81

چائنہ کے چینی۔

چین ہمارا برادر “غیراسلامی” ملک ہے۔ جغرافیہ میں ہمارے شمال میں، جذبات کے لحاظ سے ہماری سرآنکھوں پر اورمعاشی طور پر ہمارے کاندھوں پر واقع ہے ۔ رقبے کے لحاظ سے چوتھا بڑا ملک اور آبادی کے لحاظ سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ دیوار چین کے بعد چین کی سب سے مشہور چیز چینی ہیں۔ اور اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ بس ہر طرف چینی ہی چینی ہیں ۔

آسان لفظوں میں آپ یوں سمجھ لیں کہ ٹریڈ کارپوریشن آف پاکستان کے گوداموں میں اتنی چینی نہیں جتنے وہاں چینی ہیں۔ یا یوں سمجھ لیں کہ کسی بھی پاکستانی سیاستدان نے اتنے کے اثاثے ظاہر نہیں کئے کہ جتنے وہاں چینی ہیں، یا یوں سمجھ لیں کہ لاہور کی آلودہ فضا سے اتنے ستارے نہیں نظر آتے جتنے کہ چینی ہیں۔ اگر ابھی بھی نہیں سمجھے تو پھر جان لیں کہ چین میں ایک ارب چالیس کروڑ چینی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں ضلع گجرات و ضلع منڈی بہاؤالدین کے نوجوان اور چائنہ کی اشیاء نہ ملتی ہوں۔ لیکن چین دنیا کا واحد ملک ہے۔ جس کے شہری بھی چائنہ کے ہیں۔ مشہور ہے کہ چائنہ کی چیزیں دو نمبر ہوتی ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ چینی سرکار نے فی خاندان ایک سے زیادہ چینی بنانے پر پابندی لگا رکھی ہے ۔ اس کے باوجود دنیا کا ہردوسرا فون اور ہر پانچواں شخص چائنہ کا بنا ہوا ہے ۔

چینیوں کی زبان بھی چینی ہے۔ علاقائی زبانیں بھی ہیں لیکن ہر چینی کو چینی ضرور آتی ہے ۔ بولنے کا تو علم نہیں لیکن سننے میں پہلوان کے گانے جیسی اور دیکھنے میں دسوتی کڑھائی جیسی ہوتی ہے ۔ عجیب زبان ہے۔ کہیں پر پورا خط لکھا ہوا ہو اور آپ کسی سے یہ پوچھیں کہ کیا لکھا ہے تو جواب ملے گا سڑک کا نام ہے۔ اور کہیں پر محض ایک لفظ لکھا ہو اور آپ پوچھیں کیا لکھا ہے تو کہیں گے “آگے سڑک پر کام ہورہا ہے براہ مہربانی متبادل راستہ استعمال کریں۔” اور کہیں پر تو صرف ایک لائن لگی ہوتی ہے ۔آپ تجسس میں پوچھتے ہیں کہ بھائی اس کا کیا مطلب ہے تو مسکرا کر کہیں گے، “کچھ نہیں بس ایک لائن ہے،کسی بچے نے مار دی ہوگی” ۔ ویسے لائن مارنے میں چینی بچپن سے ہی طاق ہوتے ہیں ۔ اپنی زبان سے اتنی محبت کرتے ہیں کہ انگریزی بولنی پڑے تو وہ بھی چینی زبان میں ہی بولتے ہیں ۔ حرام ہے جو کوئی سالم فقرہ سمجھ میں آجائے۔

ائیرپورٹ پر “غیر ملکیوں کے لئے ” بھی چینی میں لکھا ہوتا ہے ۔ اتنی مشکل زبان ہے کہ جس نے ایک دفعہ چینی سیکھ لی اس کو پھر شادی بھی آسان لگتی ہے ۔ حروف تہجی نہیں ہوتے بلکہ ہر حرف کیلیے ایک تصویر سی ہوتی ہے ۔ جن کو ملا کر الفاظ اور فقرے بنتے ہیں ۔ یوں کوئی ڈھائی سو ٹیڑھی میڑھی تصاویر ہر چینی سیکھنے والے کو یاد کرنا پڑتی ہیں۔ جو بچے بچپن میں چینی سیکھنا شروع کر دیتے ہیں اس افتاد سے ان کے قد ہی نہیں بڑھتے اسی لیے نئی نسل میں شاید ہی کوئی پانچ فٹ سے بڑا ہو۔ حالانکہ پرانی ان پڑھ چینی نسل کے قد پانچ فٹ ایک انچ تک بھی چلے جاتے تھے ۔ چینیوں کا چینی زبان سے اسقدر لگاؤ ہے کہ اس کو بولتے ہوئے ہر شخص جذباتی ہو جاتا ہے ۔اونچی آواز میں بات کرتا ہے ۔ ہم نے آج تک کسی چینی کو آرام سے بات کرتے نہیں دیکھا ۔ بس میں ٹرین میں ریستورانوں میں ایک شور سا برپا ہوتا ہے جیسے کہ منڈی ہو ۔ منڈیوں میں البتہ سب خاموشی سے کام کرتے ہیں ہر کام کمپیوٹر پر جو ہوتا ہے ۔ چینی زبان سے ان کے لگاؤ کو کا یہ عالم ہے کہ ان کے کتے بھی چینی زبان میں بھونکتے ہیں، اور چڑیائیں بھی چینی میں چہچہاتی ہیں۔

کھانے میں معاملے میں اپنے چینی دنیا بھرمیں منفرد ہیں۔ ہر وہ چیز کھاتے جو کھائی جاسکتی ہو۔ سوائے دوسروں کے حق اور جھوٹی قسم کے ۔ سبزیاں دالیں پھل حتیٰ کہ جانوروں کا چارہ تک کھا جاتے ہیں اور پھر بعد میں جس کا چارہ کھایا ہوتا ہے اس کو بھی ۔ ہمارے ہاں گوشت کھانے کے لیے احتیاط کی جاتی ہے کہ جانور حلال ہو اور چین میں بس یہ کہ جانور ہو۔ ایسے ایسے جانور کھاتے ہیں کہ ہمارے چڑیا گھروں میں بھی نہیں ہوتے۔ سانپ اور شیر تک کھاتے ہیں۔ بلکہ موذی جانوروں میں صرف انسانوں سے پرہیز کرتے ہیں ۔ کھانے میں چکنائی اور گھی بہت کم استعمال کرتے ہیں ۔ بس یوں سمجھئے کہ جتنی چکنائی قدرت نے گوشت کے ساتھ رکھی ہوتی ہے اس کا ہی اعتبار کرتے ہیں ۔

گمان فاضل ہے کہ جتنا گھی ہمارا ایک کنبہ ایک ماہ میں استعمال کرتا ہے انکے ہاں ایک سال میں بھی استعمال نہیں ہوتا ۔ پھر بھی ان کو خشکی نہیں ہوتی، کسی چینی کو پھنس کر چلتے نہیں دیکھا، پھنس پھنسا کر چلتے البتہ ضرور دیکھا ہے کہ بازاروں میں بھیڑ ہی اسقدر ہوتی ہے ۔ ہم تو تین دن گھی میں نچڑتا پراٹھا نہ کھائیں تو پتہ نہیں کہاں کہاں سے خشکی کے الارم بجنا شروع ہو جاتے ہیں، پھر جب تک ڈیرھ پاؤ دودھ میں پاؤ بھر کھرا گھی ڈال کر نہ پئیں خشکی جاتی نہیں۔ پینے والی ہر چیز گرم کر کے پیتے ہیں، پانی جوس یہاں تک کہ ملک شیک بھی گرم۔ ایک ہوٹل میں مجھے کھجور کا ملک شیک نظر آیا، جھٹ سے آرڈر کیا اور آتے ہی فرطِ جذبات میں منہ سے لگا لیا ،جلتے جلتے بچا۔ احمق کھجور شیک بھی گرم کرکے پیتے ہیں، حالانکہ ہم کھجور شیک پی کہ گرم ہوتے ہیں۔ دودھ ان کے ہاں کئی طرح کے ہوتے ہیں، جیسے سویا بین اور مکئی کا دودھ ۔ لیکن رغبت سے دودھ پیتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا ، رغبت سے دیکھتے ہوئے البتہ بہت سے ملے۔

انسان فطرتاً جلد باز واقع ہوا ہے لیکن چینی تو بہت ہی جلد “باز” ہیں۔ بلکہ شاید جلد چیتا۔ ان کو ہر کام کی اسقدر جلدی ہوتی ہے کہ ان کی بسیں، ٹرینیں اور جہاز سب مقررہ وقت سے ایک منٹ پہلے چلتے ہیں ۔ اندرون ملک پروازوں میں توجہاز کے پہیے زمین سے لگتے ہی سب اپنی سیٹوں سے اٹھ جاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے ہوا بازی حاجز نہ ہو تو یہ تو چلتے جہاز سے سواریاں اتارنا شروع کردیں بالکل اپنے ہاں کے وڑائچ طیاروں کی طرح ۔ ان کی جلد باز طبیعت کو دیکھ کراپنے قابل خرگوشوی ہزرہ سرائی کرتے ہیں کہ ان کم بختوں کو تو دنیا میں آنے کی بھی اتنی ہی جلدی ہوتی ہو گی اور غالباََ اسی قبل از وقت تشریف آوری کی وجہ سے ہی خال ہی کوئی چینی پچاس کلو سے اوپر کا ملے گا ۔ چینی بھائیوں کا وزن اسقدر ہوتا ہے کہ جس لفٹ پر درج ہوتا ہے “دس آدمیوں کیلیے ” اس پر ہم چھ پاکستانی سوار ہوئے تو زائد بار کا نشان جل اٹھا ۔ ایک صاحب اترے تو چلی۔ ہم نے پھر ان کو صلاح دی کہ اس پر لکھوائیں “دس چینیوں کیلیے، باقی قومیں اپنے حساب سے چڑھیں”۔

حسن کی طرف سے ہاتھ قد اور وزن سے بھی زیادہ تنگ ہے۔ چین میں حسین چہرہ تلاش کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا پاکستان میں محنتی جوان ۔ اس بات کا ان کو بھی ادراک ہے اسی لئے اگر بوجوہ کسی کی جھوٹی تعریف کرنا مقصود ہو تو یوں کہنا پڑتا ہے “آپ اتنے حسین ہیں کہ چینی بالکل بھی نہیں لگتے” ۔ پورے چین میں واحد موئنث خوبصورت چیز ان کی ریل گاڑیاں ہیں۔ بے حد خوبصورت اور بے حد سبک۔ “ہائی سپیڈ” تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہیں یعنی کراچی سے لاہور صرف چار گھنٹے میں ۔ آرام دہ اتنی کہ تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ پر آپ آرام سے بنا دقت کافی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔ جس طرح پورے بھارت میں ان کے تمام تیرہ سو بائیس خوبصورت چہرے فلموں اور ٹی وی ڈراموں میں کام کرتے ہیں اسی طرح پورے چین کے تمام سترہ سو اکیس خوبصورت چہرے ریلوے پولیس والوں نے بھرتی کر رکھے ہیں۔ اب اس کے پیچھے کیا منطق ہے پتہ نہیں، ہو سکتا ہے اسی وجہ ریل کا محکمہ منافع میں ہو، ویسے حسن والوں کی وجہ سے کسی کو مالی منفعت ہو خلاف قرینہ بات ہے۔ متضاد البتہ عام ہے۔

چین نے پچھلی ربع صدی میں جو بے انتہا ترقی کی ہے وہ نہ صرف اپنی مثال آپ ہے بلکہ ہمارے لئے قابلِ تقلید بھی ۔ انقلاب چین کے وقت انکی جو حالت تھی، ہمارےموجودہ حالات اس سے تو کہیں بہتر ہے ۔اگر وہ ذلت و رسوائی کی گہری کھائی سے نکل کر دنیا کی سب سے تیز ترقی کرتی قوم بن سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں ۔ دوستو آؤ مایوسی کا پیراہن اتار پھینکیں اور محنت اور عزم مصمم سے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں۔ بطور خاص جب وہ ہمارا ہاتھ تھامنے پر آمادہ بھی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں