109

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کس کے ایجنڈے پر کام کر رہا ہے؟

این جی اوز نے اس ملک میں جو فکری واردات ڈالی ہے اس کا تو اندازہ تھا لیکن یہ خبر نہ تھی کہ این جی اوز اور ان کے فکری پیادے اپنی واردات میں اس حد تک کامیاب ہو چکے ہیں۔صبح دم اخبارات کا مطالعہ کیا تو دل لہو سے بھر گیا۔چھانگا مانگا کی چھاؤں میں بیٹھ کر پہلے سیاست کو شرافت کا نیا رنگ دیا گیا، اس کے بعد گداگران سخن پر نوازشات کے دریا بہا کر صحافت کو شرافت کا نیا رنگ دیا گیا۔ چاند ماری کا نیا میدان اب نصاب تعلیم ہے۔کسی کو خبر ہی نہ ہوئی اور رنگسازوں نے نصاب کو بھی شرافت کا’ نیا رنگ‘ دے دیاہے۔

پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے نابغوں نے نصاب تعلیم میں تبدیلی کی ہے۔ حیرت ہوتی ہے آدمی اتنا غیر ذمہ دار بھی ہو سکتا ہے ۔جماعت اول کے قاعدے میں ق سے قرآن ، قینچی اور قلم لکھا تھا ، اس میں سے لفظ قرآن نکال دیا گیا ہے قینچی اور قلم البتہ باقی ہیں۔تیسری جماعت کی اردو کی کتاب میں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سبق تھا جس میں سیرت طیبہ کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی گئی تھی ، یہ سبق بھی ختم کر دیا گیاہے۔تیسری جماعت کی انگریزی کی کتاب میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر ایک مضمون تھا وہ بھی ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ ہیلن کیلر کی ایک تحریر شامل کر لی گئی ہے۔تیسری جماعت ہی کے نصاب میں حضرت خدیجہ الکبری رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایک مضمون تھا وہ نکال دیا گیا ہے، ایک مضمون مسجد کی تکریم کے حوالے سے تھا اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ خانہ کعبہ کی ایک تصویر تھی وہ بھی برداشت نہ ہو سکی اسے بھی نکال دیا گیا، ایک تصویر گنبد خضرا کی تھی سیکولر انتہا پسندی اسے بھی برداشت نہ کر سکی ،یہ تصویر بھی نکال دی گئی۔بچوں کی تربیت و آگہی کے لیے حجر اسود ، مقام ابراہیم ، غار حرا کی تصاویر تھیں یہ تصاویر بھی ان سے برداشت نہ ہوئیں اور نکال دی گئیں۔بادشاہی مسجد اور فیصل مسجد کی تصاویر بھی نکال دی گئی ہیں۔ایک تصویر میں ایک قاری صاحب بچوں کو قرآن کی تعلیم دے رہے تھے یہ تصویر بھی نکال دی گئی۔یہ تمام چیزیں جن کا تعلق مذہب سے تھا ان سے برداشت نہ ہو سکیں لیکن انہوں نے صرف اسی پر بس نہیں کی ۔

ان سے وہ چیزیں بھی برداشت نہ ہو سکیں جن کا تعلق پاکستان سے تھا۔اردو کی تیسری کتاب سے پاکستان کا نقشہ نکال دیا، پانچویں جماعت کی انگریزی کی کتاب سے قائد اعظم پر ایک سبق تھا وہ ان سے برداشت نہ ہو سکا، چوتھی جماعت کی اردو کی کتاب سے یوم آزادی اور مینار پاکستان کے اسباق نکال دیے گئے، تیسری جماعت کی انگریزی کی کتاب سے ہمارا پرچم نکال دیا گیا، تیسری جماعت کی اردو کی کتاب سے اقبال اور شاہین کی تصویر نکال دی گئیں۔تیسری جماعت کی اردو کی کتاب میں میجر عزیز بھٹی شہید کے بارے میں ایک سبق تھا وہ بھی نکال دیا گیا۔ یہ سارے اقدامات اس حکومت کے دور میں ہوئی جس نے نوازشریف صاحب کی زندگی پر لکھی ایک درباری کی تصنیف کو تعلیمی اداروں کی لائبریری میں رکھے جانے کا بین السطور حکم جاری فرمایا تھا۔

جب اس پر اعتراض کیا جائے تو آگے سے یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ اسلام ہم اسلامیات میں پڑھا رہے ہیں اور مطالعہ پاکستان کا بھی الگ سے مضمون ہے تو اب ہم مذہبی یا قومی موضوعات اردو اور انگریزی میں دوبارہ کیوں شامل کریں۔یہ ایک کمزور دلیل ہے۔ابتدائی کلاسز کے بچوں کو انگریزی اس لیے نہیں پڑھائی جاتی کہ وہ انگریز تہذیب کے فرزند بن جائیں ،نہ ہی وہ انگریزی ادب میں ماسٹرز کر رہے ہوتے ہیں۔یہاں مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انہیں یہ زبان سمجھ آ جائے اور وہ اس میں ابلاغ کے قابل ہو سکیں۔اب اس مرحلے میں اگر مذہب یا پاکستان سے متعلق دو چار مضامین شامل ہو جائیں تو اس میں کیا قباحت ہے۔یہی معاملہ اردو کا ہے۔ جب بچے اردو پڑھ رہے ہیں تو یہ ہماری قومی زبان ہے۔ قومی زبان اپنے مذہب ، ثقافت ، فنون لطیفہ، قومی مشاہیر اور اپنی تاریخ سے یکسر لاتعلق ہو کر پڑھانے پر اصرار کیوں ہے۔زبان کی نزاکتوں اور فن کو بھی پڑھائیے لیکن ایک حد تک مذہب اور پاکستانیت کو شامل نصاب کر لینے میں کیا مسئلہ ہے؟

معاملہ اب بہت واضح ہے ۔ مذہب اور مذہب سے وابستہ تمام علامات اب قابل قبول نہیں ہیں۔ مذہب ہی نہیں ، انہیں اب پاکستانیت سے بھی نزلہ، زکام ، کالی کھانسی اور تپ دق لاحق ہو جاتا ہے۔ اب قائد اعظم کو جناح صاحب کہنے پر اصرار ہے اور اقبال سے بغض نمایاں ہے۔ اب جھنڈا لہرانے پر بھی اعتراض ہے۔ اب چھ ستمبر منانے پر پر بھی یہ بدمزہ ہوتے ہیں۔ یہ ایک مکمل واردات ہے جس کے دو پہلو ہیں۔ 

اول: سماج کو اسلام سے ہر ممکن حد تک دور کر دیا جائے۔
دوم: سماج کو اتنی ملامت کی جائے کہ یہ پاکستانیت کو بھی فخر کا عنوان نہ بنا سکے۔
یہ اپنی تاریخ ، تمدن ، کلچر، فنون لطیفہ ، زبان، مشاہیر، قومیت ، مذہب کسی ایک کا ذکر بھی باکپن کے ساتھ نہ کر سکے۔یہ اپنے معاملات کو مسلمان اور پاکستانی کی آنکھ سے نہ دیکھ پائے ۔یہ اپنا فلسفہ حیات خود متعین نہ کر سکے۔اسے فکری طور پر اتنا مفلوج کر دیا جائے کہ یہ اقبال غالب وغیرہ کا نام نہ لے بلکہ شیکسپیر کو ادب کا ہمالہ سمجھے، یہ امام شامل اور علی گیلانی کی بات نہ کرے یہ صرف جارج واشنگٹن اور چی گویرا کو عزیمت کا ہمالہ سمجھے،یہ اپنی ادبی، سماجی ، معاشرتی ، عسکری ، تہذیبی ہر رنگ میں شکست خوردہ اور معذرت خواہانہ طرز عمل کا اسیر ہو جائے۔اس کی ہر بنیاد کو ہلا دیا جائے۔تاکہ اسے مرضی کے قالب ڈھالنا آسان ہو۔اول یہی کام این جی اوز نے کیا۔الا ماشاء اللہ ، انہوں نے پڑھے لکھے نوجوانوں کو پیسے تھمائے اور ساتھ ایک ایجنڈہ بھی۔ یوں ایک فکری وائرس معاشرے کو مفلوج کر گیا۔ اب یہ حضرات ان کے فکری پیادے ہیں اور مذہب سے لے کر پاکستانیت تک کوئی چیز انہیں پسند نہیں۔لاشعوری پسپائی کا عمل جاری ہے

انہوں نے کوئی ایک علامت ایسی نہیں رہنے دی جو مقامی ہو اور جس کا ذکر فخر سے کیا جا سکے۔ہم آج بھی درخواست لکھتے ہیں تو کہتے ہیں : I beg to say۔ اردو ہماری قومی زبان ہے لیکن اردو بولنا کم علم ہونے کی علامت بنا دی گئی۔جون جولائی کی گرمی میں ہمارے وکیل حضرات پینٹ کوٹ اور ٹائی لگا کر انگریزی زبان میں کیس پیش کرتے ہیں، باوجود اس کے کہ کمرہ عدالت میں موجود تمام شخصیات اردو سمجھ سکتی ہیں۔

اب تک یہ معاملہ فکری سطح تک محدود تھا۔ لیکن اب آہستہ آہستہ کچھ عملی اقدامات بھی ہونا شروع ہو گئے ہیں۔این جی اوز کے فکری پیادے اور شرافت کی سیاست بغل گیر ہوتی نظر آ رہی ہے ۔ابتدائی طور پر یہ تعلق خاطر جمہوریت کے تحفظ کے عنوان کے تحت قائم ہوا لیکن اب معاملہ کافی سنگین ہوتا جا رہا ہے۔پہلے مرحلے میں یوم اقبال کی چھٹی ختم کی گئی اور ارشاد ہوا کہ کام کام اور کام کی ضرورت ہے ۔کام کی افادیت سے انکار نہیں لیکن مشاہیر کے ایام منانے میں ایک معنویت ہوتی ہے اور ساری دنیا یہ کام کرتی ہے۔اب بات آگے بڑھ رہی ہے۔اب نصاب سے ایک ایک کر کے مذہب اور پاکستانیت کی علامات کو رخصت کیا جا رہا ہے۔علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے امتحانی پرچے میں اگر میٹرک کے طلباء یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ اپنی بڑی بہن کی فزیک پر نوٹ لکھیں تو یہ محض اتفاق نہیں ہے۔ اس میں یہ اہتمام شامل ہے کہ مضمون بڑی بہن پر لکھا جائے۔پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی نئی کتب پرسینیئر کنسلٹنٹ نکولس شا کا نام شائع ہونا بتا رہا ہے کہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے۔مبینہ طور پر یہ نصاب ’ٹیمو‘ نامی ایک این جی او کی مشاورت سے مرتب ہو رہا ہے جس میں برٹش کونسل کے لوگ بھی شامل ہیں۔اب سوال یہ کیا این جی اوز ہمارے نساب کا تعین کیا کریں گی؟ اس سلسلے کی سنگینی کو محسوس کیا جانا چاہیے۔ہمیں معتدل رویوں کی ضرورت ہے لیکن محسوس یہ ہو رہا ہے کہ ہم مذہبی انتہا پسند ی کے بعد سیکولر انتہا پسندی کی دلدل میں اتر رہے ہیں۔مکرر عرض ہے کہ اس دانش کے آزار سے ہشیار رہیے جس کے فکری شجرہ نسب میں کسی این جی او کا نام آ تا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں