109

کیا پچاس ہزار قیمت کی گاڑی قسطوں پر ساٹھ ہزار میں لینا جائز ہے؟

بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa ID: 548-548/Sd=10/1436-U

ادھار کی وجہ سے مبیع کی قیمت میں اضافہ کرنا مطلقاً سود نہیں ہوتا، صورت مسئولہ میں اگر گاڑی کی اصل قیمت پچاس ہزار ہے؛ لیکن قسطوں پر لینے کی صورت میں اس کی قیمت ساٹھ ہزار ہوتی ہے، تو قسطوں پر ساٹھ ہزار میں گاڑی خریدنا جائز ہے، بشرطیکہ عقید کے وقت ہی گاڑی کی ایک قیمت متعین ہوجائے اور قسطوں کی ادائیگی کی مدت بھی طے کرلی جائے، نیز وقت مقررہ پر کسی قسط کی عدم ادائیگی کی صورت میں قیمت بڑھانے کی شرط نہ ہو یا اگر شرط ہو تو مشتری کو متعینہ مدت میں قیمت ادا کرنے کا اطمینان ہو۔

واضح رہے کہ عموماً بینکوں سے قسطوں پر گاڑی خریدنے میں سود کی شکل پائی جاتی ہے، بینک گاڑی کا مالک نہیں ہوتا، وہ گاڑی کی مالک کمپنی کو نقد رقم ادا کردیتا ہے اور خریدار کے نام لون جاری کرکے قسطوار وصول کرتا ہے؛ لہٰذا بینک کے ذریعے مذکورہ تفصیل کے مطابق قسطوں پر گاڑی خریدنا اُسی وقت جائز ہوگا جب کہ بینک گاڑی کا مالک ہوجائے۔

واللہ تعالیٰ اعلم


دارالافتاء،

دارالعلوم دیوبند

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں