128

ع سے عورت۔

عورت اس کائنات کی سب سے خوبصورت تخلیق۔ عورت یعنی ع سے عزت، و سے وفادار، ر سے رشتہ نبھانے والی اور ت سے تابعدار۔ عورت ان تمام خوبیوں کا مرقع ہے۔

یوں توعورتوں پر بہت کچھ لکھا گیا ہے مگر زیادہ تر مزاحیہ انداز میں ۔ عورتوں پر لطائف کا سلسلہ بھی بہت وسیع ہے۔ مگر یہاں میرا مقصد صرف ایسی باتیں بیان کرنے کا ہے جو سنجیدہ بھی ہیں اور روزمرہ کا مشاہدہ بھی مگر ہم ان کی طرف نظر نہیں کرتے۔ مردوں کے اس معاشرے میں عورت کی زندگی بہت کٹھن ہے۔ عورت یعنی صنف نازک اپنی پیدائش سے لے کر مرتے دم تک اس قدر مشکلات دیکھ اور سہہ چکی ہوتی ہے کہ مرد صرف سوچ کر ہی کانپ جائے۔ سب سے پہلے معاشرہ کا ایک انتہائی گھناؤنا برتاؤ اس کی پیدائش پر ہوتا ہے ۔ جہاں اکثر ماں باپ یا با کثرت رشتہ دار لڑکی کی پیدائش پر برا سا منہ بنا کر اللہ کی مرضی قرار دے کر اگلی بار لڑکا ہونے کی امید لے کر زندگی گذارتے ہیں۔ اس کے فی الفور بعد لڑکی کی تربیت میں اس قدر بے جا سختی اور روک ٹوک سے کام لیا جاتا ہے کہ وہ خود کو کسی اور ہی سیارے کی مخلوق سمجھتی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے مذہب نے عورت کو تن ڈھانپنے کا حکم فرمایا ہے مگر اس کے ساتھ ہی مردوں کو بھی نظر نیچی کرنے کا حکم ہے مگر چونکہ ہم نیچے دیکھتے ہی نہیں اس لئے یہ حکم بھی ہمیں نظر نہیں آتا۔

یہ سختی اور روک ٹوک بھی اسی لئے ہوتی ہے تاکہ مردوں کے اس معاشرے میں بے چاری لڑکی کو کوئی ایسا داغ نہ لگ جائے جو اچھا نہ ہو گر چہ آج کل کے دور میں داغ تو اچھے ہوتے ہیں مگر صرف مردوں پر کہ اس سے ان کی مردانگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں تربیت میں ایک جھول ہمیشہ رہا ہے جہاں لڑکی کو تن ڈھانپنے کا حکم دیا جاتا ہے وہیں اپنے لڑکے کو نظر نیچی رکھنے کا حکم نہیں دیاجاتا۔

خیر میرا مقصد صرف معاشرہ کے دہرے معیار کا تذکرہ کرنا نہیں ہے کہ اس کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے بلکہ ساتھ ساتھ عورت یا لڑکی کی زندگی کے ان گوشوں کو اجاگر کرنا ہے جن میں وہ مرد کی عزت کی خاطر خود کو مصیبت میں ڈالتی ہے مگر بدلے میں کوئی انعام یا تعریف کی مستحق بھی قرار نہیں پاتی۔ سخت ترین گرمی کہ جس میں مر د حضرات قمیضیں اتار کر بھی ہائے گرمی ہائے گرمی کا نعر لگاتے نظر آتے ہیں وہاں عورتیں اسی گرمی میں گھر کے اندر بھی دوپٹہ سر پر رکھے باورچی خانہ میں آگ کے سامنے گھر والوں کے لئے کھانے کا انتظام کرتی نظر آتی ہیں۔ اپنے باپ اور بھائی کا سر ا ونچا رکھنے کی خواہش میں اپنا سر ڈھانپ کر رکھتی ہیں۔ اور اسی پر بس نہیں جب گھر سے کسی کام سے باہر جانا ہو تو سخت گرمی میں بھی حجاب یا برقعہ لے کر جو کہ عمومی طور پر سیاہ رنگ کا ہوتا ہے جاتی ہیں اور یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ سیاہ رنگ گرمی کو زیادہ جذب کرتا ہے۔
 
اس کے علاوہ قدرتی طور پر خواتین کو جو کچھ ان کی ذات میں سنبھالنا پڑتا ہے وہ ایک مرد کے لئے ممکن ہی نہیں ہے۔ جتنے لمبے بال ایک عورت کو سنبھالنے پڑتے ہیں اس کے آدھے بال بھی ایک مرد کو پاگل کرنے کے لئے کافی ہیں۔ اس کے علاوہ بچے اور اور ان کی ضروریات جو مکمل طور پر ماں یعنی عورت کے ساتھ وابستہ ہیں کیا کوئی مرد یہ فریضہ انجام دینے کا سوچ بھی سکتا ہے۔ حالات جیسے بھی ہوں گرمی ہو یا سردی وسائل موجود ہوں یا نہ ہوں۔ ایک عورت نے ہمیشہ پاکی و نا پاکی کا خیال رکھنا ہے باورچی خانے کی طہارت سے لے کر بچوں کی غلاظت تک ہر چیز کی ذمہ داری اس کے کاندھوں پر ہے۔ ان ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ موسم کتنا بھی گرم ہو حالات کیسے بھی ہوں عورت نے اپنے کپڑوں اپنے دوپٹہ کا لازمی خیال بھی رکھنا ہوتا ہے ۔ گویا ایک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے۔
 
بات یہیں پر ختم نہیں ہوجاتی ان تمام ذمہ داریوں سے عہدہ برآء ہونے کے ساتھ ساتھ خاتون نے اپنے آپ کو سنوارنے اور خوبصورت نظر آنے کے جتن بھی کرنے ہوتے ہیں کہ شوہر نامدار کے دل میں جگہ قائم رہے۔ نہ جانے کتنے ٹوٹکے کتنے نسخے آزمائے جاتے ہیں ہر گذرتا دن عورت کے جسم پر اس کے زوال کی نشانی لگاتا ہے جسے مٹانے کے لئے وہ ہر ممکن کوشش کرتی ہے۔ 

اگر سوال یہ اٹھایا جائے کہ عورت کے اس قدر کٹھن روز و شب اور اس قدر محنت و مشقت کے پیچھے کون کارفرما ہے تو یہ بھیانک حقیقت بھی نظر آتی ہے کہ مردوں سے زیادہ خود عورتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔ عورتیں مردوں کے لئے کچھ کریں نہ کریں مگر دوسری عورتوں سے ممتاز نظر آنے کے کوشش میں اس قدر زحمتیں اٹھاتی ہیں۔ انہیں مردوں سے زیادہ دوسری عورتوں کی باتوں کی پرواہ ہوتی ہے اور اپنے معاملات پس پشت ڈال کر دوسری عورتوں کی ٹوہ میں لگے رہنا اور کوئی قابل گرفت چیز ڈھونڈ نکالنا عورتوں کا ہی پسندیدہ مشغلہ ہے۔ 
اگر سب خواتین یہ کام چھوڑ دیں تو یقین جانیں ہر عورت کی زندگی میں ۸۰ فیصد آرام آسکتا ہے۔ کسی کے بال ہوں یا کسی کی آنکھیں، کسی کی رنگت ہو یا کسی کا لباس خواتین اگر رائے زنی نہ کریں تو کسی کو ان معاملات میں فکر مند ہونے کی شاید اتنی ضرورت نہ پڑے۔ مرد بہت سے معاملات میں خراب سہی مگر ٹوہ لگانا اور طعنہ زنی میں مشاق نہیں ہیں گرچہ کچھ مرد حضرات ہوتے ہیں مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں ایک دوسرے کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کی اور ایک دوسرے کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں