86

​عقل کے درجے اور کج فہموں سے معاملہ۔

رب کائنات نے انسانوں کی سمجھ عطا کی ہے۔ مگر درجے مختلف رکھے ہیں۔ اس کی مصلحت ہے وہ چاہتا تو سب کو ایک جیسا ذہن دے کر پیدا کردیتا۔ کسی نے کہا کہ اگر تم راستہ جانتے ہو تو بھٹکا ہوا راہی تمہاری ذمہ داری ہے۔ شائد ایسا ہی ہو۔ میں تو خود اسی نتیجے پر پہنچتا ہوں کہ عقل ایک سہولت نہیں ایک ذمہ داری ہے۔

انسانوں میں عقل کے لحاظ سے کئی درجے ہیں اور آپ اپنی سہولت کے حساب سے جیسے چاہیں انکو سمجھ لیں۔ مگر کسی معاملے کو سمجھنے اور ردعمل دینے کے لحاظ سے کچھ اقسام میں آپ سے شئیر کرتا ہوں۔

عاقل

یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو کسی معاملے کی موجودہ جزیات کو دیکھ کر اس کے ممکنہ مستقبل کی پیشین گوئی کر سکتے ہیں اور آنے والے خطرے یا فائدے کو پہلے سے جان لیتے ہیں۔

سمجھدار

ایسے لوگ خود تو تجزیہ نہیں کر پاتے، مگر اگر کوئی انکو سمجھائے تو فوراً اپنی زہنی سطح کو بلند کر لیتے ہیں اور معاملے کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں۔ خود تجزیہ نہیں کر سکتے مگر پیش کیے گئے واقعات و دلائل کو جانچ کر آنے والے خطرے یا فائدے پر قائل ہو جاتے ہیں۔

ہوشیار

یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو کسی کا اعتبار نہیں کرتے مگر اپنی آنکھوں دیکھی کا۔ آپ انکو لاکھ تجزیے دیں، ہزار دلائل دیں، یہ کسی اندیکھی کا اعتبار نہیں کرتے۔ البتہ جب کوئی معاملہ ان کے سامنے وقوع پزیر ہونے لگتا ہے تو انکی ساری حسیں بیدار ہو جاتی ہیں اور یہ فوراً معاملے کو سمجھ جاتے ہیں اور ضروری اقدامات کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ عموماً یہ فوری ردعمل دیتے ہیں مگر اپنے فائدے والی بات ہی کو چنتے ہیں اور مشکل حالات سے اپنے آپ کو نکال لے جاتے ہیں۔

مبتدی

یہ ایسے لوگ ہوتے ہیں جو نہ معاملے کو پہلے سمجھتے ہیں اور نہ ہی بعد میں۔ البتہ یہ اکثریت کے ساتھ ہوتے ہیں۔ چلو تم ادھر کو ہوا ہو جدھر کی، انکا ماٹو ہوتا ہے۔ یہ سب سے آخر میں حرکت میں آتے ہیں مگر بہت جذباتی انداز اور تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور بسا اوقات لگتا یہی ہے کہ انکو معاملے کی سب سے زیادہ سمجھ تھی مگر حقیقت یہی ہوتی ہے کہ یہ اکثریت کے کسی جانب حرکت کرنے سے سمجھتے ہیں کہ اب یہ معاملہ ٹھیک ہے اور اسی طرف جانا چاہیے۔ کسی بھی بڑی تبدیلی میں یہ لوگ فیصلہ کن کردار ادا کرتے ہیں کہ یہ تعداد میں بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

احمق اور کج فہم

یہ لوگ زندگی کے بیشتر معاملات دوسروں کے رحم و کرم پر گزارتے ہیں۔ مگر جبلت کے بہت زیادہ حاوی ہونے کی وجہ سے دوسروں کی صلاح پر بھی عمل نہیں کر پاتے۔ اور اکثر نقصان دہ انتخاب کرتے ہیں۔ اپنی حماقت کو چھپانے کے لیے اپنے غلط انتخاب کو مختلف تاویلوں سے سہارا دیتے ہیں مگر انکی گھڑی ہوئی تاویلیں بھی انکی حماقت کی طرح واضح ہوتی ہیں۔ ان پر کوئی دلیل اثر نہیں کرتی اور نہ ہی یہ اکثریت کو کسی مثبت بات کی طرف بڑھتے دیکھ کر فیصلہ کر پاتے ہیں۔ یہ اپنی جبلت، ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے معاملے کے مخالفت ہی میں رہتے ہیں۔ زندگی کے معاملات میں بھی چونکہ یہ ضد اور ہٹ دھرمی سے کام چلا لیتے ہیں اور انکے اردگرد کے سمجھدار لوگ ان سے ڈرتے ہوئے انکو تھوڑا بہت مارجن دے دیتے ہیں تو اس وجہ سے وہ ہر معاملے کو اسی ضد اور ہٹ دھرمی سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اجتماعی معاملات میں چونکہ انکی ضد اور ہٹ دھرمی کو مانا نہیں جا سکتا اس لیے یہ اپنی ہٹ پر اڑے رہتے ہیں۔ اگر شومئی قسمت سے یہ پہلے سے کسی وجہ سے کسی مسئلے کے حق میں ہوں تو وہ انکے حق میں بھی بہتر ہوتا ہے البتہ کسی بیرونی اثر کی وجہ سے انکا تبدیل ہونا ناممکن ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ایسے افراد کسی بھی قوم میں زیادہ ہو جائیں تو اس قوم کی ترقی رک جاتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو عقل نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نا اہلی کا ادراک بھی نہیں کر سکتے۔ ان پر تبدیلی عائد ہی کی جاسکتی ہے۔ مگر یہ ساری عمر اس تبدیلی کے خلاف ہی رہیں گے، چاہے وہ بدلے ہوئے حالات سے فائدہ ہی اٹھاتے رہیں۔

دوستو! یہ تحریر کسی کے خلاف چارج شیٹ نہیں ہے اور آپ سے بھی گذارش ہے کہ اسکو کسی کے خلاف چارج شیٹ نہ بنائیں۔ البتہ عاقل لوگوں کے ان درجوں میں اپنا رویہ تلاش کریں اور کوشش کریں کے آپ اپنا صحیح تجزیہ کر سکیں۔ بہتر تو یہ ہے کہ کسی استاد سے جو آپ کو جانتا ہو، اپنے بارے میں رائے لے لیں وہ بہتر بتا سکتا ہے کہ آپ ان میں سے کس درجے میں آتے ہیں۔

اگر آپ دیانتداری سے اپنی موجودہ سطح علمی و عقلی کو سمجھ پائیں گے تو بہت زیادہ امکان ہے کہ آپ اس کو بہتر کرنے کے طریقے بھی جان پائیں گے۔ انسانی عقل بھی انسان کے باقی اعضا کی طرح ہوتی ہے جس کو اگر تادیر استعمال نہ کیا جائے تو یہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتی ہے۔ کوشش کریں کہ اس عقل کو، جو رب عظیم نے آپ کو عطا کی ہے، بہتر سے بہتر طریق پر استعمال کریں اور اگر اللہ تعالی نے آپ کو بہتر عقل کے ساتھ پیدا فرمایا ہے تو اس عقل کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کریں جو آپ جتنی سوجھ بوجھ نہیں رکھتے۔

اس تحریر کا مقصد پورا ہو جائے اگر آپ کج فہم لوگوں کے بارے میں جان جائیں کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کرنا ہے۔ اکثر اوقات دیکھا گیا ہے ہم کج فہموں کے ساتھ بحث و مباحثہ میں الجھ جاتے ہیں اور انکو انکی غلطیاں بتانے لگتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ ایک طرح کی ضد اور ہٹ دھرمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور زیر بحث معاملے پر اپنی رائے کو مزید سخت کر لیتے ہیں۔ اگر ہم شروع ہی میں جان سکیں کہ ہمارا واسطہ کج فہم سے ہے تو ہم معاملات کو تلخی کی طرف نہ لے کر جائیں اور کوشش کریں کہ ان سے الجھے بغیر ہی اپنا کام کرتے رہیں۔

ایک بار پھر یاد رکھیں، کج فہم لوگوں کو سمجھانا ناممکن ہوتا ہے اور یہ ہی عقل والوں کی آزمائش ہے کہ وہ اس سے کیسے عہدہ برا ہوتے ہیں اور انسانی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لاتے ہوئے ان کج فہموں سے کیسے بچ پاتے ہیں۔

اللہ مجھے اور آپ سب کو ایسے کج فہموں سے بچ کر انسانیت کے لیے کچھ بہتر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں