92

میاں مرحب۔

کبھی کبھی سچی بات منہ سے نکل ہی جاتی ہے۔ اگر اپنوں کی زبان سے نکلے تو اس بات پر یقین ہو جاتا ہے کیونکہ گھر والوں سے کچھ پوشیدہ نہیں ہوتا۔ اکثر گھر کا بھیدی ہی لنکا ڈھا دیتا ہے اور ایسی تباہی و بربادی کرتا ہے کہ نام و نشان ہی مٹا دیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی نواز شریف کے بھانجے، عابد شیر علی، نے کیا ہے۔ موصوف نے ٹوئیٹر پر میسیج لکھا کہ جب مرحب نے للکارا تو سب بھاگ گئے۔

بول ٹی وی کے اینکر جناب عامر لیاقت حسین بھی جذاباتی ہو گئے اور فرمایا کہ وہ عابد شیر علی پر پولیس میں مقدمہ دائر کریں گے۔ عامر بھائی ! آپ کا ایمان اور نبی پاک و آل نبی سے محبت اپنی جگہ لیکن میں حیران ہوں کہ آپ نے عابد شرلی کو اتنا سیریس لے لیا؟ طلال، دانیال ، سعد رفیق، ثناء اللہ ، خاقان عباسی وغیرہ سب درباری ہیں۔ میں بھی نواز شریف کو غیر مسلم نہیں کہتا مگر یہ راز تو گھر والوں نے افشا کر دیا۔ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی۔ رسوائی ہم تو نہیں کر رہے۔ رسوا خود ہی ہو رہے ہیں۔ عابد شرلی کا تاریخی علم اتنا ہی ہے کہ میاں نواز شریف کو یہودی بنا دیا۔ مبارک ہو اے اہل نون۔ میاں صاحب کے میرٹ میں ایک مزید میڈل کا اضافہ ہو گیا۔ ایک عام مسلمان تو مرحب کی تاریخ سے واقف ہے مگر یہ تحریر برادران نون لیگ کے لئے ہے شاید علم میں اضافہ کا باعث ہو۔

جناب سرور کائنات کے زمانے میں خیبر مدینہ سے 400 کلو میٹر کے فاصلہ پر ایک یہودی بستی تھی جو اب بھی ہے۔ سرکار دو عالم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد اسلام کی تبلیغ شروع ہوتے ہی کافروں اور مشرکوں نے اسلام قبول کرنا شروع کر دیآ۔ دیکھتے دیکھتے اسلام خیبر کے گرد و نواح تک پھیل گیا۔ مرحب خیبر کا سردار تھا اور اپنے وقت کا بہادر و جنگجو مشھور تھا۔ جب مرحب کو پتہ چلا کہ اسلام نزدیک پنہچ گیا ہے تو اس نے نزدیکی مسلمان بستیوں پہ حملے شروع کر دئے۔ نہتے اور معصوم مسلمانوں کا قتل عام شروع کر دیا۔ جب آنحضرت رسول مقبول کی بارگاہ اقدس میں یہ خبر پونھچی تو آپ نے مرحب کو امن ا آتشی کا پیغام بھیجا اور فرمایا کہ مسلمانوں کا قتل عام بند کریں۔

مرحب نے آپ جناب کے پیغام پہ کسی بھی رد عمل کے اظہار کے بغیر ملسمان بستیوں کو تاراج کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ مجبوراً آپ نے لشکر تیار کیا اور خیبر کی طرف روانہ ہو گئے۔ سرکار دو عالم کی فوج تعداد میں کوئی اتنی بڑی نہیں تھی۔ بالآخر اسلامی فوج خیبر میں داخل ہو گئی۔ جب مرحب کو پتہ چلا تو بستی کے باسیوں کو حکم دیا فوراً قلع قموس میں داخل ہو جائیں۔ قلعے تو بہت تھے مگر قموس یہودیوں کا سب سے بڑا اور مظبوط قلع تھا۔ البدایہ النہایہ کے مطابق قموس کا دروازہ چالیس آدمی کھولتے تھے۔ نبی پاک کی رہبری میں مسلمانوں نے قلع قموس کا محاصرہ کر لیا۔ مسلمان اپنے گھروں سے دور اور جنگی ساز و سامان بھی یہودیوں کے مقابلہ میں نہ ہونے کے برابر تھا مگر جذبہ ایمان سے شار اور اپنے محبوب کے ہلکے سے اشارے پہ مرنے کے لئے تیار تھے۔

یہ محاصرہ 39 ایام تک جاری رہا مگر مسلمانوں کو کامیابی نہ ملی۔ آخری دن جناب سرور کائنات نے اعلان کیا کہ کل میں علم اس کو دوں گا جو کرار ہوگا غیر فرار ہوگا، وہ خدا اور خدا کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور خدا اور خدا کا رسول اس سے محبت کرتے ہوں گے۔ لشکر میں موجود تمام صحابہ کرام علم پانے کے خواھشمند تھے۔ چالیسیوٰں روز کی صبح کو جب لژکر اسلام جمع ہوا تو نبی پاک نے مولا علی کو بلا کر علم عطا کیا۔ اپنے مبارک ہاتھوں سے ذوالفقار پہنائی اور جنگ کے لئے روانہ کیا۔ مولائے کائنات کو آتا دیکھ کر مرحب نے اپنے بھائی عنتر کو مقابلہ کے لئے بھیجا۔ عنتر جب مد مقابل ہوا تو مولا علی نے اسے دعوت اسلام دی مگر عنتر نے گستاخی کی اور حملہ آور ہوا۔ ادھر سے مولا نے نعرہء تکبیر بلند کیا اور ایسا وار کیا کہ عنتر زمین بوس ہوکر واصل جہنم ہوا۔ 

بھائی کی موت نے مرحب کو پاغل کردیا اور زرہ پہنے ہوئے، گھوڑے پہ سوار، سامان حرب سے لیس ہو کر رجز پڑھتا ہوا قلعہ سے باہر نکلا۔ حضرت علیؑ نے جوابی رجز میں فرمایا کہ میں وہ ہوں جسکی ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے۔ دونوں جوان روبرو آئے۔ مولا نے دعوت اسلام دی اور فرمایا کہ بندہ خدا ! اللہ اور اس کے بر حق رسول پہ ایمان لے آو تاکہ خون خرابہ نہ ہو۔ مرحب تھا کہ دیوانہ وار حملہ پہ حملہ کر رہا تھا۔ ایک مرتبہ غلام صادق مصطفیٰ ، شیر خدا، علی مرتظیٰ نے قبضہ ذوالفقار پہ ہاتھ ڈالا ، دو دھاری تلوار خیبر کی فزا میں چمکی، یداللہ نے ابھر کر وار کیا ، ذوالفقار مرحب کے سر کو چیرتی ہوئی زمین میں دھنس گئی جہاں سے چشمہ پھوٹ پڑا جو آج بھی جاری ہے۔ 
خیبر کی وادی میں صدا گونجی کہ اٹھنے کا اب نہیں ہے یہ مارا علی کا ہے۔ حضرت علیؑ قلعہ کے دروازہ کی طرف بڑھے اور ایک ہی جھٹکے سے دروازہء قموس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا اور لشکر اسلام کو آنے کا اشارہ کیا۔ لشکر اسلام نعرہ تکبیر بلند کرتا ہوا قلعہ میں داخل ہو گیا۔ جنگ خیبر میں نبی پاک کو للکارنے والے مرحب و عنتر تھے اور خندق میں للکارنے والا عمرو بن عبدوود تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب بھی کسی نے للکارا تو آپ نے حضرت علیؑ کو حکم دیا کہ للکار کا جواب دیں۔ جب علیؑ نے للکارا تو مرحب و عنتر اور عمرو کا نام نشان مٹ گیا۔

نواز شریف اور نون لیگ کی عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ 28 جولائی سے لے کر اب تک نون لیگ نے اہل بیت اطہار کی شان میں پے در پے گستاخیاں کی ہیں۔ کبھی مریم کو جناب سیدہ زینب سلام اللہ (نا اعوذب اللہ ) سے ملا کر دختر رسول کی شان میں گستاخی کی اور کبھی میاں کو مرحب بنا کر امام الانبیاء کی شان میں گستاخی جو کہ کسی بھی مسلمان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ مریم اپنے کردار کو دیکھے اور اپنے خاوند اور اپنے خاندان کے کردار کو دیکھے۔ بے شرمی کی انتہاء ہے کہ مریم نواز جیسی بدکردار عورت کو دختر رسول کے ساتھ ملایا جا رہا ہے۔

تاریخ کا مطالعہ کریں اور یاد رکھیں اللہ ان کا دنیا میں نام و نشان مٹا دیتا ہے جو خانوادہء عصمت و طہارت کے گستاخ ہوتے ہیں۔ ابن مرجانہ، شمر اور یزید ملعون کی قبروں کے نشان تک نہیں ملتے اور دوسری طرف مکہ، مدینہ، نجف اور کربلا میں جا کر دیکھیں کہ مسلمانوں کا نہ ختم ہونے والا ہجوم لگا رہتا ہے۔

نون لیگیو عقل کے ناخن لو اور اپنے مرحب کے گلے میں پٹہ ڈالو۔ یہ نہ ہو کہ اس میاں مرحب کی گیدڑ بھبکیاں سن کر محبان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و آل رسول میدان میں آجائیں اور اس مٹی کے شیر کو واصل جہنم کر دیں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں