66

عائشه گلالئ کون ھے؟

عائشه گلالئ پاکستان کے قبائلی علاقه وزیرستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ سیاست میں آنے سے پہلے وه ایک سماجی ورکر تھیں اور خواتین کے حقوق لیئے کام کرتی تھیں۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کر رکھی ھے۔

انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمیٹیرین سے اپنے ابتدائی سیاسی کریئر کا آغاز کیا پھر پی پی پی چھوڑ کر آل پاکستان مسلم لیگ میں شامل ھوگئیں اور دو ہزار باره میں پی ٹی آئی میں شامل ھوگئیں۔

عمران خان نے قبائلی علاقے کی خواتین کو ترجیح دیتے ھوئے انھیں دو ھزار تیرہ کے الیکشن میں خواتین کیلئے مخصوص نشستوں پر ممبر قومی اسمبلی بنوایا اور محترمه کا چار سال تک ممبر رھنے کے بعد اب اچانک ضمیر جاگ گیا ہے۔ اور انہوں نے غیرت و عزت کے الزامات لگا کر پی ٹی آئی سے راھیں جدا کرلی ہیں-

اسکی اصل وجه کیا بنی وه بھی قارئین کی نظر کرتا ھوں۔

سیاسی پارٹی تبدیل کرنا ھر ایک کا جمہوری حق ھے لیکن یه ھماری سیاست کا ایک المیه بنتا جا رہا ہے کہ مراعات اور مفادات لینے کے بعد آخر میں ضمیر جاگ جاتا ھے۔ جب مراعات اور مفادات پاس ھوتےھے سب کچھ ٹھیک ھوتا ھے اگر پی ٹی آئی میں عزت اور غیرت کا مسئله تھا تو کیوں پانچ سال تک وہاں رہی-

مصطفی کمال بیس سال تک الطاف حسین کو اپنا روحانی باپ مانتا رہا جب مراعات اور مفادات چھن گۓ تو الطاف حسین کے خلاف ضمیر جاگ گیا-

اسی طرح جاوید ھاشمی کسی وقت نواز شریف کا دائیں بازو ھوا کرتے تھے لیکن مراعات اور مفادات چھن گئے تو ضمیر جاگ گیا –

پھر عمران خان کے ھمنوا بن گئے۔ وہاں سے بھی کیوں نکل گئے سب کو پته ہے سیاسی وفاداری اصولوں پر تبدیل نہیں ھوتی ھے بلکہ اس کیلئے آخر میں جاتے وقت کچھ نا کچھ الزامات ایسے لگاتے ھے جس سے پوری سیاست گندی ھوجاتی ھے-

عائشه گلالئ کا بھی تحقیق کرنے پر پته چلا کل انھوں نے تین گھنٹے تک عمران خان سے ملاقات کی جس میں انھوں نے حلقه این اے ون پشاور سے الیکشن کے لیۓ ٹکٹ کی یقین دہانی مانگی تو عمران خان نے ٹکٹ کو پارلیمانی بورڈ سےمشروط کردیا۔ اسکے علاوہ اسے کل ھونے والے جلسہ میں بھی تقریر کا موقع نہ ملنے کا شکوه تھا –

یه وہی عائشه گلالئ ہیں جو اس سے پهلے ٹی وی پر پی ٹی آئی کے جلسوں میں خواتین کی شرکت کا دفاع کر رہی تھیں، آج خواتین کو نچانے کا الزام لگا رہی ہیں اور مغربی کلچر کی بات کر رہی ہیں لیکن یه بتانا بھول گئی ہیں کہ اسکی اپنی بہن سکوائش کی کھلاڑی ھے جو آدھے لباس میں مغربی ملکوں میں کھیلتی ہیں-

سیاست اب اصولوں سے ہٹ کر مراعات، مفادات اور انا پرستی میں بٹ گئی ھے، سیاسی جماعتوں کو بھی چاہیئے که وه ایسے عناصر جو  صرف مراعات، مفادات اور اناپرستی کی بنیاد پر سیاسی وفاداری تبدیل کرتے ہیں انھیں اپنی صفوں سے دور رکھیں اور اصول پسند لوگوں کو سامنے لائیں..
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

عائشه گلالئ کی حقیقی بہن ماریہ تورپکئی اصلی اسلامی لباس پہن کر سکواش کھیلتی ہیں، چند تصاویر قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں