71

پاکستانی ڈراموں کا گرتا ہوا معیار۔

گزشتہ دنوں ڈاکٹر شاہد مسعود کے پروگرام میں لیجنڈ اداکار فردوس جمال اور لیجنڈ ڈرامہ رائٹر حسینہ معین کو سننے کا موقع ملا۔ ڈاکٹر صاحب اس حوالے سے لائق تحسین ہیں کہ انہوں نے اس ڈرامہ بازی کے حالات میں کہ جہاں ہر طرف ہر وقت ڈرامہ کے نام پر صرف ڈرامہ ہی ہورہا ہے ان ہستیوں سے گفتگو فرمائی جو اپنی ذات میں کسی درسگاہ سے کم نہیں ہیں۔

یہ سن کر حیرت سے زیادہ افسوس ہوا کہ ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، انکل عرفی جیسے ڈرامے لکھنے والی رائٹر آج کل کے ڈرامے دیکھنا بھی پسند نہیں کرتیں اور ان کے روم کا ٹی وی گزشتہ دو سال سے بند ہے۔ یہ ایک المیہ ہے ظاہر ہے کہ جس معیار کی وہ لکھا کرتی ہیں اسی معیار کے وہ دیکھنا بھی پسند کریں گی اور ان کا ڈرامہ نہ دیکھنا اس بات کی سند ہے کہ آج کا ڈرامہ معیاری نہیں ہے۔ ان کا دور وہ تھا کہ جب ڈرامے کا انتظار ہوا کرتا تھا گھر کے تمام افراد خاص طور پر خواتین مقررہ وقت سے پہلے اپنے کام ختم کرکے ٹی وی کے سامنے آ بیٹھتے تھے۔ ۸ سے ۹ بجے تک سڑکوں پر ٹریفک بہت کم ہوتا تھا اور انتہائی ضروری کام کے بغیر گھر سے باہر نہیں جایا جاتا تھا۔ ہر شخص ڈرامہ کا شائق تھا۔ اس وقت اگر چہ ڈراموں کی تعداد کم تھی مگر معیار اور مقبولیت اس مقام پر تھی کہ لوگوں کو نہ صرف کرداروں کے اصل نام یاد تھے بلکہ ان کے مخصوص ڈائیلاگ تک یاد ہوتے تھے۔ آج کے کتنے ادارکار ہیں جن کے نام لوگوں کو معلوم ہیں؟

حسنیہ معین سے جب پوچھا گیا کہ آپ کے ڈراموں میں بھی مرکز عورت تھی اور آج کے ڈراموں میں بھی مرکزیت عورت کو حاصل ہے تو فرق کیا ہے؟

انہوں نے جواب دیا کہ آج کی عورت کو وہ عزت، وہ مقام حاصل نہیں ہے جو اسے ہمارے ڈراموں میں حاصل تھا۔ اس وقت عورت مرکزی حیثیت رکھنے کے باوجود مار کھا رہی ہے۔ ظلم سہہ رہی ہے۔ سازشیں کر بھی رہی ہے اور ان کا شکار بھی ہوری ہے۔

ڈرامے کسی بھی معاشرے کے عکاس ہوتے ہیں مگر ہمارے ڈراموں میں عورت کا جو روپ دکھایا جا رہا ہے وہ معاشرے میں کہاں ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ معاشرے میں ظلم بڑھ گیا ہے عورت واقعی ظلم کی شکار ہے مگر آج کی عورت پہلے کے مقابلے میں زیادہ با شعور بھی تو ہو گئی ہے۔ وہ شعور ڈراموں میں کیوں نظر نہیں آتا؟ آج کے ڈراموں میں جسمانی قربت تو بڑھ گئی ہے مگر ذہنی اور روحانی قربت کا فقدان ہوگیا ہے جو کسی بھی رشتے کی اساس تصور کی جاتی ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے جب فردوس جمال سے یہ پوچھا کہ کیا آپ موجودہ ڈرامہ سے مطمئن ہیں تو ان کا جواب سن کر کوئی بھی با ضمیر ڈرامہ پروڈیوسر، رائٹر یا ڈائریکٹر یہ کام چھوڑ کر کوئی اور کام کرنے کو ترجیح دیتا مگر ڈرامہ کا نام بھی نہ لیتا۔

انہوں نے کہا کہ بہت معذرت کے ساتھ عرض کروں گا کہ جو اسکرپٹ پڑھنےکو دل نہیں چاہتا وہ کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا یہ جملہ سمجھا جائے تو حرف آخر تھا اس نوحے کا جو وہ موجودہ ڈراموں کی لاش پر کررہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب پڑوسی ملک سے ایک خاص منصوبہ کے تحت آپ کی ڈرامہ انڈسٹری میں داخل کیا جارہا ہے۔ یہ خواتین کی سازشیں ، مکر و فریب سب پڑوسی ملک سے درآمد شدہ ہے۔ آپ کی زبان بھی اب ہندی ساختہ زبان ہے۔ صحیح اردو بولنے والے اب کہاں ہیں؟ ان کی یہ بات بھی بالکل صحیح ہے آپ ٹی وی کی نیوز دیکھ لیں، رپورٹرز کی رپورٹنگ سن لیں، ڈراموں کے ڈائیلاگز سن لیں۔ ہماری زبان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جارہا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ عید کے ایک پروگرام میں نیلم منیر آئی تھیں اور انہوں نے اشاروں سے ایک گانا اپنے ساتھی کو بتانا تھا وہ بار بار کمر پر ہاتھ مار رہی تھیں مگر ان کا ساتھی جو بوجھ نہیں پارہا تھا بعد میں معلوم ہوا کہ موصوفہ گانا رشک قمر بتا رہی تھیں۔ یعنی ان کی نظر میں قمر اور کمر ایک ہوتے ہیں۔

اس پروگرام میں کی گئی گفتگو واقعی ہر اس شخص کے لئے لمحہ فکریہ ہے جو پاکستانی ڈراموں کے لئے تھوڑا سا بھی درد رکھتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں تجربہ کار لوگوں سے سیکھنے کا اب رجحان نہیں رہا۔ ہر شخص خود کو عقل کل سمجھتا ہے۔ پہلے لوگ اپنے سینئرز سے سیکھتے تھے ان سے رائے لیتے تھے۔ آج کل تو اپنا لکھا ہوا کسی کے سامنے پیش کرنا توہین کہلاتا ہے۔

ویسے جہاں تک میرا خیال ہے کہ لوگوں کی دلچسپی اب اس ڈرامے کی طرف زیادہ ہوگئی ہے جو ٹاک شوز پر یا پریس کانفرنسز میں کیا جاتا ہے۔ کبھی ہاتھ ہلا ہلا کر، کبھی للکار کر، کبھی پسنہ پوچھ کر تو کبھی نقلیں اتار کر۔ اگر چہ یہ بھی اسکرپٹڈ ہوتا ہے مگر چوں کہ لائیو ہوتا ہے اس لئے لوگوں کی دلچسپی کا محور ہوتا ہے۔ لہٰذا اب دیکھنا ہے کہ ہمارا ڈرامہ واقعی وہ مقام دوبارہ حاصل کر پاتا ہے اور لوگوں کی دلچسپی کا مرکز بن سکتا ہے جس کے لئے وہ مشہور ہوا کرتا تھا۔ یا پھر ہمیں ان سیاسی ڈراموں سے ہی کام چلانا پڑے گا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

تعارف: سید علی اکبر عابدی، حیدرآباد پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور سندھ بورڈ آف ریونیو میں اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں