66

مکرو موروثیت۔

معذور مقامی حکومتیں مستعفی ہو نہ ہو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اصل بات یہ کہ سارا بھرم گندی دولت کی دلدل میں دھنستا اور غرق ہوتا جارہا ہے، جو بچانے کی کوشش کرے گا وہ بھی ساتھ جائے گا لیکن وہ جو عدیم نے کہا تھا۔

تمام عمر کا ہے ساتھ آب و ماہی کا
پڑے جو وقت تو پانی نہ جال میں آئے

تین باتوں پر ماتم جاری ہے۔’’جے آئی ٹی‘‘ کی رپورٹ کا پہلے سے اندازہ تھا تو کیسے؟ دوسرا یہ کہ’’بحران‘‘ پیدا ہورہا ہے یا ہوچکا ہے۔ تیسرا جمہوریت کا آئیل ٹینکر الٹنے کی بات جسے دراصل ڈرائیور نے طاقت اور دولت کے نشے میں دھت ہو کر خود الٹایا ہے۔جہاں تک’’جے آئی ٹی‘‘کی رپورٹ بارے اندازوں کا تعلق ہے تو کوئی تعصب نہیں، ان کی چیخوں سے لوگوں نے جان لیا تھا کہ……….

پھس گئی جان شکنجے اندر جو بیلن وچ گنا
روئو نوں کوئو ہُن روئو محمدؔ ہن جے روے تے منا

والا’’حادثہ‘‘ ہوگیا ہے۔ ہنستے ہوئے پیش ہوتے تھے، روتے چیختے چلاتے باہر آتے تھےجو اس بات کا اعلان اور اعتراف ہوتا تھا کہ جو بات اب تک بنی ہوئی تھی بگڑ رہی ہے۔

حقیقت یہ کہ یہ لوگ ملکی قانون نہیں، قانون قدرت کی پکڑ، لپیٹ اور زد میں آئے ہیں کہ’’ات خدادا ویر‘‘ ہوتا ہے اور اب انہیں وکیلوں کی نہیں عامل بابوں، بنگالی جادوگروں اور کالے علم کے ماہروں کی ضرورت ہے۔ یہ دلیلوں کا نہیں تعویذ گنڈوں کا کیس ہے۔ 63۔62 پر جتنی چاہیں چرب زبانی کرلیں، یہ آپ کے آئین مقدس کا حصہ ہیں۔ جانے پہچانے ذرائع آمدنی سے کہیں زیادہ اثاثے اور لائف سٹائل کدھر لے جائیں گے؟ دستاویزات میں جعلسازی کا ممکنہ جواب یا جواز کیا ہوسکتا ہے؟ نمائندگی کا ایکٹ کیا کہتا ہے؟ گوشوارے ادھورے یا جھوٹے۔ کوئی ایک آدھ زخم ہو تو بندہ مرہم پٹی کا سوچے، یہاں تو ہر مسام ناسور دکھائی دیتا ہے۔

قانون قدرت کی لپیٹ میں آنے کا اس سے بڑا اور بھیانک ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ باپ، بیٹی، دو بیٹوں اور والدہ محترمہ یعنی صرف5عدد افراد کے بیانات آپس میں نہیں ملتے بلکہ بدترین تضادات کا شکار ہیں کہ اکٹھے رہتے ہوئے بھی نوٹس ایکسچینج نہ کرسکے تو یہ کسی’’جے آئی ٹی‘‘ یا عدالت کا نہیں، قانون قدرت یعنی اوپر والے کا کمال ہے جو جب چاہے شاطر سے شاطر کی عقل پر بھی دبیز ترین پردے ڈال سکتا ہے۔ کیا ہمیں دکھائی نہیں دیتا کہ نواز خاندان نادانستگی اور بے خبری میں ہی ایک دوسرے کو بری طرح بے نقاب اور گھائل کرتا چلا گیا۔ عملاً یہ خود ایک دوسرے کے خلاف گواہ ہیں اور قارئین گواہ رہیں یہ بگٹٹ بد سے بدترین کی طرف جائیں گے۔ بدھ کی رات میں نے’’رپورٹ کارڈ‘‘ میں کہا تھا کہ نواز فیملی اس معاملہ کو جتنا طول دے گی، ان کی تکلیف اور تذلیل میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ غیب کا علم صرف اللہ کو لیکن یہ تو کامن سینس کی بات اور نوشتہ دیوار ہے کیونکہ جب بندے اندھے کردئیے جائیں تو’’نوشتۂ ‘‘ کیا، دیوار ہی دکھائی دینا بند ہوجاتی ہے اور ان کے ساتھ اس کیس میں روز ا ول سے یہی کچھ ہورہا ہے۔
خدا کی پناہ کہ یہ خود اپنے خلاف لگاتار سازش میں مصروف ہیں اور سازشیوں کو باہر ڈھونڈرہے ہیں۔ دوسری طرف چنڈال چوکڑی اور شاہی طلائی کٹلری بوکس قبر کھودنے والی کدالوں میں تبدیل ہوچکا۔ اتنے ڈھیر سارے بروٹس تو سیزر کے حصہ میں نہ آئے حالانکہ بروٹس تو ایک بھی مان نہیں ہوتا۔اب چلتے ہیں ان کی طرف جو ہیجان میں’’بحران بحران‘‘ کی مالا جپ رہے ہیں تو ایک خاندان کے لئے ہوگا ، پاکستان کو کسی بحران کا سامنا نہیں۔ نئے کلچر کی بنیاد رکھی جارہی ہے، نئی سمت کا تعین ہورہا ہے، ہر آئندہ بحران کے لئے قبرستان تیار ہورہا ہے کہ اس ملک کا اصل بحران اندھا دھند بلا روک ٹوک ’’کرپشن‘‘ ہے جس نے اقتصادیات سے لے کر اخلاقیات تک کو ادھیڑ کے رکھ دیا۔ اس’’نوازنا کلچر‘‘ کی موت میں ہی زندگی ہے کیونکہ اگر گاڈ فادر منطقی انجام کو پہنچتا ہے تو دیگر تلنگے، مشٹنڈے اور کن ٹٹے بھی قانون کی زد اور ضرب سے نہیں بچ سکیں گے۔ مافیاز نے ملک کو مذاق بنا کے رکھ دیا ہے۔ کوئی محکمہ شعبہ ایسا نہیں جہاں سے آئے روز کروڑوں، اربوں، کھربوں کی لوٹ مار کی دلخراش خبریں نہ آتی ہوں تو یہ کھیل کب تک افورڈ کیا جاسکتا ہے۔رہ گئی یہ جمہور دشمنی جمہوریت تو کیا باپ کے بعد بیٹی اور پھر اس کے بعد نواسا ہی جمہوریت ہے تو بھاڑ میں جائے۔ پیپلز پارٹی اور ان کا پیٹرن ایک تو وہ ان کے طفیلیوں کو مبارک ہو۔ جینوئن جمہوریت کے لئے جان بھی حاضر لیکن کسی خاندان کو پاکستان کی’’رجسٹری‘‘ دینے کا سوچنا بھی وطن اور عوام دشمنی ہے۔

اوپر موروثیت نیچے بے دست و پا نام نہاد مقامی عوامی حکومتیں؟ اس جگاڑ کو کوئی ٹٹیری یا فکری ٹٹ پونجیا ہی جمہوریت کہہ سکتا ہے۔ جینوئن جمہوریت ہو تو اس کے ڈی ریل ہونے کا تصور بھی سیاسی کفر سمجھا جائے لیکن ایسا ہے نہیں ۔کہتے ہیں برطانوی جمہوریت طویل پراسیس سے گزری ہے تو کیا تم پہیہ نئے سرے سے ایجاد کرکے ہمیں بھی ہزار سالہ عذاب سے گزاروگے؟ اگر کارمینو فیکچرنگ شروع کریں تو ویسی کار بنائو گے جیسی فورڈ نے بنائی تھی؟ نہ اس میں فیول ٹینک تھا نہ سٹیئرنگ، نہ بریکیں تھی نہ ہارن نہ چھت تھی نہ دروازے۔ ہوش کے ناخن لو کہ آج کوئی ملک طیارہ سازی شروع کرے تو کیا پہلے ویسا جہاز بنائے گا جیسا رائٹ برادرز نے بنایا تھا؟20ویں صدی کے پہلے دو عشروں تک تو برطانیہ میں عورتوں اور عوام کو ووٹ کا حق ہی نہیں تھا، 1918میں21سال سے زیادہ عمر کے مردوں اور30سال سے زیادہ عمر کی عورتوں کو پہلی بار ووٹ کا حق ملا تو ادھر دھکیل کے ہزار سال پراسیس سے گزاروگے ہمیں؟ بند کرو یہ ڈرامہ کہ آہستہ آہستہ بہتری آئے گی…….دنیا بھر میں ماڈلز موجود ہیں، کوئی اٹھالو یا دو چار کی کاک ٹیل بنالو لیکن ٹرک کی بتی کے پیچھے نہ لگائو ورنہ یہ’’ریل ڈی ریل‘‘ کا کھیل چلتا رہے گا۔2017میں جمہوریت کی آڑ میں مکروہ موروثیت اور معذور مقامی حکومتیں کم از کم میرے وارے میں ہرگز نہیں۔

( شکریہ حسن نثار ڈاٹ پی کے)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں