125

پٹھان اور غیرت۔

میرے پٹھان دوست اکثر اپنے بارے میں لطیفوں کا برا مناتے ہیں، مگر میں تو ہمیشہ انکو کہتا ہوں کہ اکثر لطیفوں میں پٹھانوں کی کسی روائت کی مضبوطی، یا کردار کی بلندی ظاہر ہوتی ہے۔ اس پر پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا کہ لطیفے کیسے وجود میں آتے ہیں۔ فی الحال تو موضوع غیرت ہے۔

ایسا ہی ایک مزاحیہ منظر بدر منیر (ماضی کا مشہور پشتون اداکار) کی ایک فلم میں تھا جس میں جیسے ہی دشمن سامنے آتا ہے بدرمنیر اس کے سینے میں گولی اتار دیتا ہے، پھر للکار کر کہتا ہے، اوئے خوچہ، تمارا نام کیا اے ؟

رب کائنات نے انسان کو بہت سی صلاحتیں دے کر پیدا کیا ہے۔ کسی قوم میں وہ صلاحیتیں دوسری قوموں کی نسبت نمایاں ہو جاتی ہیں تو وہ قوم یا قبیلہ انہی کی وجہ سے جانا جانے لگتا ہے۔

پٹھان قوم بھی اپنے غصے، غیرت، خودداری، اور محنتی ہونے کے اوصاف سے جانی جاتی ہے۔ یہ تو فخر کی بات ہے کہ یہ خوبیاں ان میں اتنی واضح ہیں کہ اس پر لطائف بنائے جاتے ہیں۔

غصہ اور غیرت پٹھان کا ایسا وصف ہے جو اسکی شخصیت کی ہر صفت پر بھاری ہوتا ہے۔ بظاہر تو آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ پٹھان سوچتا بعد میں ہے عمل پہلے کرتا ہے۔ میں اس کو یوں دیکھتا ہوں کہ پٹھان کی تربیت میں کچھ ایسی اقدار ہوتی ہیں جن پر ہر قدم رک کر وہ سوچنا گوارا ہی نہیں کرتا۔ ان اقدار پر ہر حال میں عمل کرنا ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ ایسے موقعوں پر رک کر سوچنے کی بجائے عمل کرتا ہے۔

پٹھان میں ایک خوبی اور ہے جو انکو باقی قوموں میں قابل بھروسہ بناتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی کوئی پٹھان ہمیں کسی جگہ پہرہ دیتا نظر آئے تو ہم اپنی حفاظت سے مطمئن ہو جاتے ہیں کہ پٹھان کبھی اپنے کام اور کاروبار میں دھوکا نہیں دیتا۔ چوکیدار سے لے کر جنرل تک اگر پٹھان ہو تو ہم اسکی ایمانداری کے اندر سے قائل ہو جاتے ہیں بغیر کوئی سوال کیے۔

پٹھان اپنے محسن کا احسان کبھی نہیں بھولتا۔ آپ نے کسی پٹھان کی زندگی میں ایک بار مدد کردی، آپ تین دہائیوں کے بعد بھی اسکو آواز دو گے اسکو آپ کا احسان یاد ہوگا اور وہ آپ کی مدد کو دوڑا چلا آئے گا۔

پٹھان اپنی خودداری پر سمجھوتا نہیں کرتا۔ عزت اور خودداری کی جو مثال پٹھان پیش کرتے ہیں اس پر دل انکی اس خوبی کا واقعی قائل ہو جاتا ہے۔ عزت کی کمائی کے لیے پٹھان آپ کو ہر کام کرتا نظر آئے گا، بوٹ پالش سے لیکر، قالین بیچنے تک وہ کسی کام کو اعلی یا گھٹیا نہیں سمجھتا۔ گھٹیا اگر سمجھتا ہے تو بھیک کو، اپنے اوپر ترس کھانے کو۔ وہ عزت کی روٹی کمانے کو آپ کا چوکیدارہ کرے گا، آپ کے بوٹ پالش کرے گا، آپ کے گھر کی کھدائی کرے گا، مگر چاہے آپ اسکو دو لاکھ ماہانہ تنخواہ پر ملازم رکھ لو، اگر آپ نے اسکو اؤئے کہہ کر مخاطب کیا تو آپکی ملازمت آپکے منہ پر مار کر چلا جائے گا۔

اب آپ ایک ایسی خاتون کے بارے میں جانیے جو کہتی تو خود کو پٹھان ہے مگر اوپر بیان کی ہوئی ساری خوبیوں میں سے ایک کا بھی پاس نہیں کر پائی۔ شائد اسی لیے نفسیات کا علم ہماری مدد کو آتا ہے کہ جو بار بار کہے کہ میں بہادر ہوں، وہ اصل میں سب سے بڑا بزدل ہوتا ہے، جو اپنی ہر بات اس سے شروع کرے کہ میرا نسب سب سے اونچا ہے، اسی کی نسل میں خرابی نکلتی ہے، اور جو بار بار آپ کو یاد کروائے کہ میری بھی کوئی عزت ہے، تو سمجھ لیجیے کہ اسکی کوئی عزت سرے سے ہے ہی نہیں۔


آئیے ان خوبیوں کی روشنی میں عائشہ گلالئی کی شخصیت کا جائزہ لیتے ہیں۔ سب سے پہلے غیرت ہی کو لے لیں۔ عائشہ کہتی ہیں مجھے جب میسیج آیا تو میں نے اپنے والد کو بتایا اور پھر ہم نے صلاح کی کہ ابھی برداشت کرتے ہیں اور آگے دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے کیونکہ میں اس وقت ایم این اے بن چکی تھی۔ اب آپ خود ہی سوچیے کہ کوئی ایسی فلم ہی آپ کی نظر سے گزری ہو جس میں کسی پٹھان کی بیٹی کی عزت کی طرف ، کسی نے ہاتھ بڑھایا ہو اور اسکے جواب میں وہ ہاتھ کاٹنے کی بجائے پٹھان اور اسکی بیٹی نے فیصلہ کیا ہو کہ ٹھیک ہے ابھی دیکھتے ہیں، کیونکہ ابھی ہمیں اس آدمی سے فائدہ مل رہا ہے۔ میرے مشاہدے میں تو یہ آیا ہے کہ ایک مزدور پٹھان کو اگر زرا بدتمیزی سے مخاطب کر لو تو وہ کام کے اوزار پھینک کر آپ کا گلا پکڑ لے گا کہ سیٹھ، تمہاری تو ایسی کی تیسی، پہلے ہم اسی کھڈے میں تم کو ڈالے گا۔

خودداری کی بات کرلیں۔ عائشہ گلالئی تحریک انصاف کی اس سیٹ پر براجمان ہیں جو کسی بھی پارٹی کی مخصوص نشست ہوتی ہے جو وہ بغیر الیکشن کے اپنے کسی بھی نمائندے کو دیتی ہے۔ عائشہ اپنے محسن پر ہر طرح کا الزام لگانے کے باوجود بھی اسی کی دی ہوئی سیٹ واپس کرنے کو تیار نہیں۔ اس کی دلیل مان لی جاتی اگر وہ الیکشن میں اپنی مقبولیت کی وجہ سے جیت کر یہ سیٹ لائی ہوتی تو باوجود اس کے کہ اس نے پارٹی کا جھنڈا اور پلیٹ فارم استعمال کیا، اس کا تھوڑا بہت حق اس سیٹ پر تسلیم کیا جا سکتا تھا۔ مگر یہ سیٹ تو خالصتاً پارٹی کی ہے وہ اسے جس کو چاہے دے دے۔ کوئی پٹھان ایسا سودا نہیں کرتا۔ خوددار پٹھان ایسا نہیں کرتا، وہ آپکا گلا پکڑنے سے پہلے آپ کا دیا ہوا ایڈوانس بھی آپ کے منہ پر دے مارتا ہے۔ چلیے عائشہ گلالئی نہ سہی، اسکا والد بھی تو پٹھان ہے، وہ ہی اس سیٹ کو تحریک انصاف والوں کو واپس کرنے کا کہہ سکتا ہے۔ مگر کیا یہ وہی باپ نہیں جس نے بیٹی کو مشورہ دیا کہ ابھی دیکھ لیتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، ابھی تم ایم این اے ہو، اس لیے اپنی عزت پر حملے والی بات کو دبا دو؟

پٹھان محسن کش نہیں ہوتا۔ تحریک انصاف کی اس مخصوص نشست کے لیے چار امیدوار تھے، عمران خان نے عائشہ گلالئی کو اس کے وزیرستان سے تعلق، ایکٹو ہونے، اور نوجوانوں کے آگے لانے کی پالیسی کی وجہ سے منتخب کیا۔ اگر اصلی پٹھان ہوتا اور اسکو آپ سے بدلہ بھی لینا ہوتا اور اسکے لیے وہ چار سال سے انتظار کر رہا ہوتا تو وہ کبھی اس وقت حملہ نہ کرتا جب آپ کا دشمن آپ کی تاک میں ہو۔ عائشہ گلالئی اور اسکے باپ نے چار سال تک اس ایم این اے کی سیٹ کے لیے اگر اپنی عزت پر بری نظر کو برداشت کیے رکھا اور بقول عائشہ کے وہ پارٹی چھوڑنے کی پلاننگ کافی عرصے سے کر رہی تھی تو کیا ایک پٹھان ہونے کی وجہ سے اپنے محسن پر اس وقت وار کرنا ضروری تھا جب اس کو آپ کی ضرورت تھی۔ چلیں اپنے محسن عمران خان کے لیے نہ سہی، اپنی سیاسی پارٹی کے لیے جہاں آپ نے کئی سال کام کیا اور جہاں آپ کے اتنے کولیگز جو آپ کو بہنوں جیسا مان دیتے تھے، اور آپ کی ہر قدم رہنمائی کرتے تھے، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں تھا جس کی وجہ سے آپ اس پارٹی کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کی بجائے کچھ دن اور انتظار کرکے پریس کانفرنس کر لیتیں؟ پٹھان محسن کش نہیں ہوتا، مگر شائد عائشہ گلالئی اور اسکا باپ اور قسم کے پٹھان ہیں، جو ایک ایم این اے کی سیٹ کی خاطر تو اپنی بیٹی کی بے عزتی کو چار سال تک برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے محسن لوگوں (صرف عمران نہین) کی خاطر چند ماہ اور صبر نہیں کر سکتا۔

پٹھانوں کو ایسے لوگوں پر نظر رکھنا چاہیے جو اپنی بات “میں ایک پٹھان ہوں ۔ ۔ ۔ ” سے شروع کرتے ہیں اور پھر بے غیرتی کی نئی راہیں بتاتے ہیں۔ ایسے لوگ ہرگز اچھے اور اخلاق والے انسان ہی نہیں پٹھان تو دور کی بات ہے۔

ورنہ کچھ عرصے بعد ہمارے ملک میں غیرت پر بننے والی فلموں میں یہ سین بھی شامل کر دیا جائے گا کہ بیٹی باپ کو آکر کسی کے گندے پیغامات دکھاتی ہے، اور پھر باپ بیٹی بیٹھ کر حساب لگاتے ہیں کہ اس بندے سے ملنے والے فائدوں کے حساب سے ان گندے پیغامات کو کس وقت پبلک کرنا ہے۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}
span.s2 {font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں