135

پلاسٹک کی خالی بوتلیں.

یہ پلاسٹک کا دور ہے. ہوم اپلائنسز سے لے کر خوراک و مشروبات تک ہر جگہ پلاسٹک استعمال ہورہا ہے.

پلاسٹک کے استعمال میں کوئی مسئلہ نہیں لیکن ہمارے استعمال کے طریقہ کار میں بہت مسائل ہیں.

آج سب سے زیادہ پانی کی پلاسٹک بوتلوں کا استعمال ہو رہا ہے. ایک اندازے کے مطابق 2002 سے 2005 تک 30 بلین پلاسٹک بوتلیں استعمال ہوئیں تھیں. اس سے اس کا آج قیاس کیا جاسکتا ہے.

پانی یا مشروبات کی بوتلیں ایک بار کے استعمال کیلئے بنائی جاتی ہیں. اسی حساب سے اسکی فنشنگ ہوتی ہے. بار بار کے استعمال سے اس کی سطح تھوڑ پھوڑ کا شکار ہوجاتی ہے. جسے چونکہ ہم عام آنکھ سے نہیں دیکھ سکتے تو کسی قسم کی فکر نہیں کرتے.

اس تھوڑ پھوڑ سے اس میں پچھلے استعمال کے بیکٹریا رے جاتے ہیں. چونکہ استعمال پانی کا ہی ہوتا ہے تو ہم صفائی کا تصور بھی نہیں کرتے. لیکن یہی بیکٹریا اگلے استعمال میں جسم کا سفر کر جاتے ہیں.

بہترین پولی پروپلین پلاسٹک بوتل ہو، جو بلکل سفید پلاسٹک ہے. اسے بھی صابن کی صفائی کی ضرورت ہے. چے جائیکہ ہمارا ملاوٹ شدہ انڈسٹریل پلاسٹک.

دوسرا بڑا مسئلہ اس تھوڑ پھوڑ کے ساتھ کیمکل لیکس کا ہے. ہمارے ہاں عام استعمال پولی تھیلون ٹیراتیلٹ پلاسٹک کا ہے. جس میں antimony جیسا میٹل پایا جاتا ہے. یہ کینسر لگانے کا ایک بڑا سبب ہے.

دوسری قسم جو کچھ سخت پلاسٹک ہے. پولی نوئل کلورائیڈ کہلاتا ہے. اس میں ایک مسئلہ phthalate کا ہے. جو جسم کے جنسی اعضاء یعنی ری پروڈکٹیو سسٹم کو نقصان دیتا ہے.

ہمارے ملک میں ری سائیکل کا وہ مطلب نہیں لینا چاہیے جو ترقی یافتہ ممالک میں پہچانا جانا جاتا ہے. ہمارے پاس استعمال شدہ بوتلیں کباڑئے جمع کرتے ہیں. ہول سیلرز کے پاس سلیکشن ہوتی ہے. صاف بوتلیں دھو دھلا کر دوبارہ سیل پیک کر کے بیچنے کیلئے شیلف میں آجاتی ہیں. اسلئے صرف خود دوبارہ استعمال نہ کرنا بھی حل نہیں. بلکہ ہر بار استعمال کے بعد بوتل میں سوراخ کردیا کریں.

پلاسٹک کی یہ بوتلیں ماحول پر بھی اثرانداز ہورہی ہیں. یہ مستقبل کا بڑا عالمی مسئلہ ہے. اور اسکا سدباب حکومتی سطح پر ہی ممکن ہے.
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

پلاسٹک کی خالی بوتلیں.” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں