113

شریفوں کی مینائیں۔

یہ کیا ہو گیا؟ گذشتہ مضمون میں از راہ تفنن ماروی میمن کا ذکر کیا تھا۔ ماروی نئی نویلی دلہن ہیں اور وہ بھی وزیر خزانہ کی۔ بالفاظ دیگر وہ بیگم خزانہ ہیں۔ ماروی کی دوراندیشی پہ داد دینے کو دل چاھتا ہے۔ یہ سوچ کے شادی کی کہ اگر طلاق وغیرہ کی نوبت آ جائے تو آسامی موٹی ہونی چاہئے۔

پرویز مشرف کی حکومت میں مشرف کی مینا تھی جیسے نواز شریف جنرل ضیاء کا میاں مٹھو تھا۔ خواجہ صفدر ، نواز شریف اور غلام دستگیر میں مقابلہ تھا کہ چاپلوسی میں کون پہلی پوزیشن حاصل کرتا ہے۔ خواجہ صفدر نے اسقدر چاپلوسی کی کہ خواجہ سرا بن گئے اور اس طرح اگلے جہان سدھار گئے۔ جاتے جاتے ساتھ دستگیر کا ہاتھ پکڑ کر اسکو بھی ساتھ لے گئے۔ نواز شریف بالاآخر مقابلہ جیت کر ضیاء کے جانشین بر حق بنے۔ جنرل ضیاء نے گانی والے طوطے پالے ہوئے تھے نواز نے مینائیں پالنا شروع کر دیں تا کہ بوقت ضرورت چڑیوں سے باز مروایا جا سکے۔ 
بحر حال جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوا۔ مریم ، جو کہ گھریلو فاختہ ہے، کو قطری پہ چھوڑا مگر قطری نے بےچاری سیدھی سادھی فاختہ کو چاروں شانے چت کردیا۔ چند دن پہلے نواز نے اپنی سدھائی ہوئی مینا کو عمران پہ چھوڑا مگر معاملہ کھٹائی میں نظر آتا ہے۔ سوچا تو یہ تھا گلا لئی اپنی تمام تر رعنایوں کے ساتھ اس باز کو رام کر لے گی مگر سدھایا ہوا جانور اتنا ہی کام کرتا ہے جتنا اسکو سکھایا گیا ہو۔ 
5 اگست کا جنگ پڑھ کر بلکل حیرانگی نہیں ہوئی۔ ماروی آ گئی میدان میں ہو جمالو! میں حلفیہ بیان دیتی ہو ں کہ گلا لئی جو کچھ کہتی ہے سچ کہتی ہے۔ ماروی مینا نے آتے ہی پریس کانفرنس داغ دی۔ مینا جی! قانون شھادت کے مطابق آپکی آدھی گواہی ہے اس لئے خواجہ آصف ولد خواجہ سرا سے کشمالہ کا پتہ پوچھیں تا کہ گواہی تو مکمل ہو۔ قارئین کرام پریشان نہ ہوں ابھی میاں صاحب کے پاس بہت ساری مینائیں موجود ہیں۔ یہ تو ابھی ٹریلر ہے فلم تو شروع ہونا ابھی باقی ہے۔ 
ٹارزن کی واپسی۔ صرف نیکر پہنے ہوئے جنگل میں ٹارزن دیکھا تھا مگر گنجا، عینک والا شلوار قمیض میی پہلی دفعہ دیکھا ہے۔ وقت کے ساتھ ٹارزن لسبیلہ کے جنگل سے ، براستہ کراچی، اسلام آباد پنیچ چکا ہے۔ اسی خوف سے اسمبلی کے اجلاس میں خواجہ سعد رفیق ساتھ پستول لے کر گئے تھے کہ شاید ٹارزن باز پہ حملہ نہ کر دے۔ فکر نہ کریں خواجہ صاحب یہ حسن بے مثال جو آپ نے اکٹھا کیا ہے کس دن کام کا آئے گا۔ مجھے اب انتظار ہے کشمالہ بیگم کا کہ کب وہ سیاسی افق پہ نمودار ہو کر انتشار پھیلاتی ہیں۔ آخر میں ایک بات بنا کہے نہیں رہ سکتا۔ سب کچھ اللہ کرتا ہے اور اللہ اجھا ہی کرتا ہے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بر وقت تحریک انصاف جوائن کر لی۔ یہ عمران خان پہ باعث رحمت ثابت ہوں نہ ہوں مگر نون لیگ کی سیاسی میناوں کے لئے باعث ذلت ضرور ثابت ہوں گی۔ مریم نواز، ماروی میمن اور گلا لئی کا سیاسی سیاپہ جاری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “شریفوں کی مینائیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں