125

سیکنڈ ہینڈ گاڑی۔

سیکنڈ ہینڈ  یا استعمال شدہ گاڑی خریدنا ایک بہت بڑا پروجیکٹ ہوتا ہے اور اس سلسلے میں پاکستان میں ہی نہیں بلکہ مغربی ممالک میں بھی مشکلات کا پہاڑ سر کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں چونکہ بے ایمانی حد سے زیادہ ہے اسلئے ایکسیڈنٹل اور ری پینٹ والی گاڑیاں آسانی سے دھوکہ دہی کے ساتھ بیچ دی جاتیں ہیں اور خریدنے والے کو بعد میں پتا چلتا ہے کہ اسکے ساتھ کیسا ہاتھ ہو چکا ہے۔

مغربی ملکوں میں ایکسیڈنٹل اور ری پینٹ گاڑیاں نہیں ہوتی ہیں بلکہ لوگ ایسی گاڑیوں کو انشورنس کے ذریعے خود ہی ٹھیک کروا کر بیچتے ہیں۔ یہاں گاڑی کے ماڈل کو کم دیکھا جاتا ہے اور وہ کتنے کلومیٹر چلی ہوئی ہے زیادہ دیکھی جاتی ہے۔ لحاظہ نئے ماڈل میں زیادہ کلومیٹر چلی ہوئی گاڑی پرانے ماڈل میں کم کلومیٹر چلی ہوئی گاڑی سے سستی مل جاتی ہے۔ یہاں چونکہ مزدوری مہنگی ہوتی ہے اس لئے اگر کوئی پرزہ مہنگا آ رہا ہو تو لوگ گاڑی پھینک دینے کو ترجیع دیتے ہیں۔

سیکنڈ ہینڈ گاڑی کی خریداری پر اچانک لکھنے کے پروگرام کی وجہ سویڈن میں مقیم ایک قریبی دوست حمیر رسول صاحب ہیں، جنہوں نے آون لائن گاڑیوں کی نیلامی کرنے والی سویڈش کمپنی، کے وی ڈی کی ویب سائیٹ پر ٹیوٹا پریوس پلس سیون سیٹس 2012 ماڈل کی نیلامی چھپن ہزار سویڈش کراؤن ( سات لاکھ پاکستانی روپے) میں جیت لی۔ انہوں نے گاڑی کی تفصیل پڑھے بغیر صرف ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے گاڑی خریدی، اور KVD کے اکاؤنٹ میں مطلوبہ رقم بھی ٹرانسفر کر دی۔ گاڑی سٹاک ہوم سے تقریباً پانچ سو گلو میٹر دور سویڈن کے دوسرے بڑے شہر گوتھن برگ میں KVD کے شوروم میں موجود تھی۔

قریبی دوست ہونے کی وجہ سے راقم نے حمیر صاحب اور انکے چودہ سالہ بیٹے کے ہمراہ فاسٹ ٹرین پر گوتھن برگ جانے کا پروگرام بنایا اور واپسی پر پریوس پلس کی لونگ ڈرائیو کی سوچ کے ساتھ ٹرین کے لمبے سفر پر روانہ ہوگئے۔ سویڈن کی یہ ٹرین دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ کی رفتار سے چلتی ہے اور مختلف سٹاپس پر رکتی ہوئی تین گھنٹوں میں مطلوبہ منزل پر پہنچا دیتی ہے۔

گوتھن برگ پہنچے کے بعد KVD کے شوروم جانے کیلئے اوبر ٹیکسی کا استعمال کیا گیا۔ شوروم پہنچنے کیبعد جب وہاں موجود گاڑی کو نزدیک سے دیکھا گیا تو گاڑی پر ناصرف چھوٹے چھوٹے کئی سکریچز تھے بلکہ ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران پتا چلا کہ ائرکنڈیشنگ سسٹم بھی ٹھیک طریقے سے کام نہیں کر رہا تھا، مزید برآں گاڑی کا انجن آئل بھی تھوڑا لیک تھا اور آخری دفعہ کب سروس کروائی گئی تھی اس بات کا بھی کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ گاڑی 2012 ماڈل ہونے کے باوجود تین لاکھ کلومیٹر چلی ہوئی تھی جسکا مطلب یقیناً یہ نکل رہا تھا کہ کسی نے اس گاڑی کو ٹیکسی کے طور پر چلایا ہوگا ورنہ پانچ سال میں سویڈن جیسے ملک میں گھریلو گاڑی اتنی زیادہ چلائی نہیں جاتی۔

قارئین کی دلچسپی کیلئے عرض کرتا چلوں کہ یہ سب باتیں KVD نے اپنی ویب سائیٹ پر بولی سے پہلے ہی لکھی ہوئیں تھی مگر حمیر صاحب نے ٹھیک طریقے سے سویڈش زبان میں لکھی ان خامیوں کا مطالعہ نہیں کیا تھا۔ سویڈن میں کوئی بھی چیز بیچنے سے پہلے اس چیز کی خامیاں نہ لکھنا جرم ہے اور بڑی کمپنیاں اس بات کا خاص طور پر خیال رکھتی ہیں۔

ساری خامیاں اور کم قیمت سامنے رکھتے ہوئے جب ہم شش و پنج میں تھے کہ گاڑی خریدیں یا سودا کینسل کر دیں اور ہم سے فیصلہ نہیں ہو رہا تھا تو ہماری مشکل وہاں موجود سویڈش سیلزمین نے یہ کہہ آسان کردی کہ اگر وہ ہماری جگہ ہوتا تو اپنی فیملی کیلئے ایسی گاڑی کبھی نہ خریدتا۔ یہ سننا تھا کہ حمیر صاحب نے سودا کینسل کرنے کا کہہ دیا۔ اس صورت میں بولی کی فیس اور گوتھن برگ آنے جانے کا خرچہ سمیت پانچ ہزار سویڈش کراؤن کا ٹیکہ حمیر صاحب کو لگ چکا تھا۔ سٹاک ہوم واپسی کا سفر اس دلچسپ ٹیکے پر مذاق کرتے کرتے گزر گیا اور حمیر صاحب نے آئندہ ایسا سودا کرنے سے پہلے ہر پہلو سے سوچنے کا عہد کیا اور اس واقعہ سے مثبت سبق سیکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے کا ایسا ہی ایک واقعہ پاکستان میں گزشتہ سال خود راقم کے ساتھ بھی پیش آیا جب فیملی سمیت تین مہینے کیلئے پاکستان میں چھٹیاں گزارنے کا پروگرام بنایا گیا۔ گاڑی چونکہ صرف تین مہینے پاکستان میں استعمال کرنی تھی اس لئے سیکنڈ ہینڈ گاڑی کی آپشن پسند کی گئی اور اس مقصد کیلئے ایک نزدیکی رشتہ دار جو لاھور میں پراپرٹی کا ایک بڑا کاروبار کرتے ہیں، انہوں نے خریداری میں مدد دینے کی حامی بھر لی۔

چھٹیوں کے پہلے ہفتہ میں ایک درجن کے لگ بھگ گاڑیاں دیکھی گئی مگر کسی نہ کسی وجہ سے وہ سب ریجیکٹ ہوتی گئیں۔ پاکستان میں سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنا باقی دنیا کی نسبت زیادہ مشکل کام ہے۔ خریدنے والے انسان کو ایکسیڈنٹل اور ریپینٹ گاڑی میں پہچان کرنی آنی چاہئیے۔ اس مقصد کیلئے پاکستانیوں کی خوش قسمتی ہے کہ ہر علاقے میں کوئی شیدا، کرما یا کسی بھی نام کا ایک صاحب ضرور ہوتا ہے جس نے علاقے میں مشہور کروایا ہوتا ہے کہ اسے دور سے دیکھنے پر ہی پتہ چل جاتا ہے کہ گاڑی کا کونسا حصہ ایکسیڈنٹل یا ریپینٹ ہے، مزید برآں انجن کی آواز سن کر ہی پتا چل جاتا ہے کہ کونسے پرزے میں گربڑ ہے اور کونسے پرزے میں مستقبل قریب میں گربڑ ہو جائے گی۔ ایسے لوگ عموماً بے روزگار ہوتے ہیں مگر بہت مصروف ہوتے ہیں کیونکہ ہر گاڑی خریدنے والا ان سے مدد کا وقت مانگ رہا ہوتا ہے اور وہ فی سبیل اللہ مدد کیلئے تیار بھی ہو جاتے ہیں، یہ علیحدہ بات ہے کہ انکا کمیشن گاڑی بیچنے والے سے آنکھوں ہی آنکھوں میں طے ہو جاتا ہے اور خریدنے والا انکا شکریہ ادا کرتے نہیں تھکتا اور اسے اچھے سے اچھے ہوٹل میں گاڑی کی خوشی میں کھانا بھی کھلایا جاتا ہے۔

ایسے ہی ایک صاحب سے راقم کی بھی ملاقات کروائی گئی اور ان صاحب نے کچھ گاڑیاں بھی اپنی گارنٹی پر دکھائیں مگر کسی نہ کسی وجہ سے بات نہ بن سکی۔ اسی دوران ایک دور کے رشتہ دار کا فون بھی آگیا جنہوں نے غالبا” پہلی دفعہ فون کیا تھا اور گاڑی خریدنے میں مدد دینے کی پیشکش بھی کر ڈالی۔ حیرانی اس بات پر ہوئی کہ ان صاحب کو کیا مفاد ہو سکتا ہےمگر جلد ہی پتا چل گیا کہ گاڑی خریدنے کی بات بہت جلد مشہور ہو جاتی ہے اور کئی لوگ بھی جو خفیہ کمیشن کے کاروبار سے وابسطہ ہوتے ہیں حرکت میں آ جاتے ہیں۔

آخر یہ مسئلہ ایک پراپرٹی ڈیلر بھائی نے ہی حل کر دیا جب انکے پاس لاھور کے ایک امیر علاقے سے ایک صاحب اپنا کنال کا گھر بیچنے کیلئے تشریف لائے تاکہ اپنے بچوں میں برابر کا حصہ اپنی زندگی میں ہی تقسیم کر سکیں اور ساتھ ہی Toyota GLI 2012 ماڈل گاڑی بھی بیچ کر حج کیلئے روانہ ہو سکیں۔ جلد ہی ہم ان صاحب کے خوبصورت گھر کے دروازے پر تھے۔ گاڑی پہلی نظر میں دور ہی سے پسند آ گئی تھی۔

یہ صاحب شکل اور باتوں سے سلجھے ہوئے اور باعزت معلوم ہوتے تھے اسلئے جلد ہی انکی باتوں پر اعتبار کر لیا گیا اور تیرہ لاکھ کے لگ بھگ قیمت طے ہوگئی اور پے منٹ بھی بنک ٹرانسفر کے ذریعے کر دی گئی۔ چونکہ صاحب حج پر جا رہے تھے اسلئے انکی پارسائی پر یقین کرتے ہوئے گاڑی ویریفیکیشن کروانے کی نوبت بھی نہیں آئی۔ ان صاحب کی گارنٹی پر کہ سارے کاغذات مکمل ہیں، گاڑی کے کاغذات کی ایک موٹی فائل بھی ساتھ ہی مل گئی۔ گاڑی چونکہ تین مہینے بعد بیچ دینی تھی اسلئے اوپن ٹرانسفر لیٹر پر دستخط کروا لئے گئے۔

تین مہینے گاڑی پاکستان کے طول و عرض میں خوب چلائی گئی اور جب واپس سویڈن آنے کا وقت آیا تو گاڑی جتنے کی خریدی تھی کم و بیش اتنے ہی پیسوں میں بک بھی گئی۔ جب فلائیٹ سے پہلے آخری دن گاڑی کے حوالہ کرنے اور پوری پے منٹ لینے کا وقت آیا تو پتا چلا کہ ایک اہم کاغذ تو فائل میں موجود ہی نہیں ہے۔ بس پھر کیا تھا سودا واپس ہوگیا اور راقم گاڑی پاکستان میں بیچنے کیلئے چھوڑ کر فیملی کے ساتھ سویڈن واپس آگیا۔ تین مہینے گاڑی پاکستان میں بکنے پر لگی رہی اور آخرکار لاھور کے ایک سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر نے تھوڑی قیمت کم کروا کر گاڑی خرید لی کہ وہ آہم کاغذ خود ہی بنوا لے گا۔

قارئین کے سامنے سویڈن اور پاکستان میں گاڑی خریدنے کے پرسنل تجربہ کو بیان کیا گیا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے میں کیا کیا قباحتیں پیش آسکتی ہیں اور ان سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں