125

ہزارہ کمیونٹی کا سویڈش پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا۔

ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے لوگ سویڈن کے مختلف شہروں سے سٹاکہولم میں جمع ہو کر پارلیمنٹ ہاؤس کے باھر دھرنا دے کر بیٹھ گئے ہیں۔ دھرنا 7 اگست کو شروع ہوا۔ دھرنا دینے والوں کی زیادہ تر تعداد افغانستان سے تارکین وطن کی ہے جو کہ سویڈن میں سیاسی پناہ گزین ہیں۔

سویڈش مائگریشن بورڈ نے سب پناہ گزینوں کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے سویڈن چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ دھرنے میں شرکت کرنے والوں کا مطالبہ ہے کہ مائگریشن بورڈ کا ڈائریکٹر جنرل جب تک یہاں پر آکر مذاکرات نہیں کرتا ہم دھرنا جاری رکھیں گے۔ سارا نامی ایک بچی نے بتایا کہ میرا تعلق افغانی ھزارہ برادری سے ہے۔ 2 سال کے انتظار کے بعد میری درخواست نامنظور کی گئی ہے جس کا مجھے بہت دکھ ہے۔ لین شوپنگ سے آئی ہوئی ایک بچی ناہید نے بھی اپنی اسی قسم کی کہانی سنائی۔ ناہید نے کہا کہ میرے والدین بھی ساتھ ہیں۔ افغانستان میں اب ھمارا کچھ نہیں بچا ہم کہاں جائیں۔ رضا کربلائی نے بتایا کہ ھزارا لوگ زیادہ تعداد شیعہ مسلمانوں کی ہے مگر یہاں پر قطع نظر مسلک سب جمع ہوئے ہیں۔ دھرنے کی قیادت فاطمہ نامی لڑکی کر رہی ہے۔ فاطمہ نے بتایا کہ میں ذاتی طور پر سب کی مشکور ہوں کہ سب نے دھرنے میں شرکت کی۔ ہم اپنا دھرنا اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک ڈاریکٹر جنرل صاحب بنفس نفیس خود یہاں تشریف نہیں لاتے۔ ہم نے لگ بھگ 600 لوگ جمع کئے ہیں۔ سویڈن میں تمام لوگوں کو کال دی ہے۔ لوگ آہستہ آہستہ آ رہے ہیں۔ 8 اگست کی شام 9 بجے کے قریب نا معلوم افراد نے سویڈش پارلیمنٹ کے باہر دھرنے میں بیٹھے ہوئے افراد پر گیس بم کے ساتھ حملہ کر دیا۔ اس مجمع میں بھگدڑ مچ گئی۔ کچھ لوگوں کو معمولی زخم آئے۔ کچھ لوگوں کے ہاتھ جل گئے مگر دھرنا جاری ہے۔ پولیس فوری طور پر جائے وقوع پر پہنچ گئی اور حالات پر قابو پا لیا۔

اردو نامہ کے استفسار پر وہاں موجود پولیس نے بتایا کہ یہ حملہ ہوا ہے تاہم ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اسکے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔ پولیس نے عینی شاہدین کے انٹرویوز کئے ہیں اور انکوائری کر رہے ہیں امید کرتے ہیں کہ حملہ آوروں کو جلدی گرفتار کر لیں گے۔ سویڈن میں اظہار رائے کی آزادی ہے اور ہم اس واقعہ کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ پولیس نے دھرنے میں حاضرین سے مذکرات کئے اور قیادت کو باور کیا کہ دھرنے کے لئے یہ مقام موزوں نہیں لہذا آپ کسی اور جگہ کا انتخاب کریں۔ پولیس نے بتایا کہ ہم مشکور ہیں کہ قیادت نے ہماری بات مان لی۔ ہم یقین دہانی کرواتے ہیں کہ دھرنے میں حاضرین کی مکمل حفاظت کی جائے گی اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوگا۔ اس طرح 9 اگست کی شام 8 بجے مجمع میدبوریا پلاتسن پر جمع ہو گیا جہاں پر ابھی تک دھرنا جاری ہے۔

اس دھرنے میں سویڈش لوگوں کی ایک بڑی تعداد بھی حصہ لے رہی ہے۔ گرین پارٹی کے پارلیمنٹ ممبر، سٹیفن نلسن، نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم ہزارہ لوگوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ اردونامہ کے نمائندۂ خصوصی جناب سائیں رحمت علی جو کہ گرین پارٹی کے ممبر ہیں نے کہا کہ ہم بہتر مستقبل اور محفوظ مقام کی تلاش میں آنے والوں کے ساتھ اس قسم کے غیر انسانی سلوک کی مذمت کرتے ہیں ہم مائگریشن بورڈ اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ھزارہ برادری کے مطالبات پر دوبارہ غور کیا جائے، اور ہم اس حملہ کی بھی مذمت کرتے ہیں جو پرامن مظاہرین پر کیا گیا۔ اردو نامہ دھرنے سے متعلق قارئین کو مطلع کرتا رہے گا۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

فاطمہ، دھرنے کی قیادت کر رہی ہیں
سارا  اور ناہید  دھرنے کی انتظامیہ میں سے ہیں۔
رضا کربلائی  اور اس کے ساتھی
حفاظت پر معمور پولیس

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں