92

بسنت میلہ 2017 ہالوندا سٹاک ہوم۔

بسنت پتنگ کا تہوار پاکستان اور انڈیا دونوں جانب کی پنجاب ریاستوں میں مقبول ہے۔ یہ تہوار تاریخی طور پر راجہ رنجیت سنگھ کے دور میں بہار کا خیرمقدم کرنے کے لئے منایا جاتا تھا۔ تہوار کی تقریبات پر مذہبی رنگ زیادہ غالب تھا۔

پاکستانی پنجاب میں بسنت کے موقع پر دھاتی دھاگوں کے استعمال سے بعض ہلاکتوں کے باعث صوبائی حکومت نے چند برس قبل بسنت کے تہوار اور اس موقع پر پتنگیں اڑانے پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔

انڈین پنجاب میں بسنت میلوں میں خواتین اور بچے پیلے رنگ کے کپڑوں میں ملبوس ہوکر بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ انڈیا میں ان میلوں کو بسنت پنچمی کہتے ہیں۔

بسنت کا تہوار چونکہ خالصتاً پنجاب کا تہوار ہے اسلئے پنجابی جس ملک میں بھی جائیں وہ اپنا تہوار نہیں بھولتے۔ یہی حال سٹاک ہوم سویڈن میں مقیم خواجہ مقصود بٹ صاحب کا ہے۔ وہ اپنے حلقہ احباب اور بہت سے دوستوں کیساتھ مل کر گزشتہ ایک دہائی سے بسنت کا تہوار منانے کا اہتمام کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں بتشرکا کمون کا شکریہ ادا کرنا بھی بنتا ہے جو پنجابیوں کے اس تہوار کو منانے میں مالی مدد فراہم کر رہا ہے۔ بسنت میلے کے باقی اخراجات یہاں موجود کھانے اور ملبوسات کے سٹالز کی بکنگ سے حاصل کئیے جاتے ہیں۔

گزشتہ دنوں سٹاک ہوم کے علاقے ہالوندا میں اس بسنت فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا، جسمیں مہمان خصوصی سویڈن اور فن لینڈ میں پاکستان کے سفیر جناب طارق ضمیر صاحب اور سویڈش ممبر قومی اسمبلی سرکن کوزے تھے۔ گزشتہ روز منعقد ہونے والا میلہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اس میلے میں پاکستان کا سترواں یوم آزادی بھی منایا گیا۔

میزبانی کے فرائض سائرہ نوید اور یاسر اکرام نے بہت خوش اسلوبی کیساتھ سرانجام دئیے۔ سائرہ نوید نے ریڈیو پاکستان اور کئی بڑے ٹی وی چینلز کیساتھ کام کیا ہوا ہے اور انہیں سٹیج پر حاضرین کیساتھ انٹرایکشن کرنے میں کمال مہارت حاصل ہے۔

اس دفعہ بسنت فیسٹیول والے دن شدید بارش اور تیز ہوا کی وجہ سے میلہ کافی دیر سے شروع ہوا اور وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہا۔ بارش کی وجہ سے پتنگیں اڑانے کا کام اتنی شدومد سے شروع نہیں ہوسکا جتنی توقع کی جارہی تھی۔

خراب موسم اور بارش کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں پاکستانی خاندانوں نے شرکت کی۔ کچھ سویڈش خواتین و حضرات بھی اس فیسٹیول میں شرکت کرنے کیلئے پہنچے ہوئے تھے۔ اس فیسٹیول میں درجنوں کی تعداد میں کھانوں اور ملبوسات کے سٹالز لگائے گئے تھے۔ سکھ برادری سے کچھ نوجوانوں نے اپنے روایئتی پنجابی لباس میں پنجابی بھنگڑا ڈالا اور سکھ خواتین نے پنجابی گیت گائے۔ میلہ شام آٹھ بجے تک جاری رہا اور لوگوں نے اس فیسٹیول کو خوب آنجوائے کیا اور فیسٹیول کے انتظامات کو سراہا۔

خواجہ مقصود بٹ اور انکی ٹیم ایک کامیاب میلہ منعقد کروانے پر یقیناً مبارکباد کے مستحق ہیں۔


p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 2.0px 0.0px; font: 14.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 17.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p4 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #e4af0a}
span.s3 {color: #e4af0a}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں