی وہ سو رہے ہوں گے، چلو صبح آفس جا کے کال کروں گا.

صبح بچوں کا پیپر تھا تو میں سیدھا کمرہِ امتحان میں چلا گیا. ابھی ڈیوٹی پر گھنٹہ ہی گذرا تھا کہ اچانک کزن کا میسج آیا کہ عامر بھائی کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور ہم انہیں ہسپتال لے جا رہے ہیں. اچانک ایسا لگا کہ جیسے جان کا جسم سے تعلق منقطع ہو گیا ہو. جس کرسی پر بیٹھا تھا ایسا محسوس ہوا کہ وہاں سے اٹھ نہیں پاؤں گا. ہمت کر کے اٹھا اور اپنے وجود کو گھسیٹتے ہوئے اپنی ڈائریکٹر کے پاس گیا، انہیں معاملے سے آگاہ کیا اور ملتان کے لیے نکل پڑا. ہمیشہ جب بھی مجھے کبھی ایمرجنسی میں ملتان جانا ہو تو میں بیوی کو اسلام آباد میں اس کے چچا کے گھر چھوڑ کے ملتان روانہ ہو جاتا ہوں. عجیب اتفاق یہ کہ اس روز بیوی نے ضد کی کہ اسے بھی ملتان ساتھ جانا ہے. سو میں نے بیوی کو ساتھ لیا اور ملتان کا رخ کیا.میرا یہ سفر اُس کال نے اور بھی مشکل بنا دیا جو میں نے گھر سے نکلتے وقت والدہ کو تسلی دینے کے لیے کی. ہوا یہ کہ بھائی کو دراصل برین ہیمرج اور ہارٹ اٹیک اکٹھے ہوئے. برین ہیمرج کی وجہ سے بھائی کو فالج کا اٹیک بھی ہو گیا. جب کزن بھائی کو ہسپتال لے جا رہے تھے تو والدہ ان کے ساتھ ہی ہو لیں. اب جب بیٹے کو فالج کے فِٹس (Fits) پڑ رہے ہوں تو سمجھنے والے سوچ سکتے ہیں کہ جوان سالہ بیٹے کو اس حالت میں دیکھ کر ایک ماں کی کیا کیفیت ہو سکتی ہے. والدہ چیختی چلاتی مجھے پکار رہی تھیں کہ عمران فوراً جہاز سے آؤ چاہے اُڑ کے آؤ لیکن فوراً پہنچو، تمہارے بھائی کی حالت بہت خراب ہے. والدہ کی وہ چیخیں میرے وجود میں جیسے پیوست ہو کے رہ گئی ہیں. ماں کی وہ بے بسی، وارفتگی اور تکلیف..... او میرے خدا! یہ کیسی بے بسی اور اذیت ہے جو تو نے میرے وجود میں پیوست کر دی ہیں ہمیشہ کے لیے.....

فون پر میں لمحہ بہ لمحہ کزنز سے بھائی کی اپ ڈیٹس لے رہا تھا... اور کر بھی کیا سکتا تھا... اور ہر دفعہ خبر یہی ملتی کہ حالت پہلے سے زیادہ خراب ہے. بھائی کو کوئی پانچ برس قبل بھی ہارٹ اٹیک ہوا تھا اور میں ایسے ہی فوراً ملتان نکل پڑا تھا لیکن تب اضطراب کے ساتھ ساتھ ایک انجانا سا اطمینان ضرور تھا کیونکہ ڈاکٹرز نے معاملے کو جلدی سنبھال لیا تھا. لیکن اس بار تسلی کی کوئی خبر نہیں مل رہی تھی. اضطراب میں میں نے کزن سے بھائی کی وڈیو بنا کر بھیجنے کا کہا. اس وڈیو میں بھائی کی حالت دیکھ کے بے اطمینانی اور خوف اس قدر گہرا ہوا کہ دل ہی دل میں اللہ سے گڑگڑا کر دعائیں مانگنے لگا کہ اے خدا تیرے معجزے نہ ختم ہونے والے ہیں. اپنا معجزہ میرے بھائی پر بھی نازل فرما اور اسے زندگی عطا کر. کیونکہ بھائی کی حالت بتا رہی تھی کہ معجزہ ہی اسے بچا سکتا ہے. میں ابھی راستے میں ہی تھا کہ شام سوا پانچ بجے کزن کی کال آئی اور اس نے روتے ہوئے بتایا کہ بھائی کی حالت بہت بگڑ گئی ہے کیونکہ ان کی نبض (Pulse) رک گئی ہے. میری آنکھوں سے آنسو روانہ ہو گئے اور میں اللہ کے آگے مزید گڑگڑانے لگا. پھر پندرہ منٹ بعد دوبارہ اطلاع ملی کی الیکٹرک شاک دینے سے نبض دوبارہ چل پڑی ہے. لیکن جان تھی کہ نکلی ہی جا رہی تھی. ایک ایک لمحہ صدی سے بھی زیادہ طویل تھا. جی چاہ رہا تھا کہ کسی طرح اُڑ کے بھائی کے پاس پہنچ جاؤں لیکن بس تھی کہ زنداں کی کال کوٹھڑی. نہ روشنی کی کوئی کرن نہ امید کا کوئی سایہ. اور پھر پندرہ منٹ بعد بیچ راستے ہی میں کزن کا فون آیا اور اس نے روتے ہوئے یہ اطلاع دی کہ عامر بھائی وفات پا گئے. انا للہ و انا الیہ راجعون.

اس لمحے اندازہ ہوا کہ خود کو دنیا کے لیے ناگزیر سمجھنے والا انسان حقیقت میں دنیا کے لیے کتنا بے وقعت اور غیر متعلق ہے. بس کا ڈرائیور مجھے بھائی کے پاس جلدی پہنچانے کے لیے بس کو اسٹینڈرڈ رفتار سے آگے نہیں لے جا سکتا کہ اس کی نوکری سے اس کے بچوں کا رزق وابستہ تھا. بس میں اردگرد بیٹھے لوگ یا تو سو رہے ہیں یا ہیڈ فون لگا کر موسیقی سننے میں مگن ہیں. سوچیں آپ پر قیامت ٹوٹی ہوئی ہو اور آپ کے ساتھ بیٹھے لوگ آپ سے بالکل بے تعلق اپنی زندگی میں ایسے مگن ہوں کہ آپ کی سسکیاں ان تک پہنچ ہی نہ رہی ہوں اور نہ ہی کوئی آپ کے اندر پھٹتے آتش فشاں سے نکلتے لاوے اور اس کی حدت کو محسوس کر رہا ہو.ابھی میں خود سے اپنا آپ سنبھالنے کی چومکھی جنگ لڑ ہی رہا تھا کہ بڑی بہن کی کال آئی اور وہ مجھے تسلی دے رہی تھیں کہ تمہارے بہنوئی کی ابھی ہاسپٹل (hospital) کے ایم ایس سے بات ہوئی ہے اور وہ خود پہنچ کے بھائی کے کیس کو دیکھ رہا ہے. امید سے روشن اس بہن کو بھائی کے انتقال کی خبر دینا کتنا مشکل مرحلہ ہو گا جو مجھے طے کرنا پڑا ہو گا. ابھی کچھ دن پہلے ہی تو ہم تینوں بہن بھائی اکٹھے تھے بہن کے گھر. تکلیف کا یہ دوسرا نشتر تھا جو مجھے سہنا تھا. ابھی بہن کی کال بند کی ہی تھی کہ گھر سے کال آ گئی کہ امی کو فوراً کال کریں. انہوں نے عصر کی نماز پڑھنا ہے اور وہ کہہ رہی ہیں کہ انہیں فوراً بیٹے کی خیریت سے مطلع کروں.

یوں محسوس ہوا جیسے آگ کا ایک سمندر ہے جس میں سے ننگے بدن گزرنا ہے. ماں کو کال ملانے سے پہلے مجھے اپنے مردہ محسوس ہوتے وجود میں جان اور ہمت بھرنا تھی. کیا کوئی محسوس کر سکتا ہے کہ ایک ماں کو اس کے جوان بیٹے کی موت کی اطلاع دینا کیسی قیامت ہو گی جو بیک وقت آپ ماں پر بھی ڈھاتے ہیں اور خود پر بھی؟ ماں کی وہ چیخیں میرے وجود میں ایسی پیوست ہوئی ہیں کہ شاید ساری عمر اس کی چبھتی سنسناہٹ کے اثرات میں اپنے وجود سے نہ نکال سکوں.میں دوپہر ایک بجے کی بس سے ملتان کے لیے روانہ ہوا. باجی 3 بجے میرے بہنوئی کے ساتھ اپنی گاڑی پر ملتان کے لیے روانہ ہوئیں. لیکن شام 7 بجے تک وہ مجھ سے پہلے جھنگ پہنچ چکے تھے. بس کی سست رفتاری کو دیکھتے ہوئے میں نے جھنگ میں بس سے اتر کر باجی کے ساتھ باقی کا سفر طے کرنے کا فیصلہ کیا. بس سے اترا تو بہن کو دیکھتے ہی فرتِ جذبات میں وہ تمام تکلیف امڈ کر باہر آ گئی جسے بس میں لوگوں کے درمیان بے بسی کی تصویر بنا دبائے بیٹھا تھا. بہن کے گلے لگ کے روتے ہوئے پہلی بار محسوس ہوا کہ بڑی بہن بھی ماں کا ہی اوتار ہوتی ہے. بھائی کے انتقال کی خبر شام 5 بج کر 53 منٹ پر موصول ہوئی اور ہم رات دس بجے گھر پہنچے. مجھے اور بہن کو تو 7 بجے جھنگ پہنچ کر ایک دوسرے کا سہارا میسر آ گیا لیکن 80 سال کے بوڑھے باپ اور 65 سال کی بوڑھی ماں نے یہ سارا وقت جوان بیٹے کی میت پر تنہا کیسے گزارا ہو گا؟

ہمیشہ ایسا ہوتا آیا ہے کہ میں جب بھی ملتان اپنے گھر جاتا تو بھتیجے اور بھتیجیاں میرے انتظار میں گھر کے گیٹ پر پہلے سے ہی موجود ہوتے. میرے گھر داخل ہونے پر بچوں کا شور بھائی کو اوپر کی منزل تک یہ پیغام پہنچا دیتا کہ میں گھر میں داخل ہو چکا ہوں. اور یہ پیغام ملتے ہی بڑا ہونے کے باوجود وہ نیچے مجھے ملنے آ جاتے. بچے میرے ساتھ اتنے اٹیچ ہیں کہ اکثر بھائی کہا کرتے تھے کہ یار تم یہاں جتنے دن بھی رہتے ہو، ہمارے بچے ہمیں پہچانتے ہی نہیں. سارا دن نیچے تمہارے پاس رہتے ہیں اور ہمارے پاس تو بس رات سونے کے لیے اوپر آتے ہیں. اِس دفعہ بھائی میرے پہنچنے سے پہلے ہی گھر کے نچلے حصے میں موجود تھے، ماں باپ اور بیوی بچوں کے سامنے ہمیشہ کی نیند سوئے ہوئے. جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا تو بڑی بھتیجی (جو محض 13 برس کی ہے) چلاتی ہوئی مجھ سے لپٹ کے دھاڑیں مارنے لگی کہ چچا میں یتیم ہو گئی. بھتیجی کو پیار کیا اور حوصلہ دیا کہ چچا ہیں نا آپ کے پاس. میں کمرے کے دروازے پر کھڑا ہمت اکٹھی کر رہا تھا کہ اندر کمرے میں داخل ہونے کے لیے پہاڑ جیسی قوت درکار تھی. پہاڑ جتنی ہمت اکٹھی کی اور اندر داخل ہوا لیکن بھائی کو سامنے دیکھتے ہی پہاڑ ریزہ ریزہ. اسی جگہ تو کچھ ہی دن پہلے میں نے بھائی کی اور ساری فیملی کی خوش گپیاں کرتے ہوئے وڈیو بنائی تھی. آج اسی جگہ قہقہوں کی جگہ کہرام برپا تھا. ابھی پرسوں ہی تو ہم بات کر رہے تھے. اتنا ہنس مکھ اور دوسروں کو ہنسانے والا کیسی تکلیف میں ڈال گیا سب کو.

جس کے ہاتھوں میں آپ کھیلے ہوں اسے غسل دیتے وقت اور اپنے ہاتھوں قبر میں اتارتے وقت وجود کس کرب سے گزرتا ہے اس کو بیان کرنے کے لیے لفظ نامکمل ذریعہ ہیں. وجود کا کرب یہ ہے کہ اسے یہ درد صرف سہنا ہے اور اندر ہی اندر گھُلنا ہے. آنکھیں صرف کرب کی نشاندہی کر سکتی ہیں، اُس کی شدت نہیں بتا سکتیں. آپ کی زندگی کی چھت اچانک آپ کے اوپر آن گری ہو اور آپ کے گرد دنیا اپنی ڈگر پر بغیر کسی تغیر کے رواں دواں ہو، آپ کی زندگی کی گاڑی کا پہیہ گاڑی سے الگ ہو گیا ہو لیکن دنیا آپ کی زندگی کی گاڑی کو بغیر پہیے کے بھی گھسیٹ رہی ہو، یہ ہے وہ تلخ حقیقت جس سے کسی کو مفر نہیں. مجھے بھائی کی وفات کے چوتھے دن واپس اسلام آباد آنا تھا کیونکہ مجھے ہر صورت اسی ہفتے اپنا پی ایچ ڈی کا مقالہ یونیورسٹی میں جمع کروانا تھا. صرف میری خاطر یونیورسٹی اپنا نظام اور اصول و ضوابط تو نہیں بدل سکتی نا. کائنات کے اس نظام میں اپنی اصل حیثیت کا اندازہ ایک بار پھر ہوا. انسان جو خود کو دنیا اور نظامِ حیات کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے، حقیقت میں اس کی حیثیت ایک بے وقعت مہرے سے زیادہ کچھ نہیں.میرا تعلق ایک بریلوی گھرانے سے ہے. میں اگرچہ خود کو ان مسلکی تقسیموں سے آزاد تصور کرتا ہوں لیکن میری خاندانی روایات کا پاس رکھنا میرے خاندان کے دیگر افراد کے لیے بہت ضروری تھا.

میں نے والد سے استفسار کیا کہ کیا آپ روایت پسندی کو ترجیح دیں گے یا روایت پسندی پر حقیقت پسندی کو ترجیح دیں گے؟ ان کا جھکاؤ روایت پسندی کی طرف تھا کہ لوگ کیا کہیں گے کہ اپنے باپ دادا کی روایات کو چھوڑ بیٹھا. لہٰذا روایت کے مطابق وفات کے تیسرے دن قل خوانی طے پائی. خاندان کے بہت سے لوگوں نے مجھے قل خوانی کے اخراجات میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اچھے خاصے پیسے دیے. میں نے جب پیسے لینے سے انکار کیا تو بتایا گیا کہ یہ بھی روایت کا حصہ ہے. سو مجھے وہ پیسے لینا پڑے. پھر سب کزنز نے قل خوانی کے انتظامات کا سارا بوجھ بھی آپس میں بانٹ لیا تاکہ میں کوئی مزید تکلیف محسوس نہ کروں. یہ بظاہر ایک اچھی روایت محسوس ہوئی. یوں محسوس ہوا کہ جیسے مجھے بالکل بھی کسی اضافی بوجھ یا مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا. لیکن پتہ تب چلا کہ جب گھر میں 300 کے لگ بھگ خواتین آ گئیں اور مسجد میں اس سے بھی زیادہ مرد. اب ہم سب آئے ہوئے مہمانوں کی خاطر مدارت کا بار اٹھائے اس فکر میں لگے ہیں کہ سب مہمانوں کو کھانا پورا کرنا ہے اور باقی لوازمات بھی. یہی کیفیت گھر کی عورتوں کی تھی. اس اضافی بے مقصد مشقت نے مجھے یہ سوال اٹھانے پر مجبور کر دیا کہ کیا لوگوں کو ذرا بھی شعور اور احساس بھی ہے کہ ایسی فرسودہ روایات سے ہم غمزدہ خاندان کی تکلیف میں کتنا اضافہ کرنے جا رہے ہیں؟ کتنا ہی اچھا ہو اگر ہم سب مل کر اتنے پیسے کھاتے پیتے لوگوں کو کھانا کھلانے کی رسم پر برباد کرنے کے بجائے مرحوم کا کوئی قرضہ اتار دیں یا اس کے لواحقین کی امداد کر دیں (اگر وہ مستحق ہوں). ہم قُلوں، جمعراتوں، چالیسویں اور ایسی ہی کتنی روایات پر کتنی دولت ضائع کر دیتے ہیں جس کا سماج کو کوئی فائدہ نہیں. کیا ہمارے لیے روایات انسانوں سے زیادہ مقدم ہیں؟

آج بھائی کو ہم سے جدا ہوئے 40 روز بیت گئے ہیں. ان سارے دنوں میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا جب یہ گھر اپنے اس ساتھی کے بچھڑنے کے کرب سے آزاد ہوا ہو. جب بھی گھر کا گیٹ کھلتا ہے اور موٹر سائیکل گھر میں داخل ہو کر ماں باپ کے کمرے کے سامنے آ کر رکتا ہے تو انہیں اپنا وہ جوان بیٹا یاد آ جاتا ہے جو آتے جاتے ان کے کمرے کے سامنے سے گزر کر جاتا تھا. محض سترہ سال بعد اپنی کل کائنات لٹا بیٹھنے والی بیوہ نہ سو سکتی ہے نہ جاگنے کا شعور ابھی تک اسے حاصل ہو سکا ہے. میں اپنی یونیورسٹی سے چند ماہ کی چھٹیاں لے کر سب کی ڈھارس بندھانے ملتان آیا ہوں کہ میرے ہونے سے سب گھر والوں کو تھوڑا حوصلہ مل جائے گا. اور جسے ڈھارس بننا ہو اسے بہت سے دکھ اکیلے ہی جھیلنا ہوتے ہیں.میں محسوس کرتا ہوں کہ ہماری بہت سی روایات محض ڈھونگ سے زیادہ کچھ نہیں. کچھ لوگ ایسے ڈھونگ رچاتے ہیں کہ جیسے انہیں آپ کے گھر کے فرد کے چلے جانے کا غم آپ سے بھی زیادہ ہے. مثال کے طور پر ہمارے ایک رشتہ دار کے ہاں ان کے بیٹے کی شادی کافی دن پہلے سے طے تھی. ابھی شادی کو پندرہ دن باقی تھے کہ یہ بحث چھِڑ گئی کہ انہیں اپنی شادی منسوخ کر دینا چاہیے. مجھ تک خبر پہنچی تو میں نے سوال اٹھایا کہ اگر وہ اپنی شادی منسوخ کر بھی دیں تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ شادی کی اگلی تاریخ پر پھر کسی کی موت نہیں ہو گی؟ میں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر تکلیف ہمارے گھر میں آئی ہے تو یہ کہاں کی شرافت ہے کہ میں اپنا دکھ کسی اور کے سر پر زبردستی تھوپ دوں؟ میں نے اپنے اس رشتہ دار کو کال کی اور انہیں شادی اپنے طے شدہ شیڈول کے مطابق کرنے کا کہا اور یہ حوصلہ بھی دیا کہ ہم لوگ بھی آپ کی شادی میں شرکت کریں گے. انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور شادی پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق کرنے کا اعلان کر دیا.

ہمارے گھر سے صرف ایک فرد نے شادی میں شرکت کی صرف اس فرسودہ روایت کو توڑنے کے لیے کہ اپنے دکھ میں دوسروں کی خوشیاں خراب مت کریں. کچھ لوگ مجھ سے نالاں ہیں کہ میں نے اس رشتہ دار کو فون کر کے شادی کی تاریخ آگے کرنے سے کیوں روکا. شاید وہ مجھے یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ انہیں ہمارے گھر کے فرد کے چلے جانے کا دکھ ہم سے زیادہ ہے. تو ایسے مخلص لوگوں کے لیے اتنا ہی کہوں گا کہ حقیقی دکھ نہ جتانا پڑتا ہے نہ دکھانا پڑتا ہے. ایسی ڈھونگ سماجی روایات اور رویے لواحقین کے دکھ اور اذیت میں اضافہ ہی کرتے ہیں.یہ دنیا دارالامتحان ہے، نہ کہ دارالجزا. ہمارے جگر کا ٹکڑا ہم سے جدا ہو گیا، یہ ہمارے لیے یقیناً بہت بڑی آزمائش ہے. یہ آزمائش جو ہم پر آن پڑی ہے، اوروں پر بھی پڑتی رہی ہے اور پڑتی رہے گی. ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی ڈھونگ روایات کے طوق اتاریں اور مشکل میں پڑے لوگوں کی مشکلیں اور تکلیف کم کریں. اگر اللہ نے عقل دی ہے تو اس پر روایات کی اندھی تقلید کے قفل نہ چڑھائیں. اپنی معاشرتی اور سماجی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔

تعارف : لیکچرار، قومی ادارہءِ نفسیات، قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد، مکالمہ ڈاٹ کام
تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.