94

جی ہاں! یہی تبدیلی ہے۔

ہم پاکستانی ایس قوم ہیں جسے تبدیلی کا خواب ہر دور میں دکھایا گیا مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ ہر دور میں تبدیلی کا نعرہ، احتساب کا نعرہ بلند تو ہوا مگر مصلحت اور گٹھ جوڑ کی بھینٹ چڑھ گیا۔ ہر بار عوام نے امید باندھی مگر ہر بار مایوسی ان کا مقدر ٹہری اور پھر کل تک جو لوگ مقدمات کے گرداب میں تھے حکمران بن گئے تو عوام نے بھی نصیب کا لکھا سمجھ کر خاموشی میں عافیت سمجھی۔ نہ عوام کو حکومت کے آنے کی خوشی ہوتی ہے نہ جانے کا غم۔ بلکہ دیکھا یہی گیا ہے کہ جانے پر مٹھائیاں ضرور بانٹی جاتی ہیں۔

 
اس وقت ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس پر مختلف لوگ مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ کا ماننا ہے کہ منتخب حکومت کو کام کرنے دیا جائے چاہے وہ کچھ کرے نہ کرے اسے مدت پوری کرنے دی جائے۔ کچھ کا ماننا ہے کہ حکومت کام کرے تو اس کا رکنا بنتا ہے بنا کام اور اتنے الزامات کے ساتھ حکومت کا رہنا ٹھیک نہیں ہے۔ 
 
یہاں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا ایک حکومت کی تبدیلی سے وہ تبدیلی آجائے گی جس کا خواب اس قوم کو ہمیشہ دیکھا جاتا رہا ہے۔ یقینی طور پر ایسا نہیں ہے۔ مگر ہہاں بھی ایک لمحے کے لئے رک جائیے اور سوچیں کہ تبدیلی مکمل طور پر کسی طوفان کی طرح نازل نہیں ہوتی بلکہ مختلف واقعات کا ایک تسلسل سے وقوع پذیر ہونے کا نام ہے۔ بچہ ایک دم جوان اور جوان ایک دم بوڑھا نہیں ہوجاتا۔ وقت کے ساتھ تبدیلی کا ایک تسلسل جاری رہتا ہے جو ایک خاص مقام پر پہنچ کر ایک خاص شکل اختیار کرلیتا ہے پھر بچے کو جوان اور جوان کو بوڑھا کہا جانے لگتا ہے۔
 
آپ کیا یاد کر سکتے ہیں کہ آج سے پہلے کسی طاقتور شخص کے خلاف اس طرح تحقیقات کی گئی ہوں اور اس قدر ثبوت اکھٹے کیے گیے ہوں۔ اس کے دور حکومت میں ہی اس کے خلاف جے آئی ٹی بنائی گئی ہو۔ نہ صرف اسے بلکہ اس کے پورے خاندان کو جواب دہ ہونا پڑا ہو۔ کیا اسے ایک تبدیلی کا نام نہیں دیں گے؟
 
اب رہ گئی بات کرپشن کے خاتمے کی۔ کرپشن کی تعریف اگر صرف رشوت لینا اور منی لانڈرنگ کرنا ہی لیا جائے تو یقینی طور پر ملک کا مسئلہ صرف کرپشن نہیں ہے۔ لیکن اگر کرپشن کے لفظ کو اس کے وسیع معنوں میں دیکھا جائے جو کہ درست بھی ہوگا تو آپ پر یہ راز بھی کھل جائے گا کہ ملک کے ۹۹ فیصد مسائل کی ذمہ داری کرپشن اور کرپٹ عناصر پر عائد ہوتی ہے۔ کرپشن کے لغوی معنی اگر کسی ڈکشنری میں نہ بھی ڈھونڈے جائیں تو ایم ایس ورڈ میں ٹائپ کرکے اس کے معنی بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں اب ان مطالب کو دیکھتے جائیں اور پاکستان کے مسائل سے جوڑتے جائیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے آجائے گا کہ کرپشن ملک کے کتنے مسائل کی ماں ہے؟

یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ دہشت گرد کبھی کسی ملک میں کوئی سرگرمی تو کیا ایک دن رہ بھی نہیں سکتے جب تک کوئی کرپٹ طاقتور ان کا مدد گار نہ ہو۔ صرف پولیس اپنا کام پوری ایمانداری سے کرے یا اسے کرنے دیا جائے تو جرم تو کیا کوئی کسی بچے کا کھلونا تک نہیں چھین سکتا۔ اب پولیس کیوں اپنے فرائض سے دامن بچاتی ہے اس کی وجہ اگر کرپشن نہیں تو پھر شاید اس کی مجبوری اور قوم کی بدقسمتی کہی جاسکتی ہے۔
 
آخری بات یہ کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل تو دور اس پر بات بھی نہیں کی جارہی اس کی وجہ بھی صرف یہی ہے کہ اگر اس پر حقیقی طور پر عمل کیا جاتا تو لازمی امر تھا کہ کھرا سیاسی طاقتور پنڈتوں کے مندروں تک جا پہنچتا۔ کون بے وقوف بیل کو دعوت دینا پسند کرے گا کہ آ بیل مجھے دونوں سینگ مار۔
 
اختتام پر صرف اتنا ہی عرض کروں گا کہ کرپشن ملک میں غرپت کو جنم دیتی ہے اور غرپت جرائم کو۔ شہر علم کے در نے فرمایا تھا
’حد سے زیادہ امارت اور حد سے زیادہ غربت دونوں جرائم کی طرف لے جاتے ہیں‘

ہمارے ملک میں کرپشن ان دونوں طبقات کو جنم دیتی ہے تو پھر کیسے ممکن ہے کہ جرائم پیدا نہ ہوں۔ دیر سے سہی مگر ملک میں طاقتور کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوا ہے مجھے یقین ہے کہ یہ تسلسل جاری رہے گا اور مضبوط ہوگا ابھی بھی کچھ عناصر ہیں جو کرپٹ اور کرپشن کے مدد گار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کیس میں کسی کو سزا نہ ہو۔ سب بچ جائیں حکومت بھی اور حکومت والے بھی۔ مگر میں نا امید نہیں ہوں وہ سسٹم جو کبھی کرپٹ اور طاقتور کے لیے دیوار تھا اب اس میں دراڑ پڑ چکی ہے۔ باقی کام مسلسل بہنے والا پانی کرے گا۔ میرے نزدیک یہی تبدیلی ہے۔ جی ہاں یہی تبدیلی ہے۔
تعارف: سید علی اکبر عابدی، حیدرآباد پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ بورڈ آف ریونیو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں