102

سٹاک ہوم ہوسبی میں پاکستان میلہ۔

hosby mela stockholm 2017

سویڈن میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد دوسرے سکنڈینیوین ملکوں کی نسبت بہت کم ہے۔ 1970 کی دہائی میں جب سیکنڈینیویا میں آبادی بہت کم تھی اور کام کرنے والوں کی شدید کمی ہونے کی وجہ سے مختلف انڈسٹریز بند ہونے والی تھیں تب پاکستان سے کشمیر، راولپنڈی، جہلم، گجرات، گجرانوالہ اور منڈی بہاؤ دین کے اردگرد کے گاؤں کے لوگ کثیر تعداد میں اس نیت سے سکنڈینیوین ملکوں ڈنمارک، ناروے اور سویڈن میں معاشی ہجرت کر کے آباد ہوگئے کہ کچھ لاکھ روپے اکھٹے کر کے واپس پاکستان چلے جائیں گے، مگر کچھ سال گزارنے کے بعد یہاں موجود سہولیات اور بہترین انفراسٹکچر سے متاثر ہو کر انکے پاکستان میں موجود خاندان بھی ہجرت کر کے ان ملکوں میں آباد ہو گئے۔ پاکستانیوں نے شروع دن سے ڈنمارک اور ناروے میں رہنا پسند کیا جسکی وجہ سے سویڈن میں چند ہزار پاکستانی ہی آباد ہو سکے۔

2008 میں سویڈش دارالحکومت سٹاک ہوم میں رہائش پذیر دو مشہور پاکستانی شخصیات چوہدری رحمت اور آصف بٹ صاحب  نے پاکستانی کمیونٹی کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کرنے کے لئے ایک میلے کا پروگرام بنایا، بعد میں اس کار خیر میں حاجی مختار، ظفر چوہدری، چوہدری سرور، محمد علی لاشاری ، اور عامر ندیم صاحب بھی شامل ہو گئے۔ جیسے جیسے کارواں بڑھتا گیا اسمیں جناب راشد بشیر، عامر ندیم، ابوبکر بٹ، چوہدری مسعود مشتاق، سمیع ابرار، علی لوسر، علی قدیر اور محمد صابر بھی شامل ہوگئے۔ میلے کی مینیجمنٹ میں خواتین کو بھی نمائندگی دی گئی ہے۔ خواتین میں منزہ لوسر، صائمہ خان اور فردوس رحمت مینیجمنٹ کا حصہ ہیں۔ اس میلے کو منانے کیلئے اگست کے دوسرے ویک اینڈ کا انتخاب کیا گیا اور چودہ اگست کی مناسبت سے اس میلے کا نام پاکستان میلہ سٹاک ہوم رکھا گیا۔ گزرتے وقت کیساتھ یہ میلہ سویڈن میں پاکستانی کمیونٹی کا سب سے بڑا میلہ بن گیا۔

گزشتہ روز منعقد ہونے والا میلہ اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ اس میلے میں پاکستان کا سترواں یوم آزادی بھی منایا گیا۔ ہوسبی کے وسیع وعریض میدان میں کثیر تعداد میں مختلف کھانوں اور ملبوسات کے سٹالز لگائے گئے تھے جن میں اس میلے کے بڑے سپانسرز ریا منی ٹرانسفر، انڈسن ریسر، شالیمار ریسٹورینٹ، چلی مسالہ ریسٹورینٹ کے سٹالز بھی شامل تھے۔

پاکستان میلہ سٹاک ہوم کے مہمان خصوصی سویڈن میں پاکستانی سفیر جناب طارق ضمیر صاحب تھے۔ اسکے علاوہ خاص مہمانوں میں پاکستان سے اخوت فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر امجد ثاقب، اور سٹاک ہوم میں مقیم مشہور پاکستانی پروفیسر ڈاکٹر نذیر خان صاحب شامل تھے۔اس میلے میں خراب موسم کے باوجود سینکڑوں پاکستانی خاندانوں نے شرکت کی۔

میزبانی کے فرائض جناب افضل فاروقی، ڈاکٹر محسن سلیمی، سہیل صفدر، محمد فاروق اور سائرہ نوید نے بڑے دلچسپ طریقے سے ادا کیئے۔ میلہ تقریب میں رنگا رنگ اور دلچسپ پروگرام پیش کئیے گئے، جن میں بچوں کا کوئز، میوزیکل چیئرز، خواتین میں مہندی لگانے کا مقابلہ، رسہ کشی کا مقابلہ اور ڈانس اور بھنگڑہ شامل تھے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سفیر پاکستان جناب طارق ضمیر صاحب نے جذباتی انداز میں اخوت پاکستان کے ڈائریکٹر جناب امجد ثاقب صاحب کا تعارف کرواتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ امجد ثاقب صاحب پاکستان میں ڈی ایم جی گروپ میں اپنے شاندار مستقبل سے استعفی دے کر غریب اور بے بس لوگوں کی مدد کرنے کیلئے کمربستہ ہو گئے۔ اخوت پاکستان کے ڈائریکٹر امجد ثاقب صاحب نے اپنی تقریر میں اخوت کے عظیم کام کو شروع کرنے کی ابتدا کا واقعہ سنایا جسمیں وہ اپنے آفس میں بیٹھے تھے کہ ایک خاتون آئیں اور دکھ بھری آواز میں اپنی داستان سنانے لگیں کہ اسکے خاوند کا انتقال ہو گیا ہے اور اسکے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ اسکے خاوند کی دلی خواہش تھی کہ وہ اپنے بچوں کا اچھا مستقبل دیکھیں مگر انکی وفات کے بعد اب یہ خواب پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ اسلئے اب وہ مدد چاہتیں ہیں کہ کوئی انہیں قرضہ حسنہ دے دے جو سود سے پاک ہو اور وہ اسے جلد واپس کرنے کی کوشش کرے گی۔ اسکی آنکھوں کے آنسو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنے کچھ ساتھیوں کی مدد سے اسے 10 ہزار روپے دے دئیے۔

چھ مہینے بعد وہ عورت دوبارہ انکے پاس آئیں اور انہیں بتایا کہ کس طرح اسنے اور اسکی بیٹی نے دو سلائی مشینیں خرید کر اپنا گھر چلایا اور اپنی بیٹی کی شادی بھی کی اور اسکے بچے اب سکول جارہے ہیں اور وہ اب وہ دس ہزار واپس کرنے آئی ہے۔ اس عورت نے اپنے دوپٹّے کے پلو سے پیسے نکالتے ہوئے کہا کہ آپ یہ پیسے اپنی جیب میں نہ رکھیں بلکہ کسی اور ضرورت مند کو دے دیں تاکہ وہ بھی اپنی ضرورت پوری کر کے آپکو واپس کر دے اور یوں یہ سرکل چلتا رہے۔ امجد شعیب صاحب بتاتے ہیں کہ وہ اس عورت کی باتوں سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنے دوستوں کی مدد سے دو لاکھ روپے اکھٹے کیے اور اس عورت کی غریب بستی میں چلے گئے۔ انہوں نے وہاں لوگوں کو قرضہ حسنہ دیا جس سے لوگوں فروٹ یا سبزی کی ریڑھی لگائی، سائیکل پنکچر کی دوکان بنائی، چائے کا کھوکھا لگایا اور اپنا کام چل نکلنے کے بعد پیسے واپس کر دیے۔ وہ اس کام سے اتنا متاثر ہوئے کہ انہوں نے اپنی نوکری سے استعفی دے کر یہ کام شروع کر دیا۔ جو کام دس ہزار سے شروع کیا گیا تھا وہ اب 40 ارب روپے پر پہنچ گیا ہے اور ایک کروڑ پاکستانی قرضہ حسنہ سے فائدہ آٹھا رہے ہیں۔ لوگ نہ صرف بعد میں انہیں پیسے واپس کر دیتے ہیں بلکہ مانگنے والے کی بجائے دینے والے بن جاتے ہیں اور ایک روپیہ ماہانہ عطیہ دینا شروع کر دیتے ہیں۔ اس ایک روپیہ سے بھی ماہانہ کئی کروڑ بن جاتے ہیں۔

امجد ثاقب صاحب بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایک کروڑ پاکستانیوں کو مانگنے والے کی بجائے دینے والا بنا دیا ہے۔ انکا نیا پروجیکٹ اخوت یونیورسٹی کا قیام ہے جسمیں پاکستان کے سارے صوبوں کشمیر اور فاٹا سے طالبعلم پڑھ رہے ہیں اور 12 مختلف زبانیں بولتے ہیں۔ یہ طالبعلم نہ صرف بغیر فیس کے پڑھ رہے ہیں بلکہ انہیں کتابیں کپڑے کھانا اور رہائش بھی دی جاتی ہے اور ان سے ایک زبانی کنٹریکٹ ہوا ہے کہ دس سال بعد جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں گے تو قسطوں میں یہ پیسے واپس کر دیں گے اور اسطرح یہ پیسے نئے آنے والے طالبعلموں کے کام آنے شروع ہو جائیں گے اور اس طرح یہ سرکل تمام عمر چلتا رہے گا۔ اس سارے عمل میں غریب لوگ تعلیم بھی حاصل کر رہے ہیں اور بھیک سے بھی بچے ہوئے ہیں اور اپنی عزت نفس زندہ رکھتے ہوئے وہ پیسے واپس بھی کردیں گے۔ یہ ایسا عمل ہے جو اکنامکس کے مروجہ اصولوں کے خلاف ہے مگر یہ طریقہ نبی پاک صلی اللہ وسلم کے اسوۂ حسنہ پر مبنی ہے اور کامیابی اور برکت کے ساتھ چل رہا ہے۔

اب اخوت یونیورسٹی کا نیا بلاک بننے جا رہا ہے جس پر 50 کروڑ خرچہ آرہا ہے۔ اس پیسے کو اکٹھا کرنے کیلئے امجد ثاقب صاحب نے ہزار روپیہ فی اینٹ والا فارمولا بنایا ہے۔ کوئی صاحب ایک اینٹ لگا رہا ہے اور کوئی صاحب کئی اینٹیں لگا رہا ہے۔ انہوں نے پاکستانیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اپنی جیب کے مطابق یونیورسٹی میں اینٹیں لگائیں تاکہ اس نیکی کے کام کا صلہ اس جہان میں بھی پائیں اور اگلے جہان میں بھی جنت کے حقدار بنیں۔ اخوت یونیورسٹی میں ایک دیوار بنائی گئی ہے جہاں اینٹیں خریدنے والوں کا نام لکھ دیا جاتا ہے۔

( نوٹ: اخوت فاؤنڈیشن میں اپنے حصے کی اینٹ لگانے کے لئے درج ذیل لنک پر کلک کریں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

(یہاں پیسے ڈونیٹ کریں اور آخرت میں اپنے لئے آسانیاں پیدا کریں۔ شکریہ)

 1
 2
 3
 4
 5
 6
 7
 8
 9
 10
 11
 12
 13
 14
 15
 16
 17
 18
 19
 20
 21
 22
 23
 24
 25
 26
 27
 28
 29
 30
 31
 32
 33
 34
 35
 40
 41
 42
 43
 44
 45
 46
 47
 48
 49
 50
 51
 52
 53
 54
 55
 56
 57
 58
 59
 60
 61
 62
 63
 64
 65
 66
 67
 68
 69
 70
 71
 72
 73
 74
 75
 76
 77
 78
 79
 80
 81
 82
 83
 84
 85
 86
 87
 88
 89
 90
 91
 92
 93
 94
 95
 96
 97
 98
 99
 100
 101
 102
 103
 104
 105
 106
 107
 108
 109
 110
 111
 112
 113
 114
 115
 116
 117
 118
 119
 120
 121
 122
 123
 124
125

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سٹاک ہوم ہوسبی میں پاکستان میلہ۔” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں