148

عورت کارڈ اور جدائی کے اسباب۔


کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیئے آ…!!

ایک پروفیشنل بندے کے لیئے جہاں ایک ادارے کے ساتھ چلنے کا طریقہ آنا ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ ادارے سے الگ ہونے کے آداب بھی سیکھے جائیں. اکثر و بیشتر ہمیں نہ صرف اپنی عملی زندگی بلکہ ذاتی زندگی میں بھی جدا ہونا نہیں آتا. ایک بار ایک فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا. جس میں کچھ آخری کلمات تھے کہ جدا ہونے والے نے جدا تو ہونا ہی تھا. افسوس اس بات کا ہے وہ مجھے الوداع نہیں کہہ کر گیا ہے. میں نے اپنے پروفیشنل زندگی میں ایک چیز ضرور سیکھی ہے کہ جدا ہوتے وقت یا الوداع کہتے وقت سب سے زیادہ ادب اور برداشت کی ضرورت ہوتی.

ہم جس معاشرے میں رہتے یہاں باہمی رضامندی سے طلاق کا کوئی تصور نہیں. یہاں رشتہ گھسیٹنے کو ترجیح دی جاتی ہے بجائے اس کے کہ عزت سے جدا ہوا جائے. ایسے میں ہونے والی جدائی ہمیشہ الزامات کو ساتھ لیئے آتی ہے. عام آدمی کی زندگی کو چھوڑیں یہاں مشہور شخصیات بھی اپنی طلاق کو غیر متنازعہ نہیں رکھ سکتے. اور کوشش ہوتی ہے کہ گندے کپڑے سرعام دھوئے جائیں. مزید یہ کہ فریقین کی کوشش ہوتی ہے کہ خود کو مظلوم ثابت کریں. ایسے میں اگر کوئی فریق اصول پسند ہے اور خاموشی اختیار کرتا ہے تو لازمی ہے کہ اس کو الزام سہنے پڑتے. بدقسمتی سے یہ معاشرہ صرف آنسو یا شور کی بنا پر حق کا تعین کرتا.

دفاتر میں بھی بعض دفعہ یہ مناظر دیکھنے میں آ جاتے. لوگ کسی ادارے سے منسلک ہوتے ہیں. اس سے کھاتے پیتے نام کماتے ہیں اور اس کے بعد جاتے ہوئے ایسا گند ڈال کے جاتے ہیں کہ بعد میں شکل دیکھنے دکھانے کے قابل نہ رہیں. اللہ کا شکر ہے کہ ابھی دفاتر میں استعفی کا طریقہ کار متعین ہے. جانے والے کو کسی پراسیس سے گزر کر جانا پڑتا ہے. ورنہ شاید لوگ اصل انتظامیہ کو بتانا بھی مناسب نہ سمجھیں کہ ہم جا رہے ہیں اور انتظامیہ ڈھونڈتی رہے کہ بندہ کہاں گیا. البتہ ایسے “مجاہد” دفتروں میں بھی ناپید نہیں. دس سال میں کم از کم پانچ مثالیں مجھے یہ سب لکھتے لکھتے یاد آ گئی ہیں.

سیاسی پارٹیز بھی ایک طرح کے دفاتر ہی ہیں. انہوں نے ماشا اللہ نیا ٹرینڈ شروع کیا ہے. استعفی بجائے انتظامیہ کو دینے کے فیس بک پر دیتے ہیں. ویسے تو لوگ آج کل شادی شدہ زندگی بھی فیس بک پر گزارتے ہیں تو یہ تو عام سی بات ہے. لیکن ہر چیز کا کوئی طریقہ ہوتا ہے. اگر آپ جانا چاہتے ہیں تو اپنی انتظامیہ کو پہلے بتائیں. ان کو اپنے مسائل بتائیں. اگر وہ نہیں سنتے تو ضرور جائیں. لیکن اگر آپ کے پاس الزامات ہیں تو ان کے ثبوت دیں. ان کو مناسب جگہ پر مناسب طریقے سے ہائی لائٹ کریں. اگر آپ ایسے الزامات کو اٹھانے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو پھر یاد رکھیں تھوڑا سا دل بڑا کرنا پڑے گا اور ثبوت لانے پڑیں گے کیونکہ زنا کا جرم بھی اپنی صحت کے لیئے گواہ کا محتاج ہے. اگر تو آپ کے پاس سب کچھ ہے تو درست جگہ پر پیش کریں. ورنہ پھر فیس بک پر اگر بندر جنگل سے اپنی تصاویر دینا شروع کریں تو ان کو بھی فین فالوئنگ مل جائے تو آپ کو ملنا کیا مشکل. ان استعفوں نے اس لطیفے کو سچ کر دکھایا ہے جس میں دنیا کا مختصر ترین استعفی بیان ہوا تھا

Dear Boss

Aaakh Thoo

Sincerely

صاحبو جانے کا یہ طریقہ نہیں ہوتا ہے. جانا ہے تو جاؤ کس نے روکا اور دنیا کون سا آپ کے جانے سے رک جانی لیکن ایسے جاؤ کہ کل کو نظر ملا سکو.

ایک طرف کا منہ لال دیکھ کے کسی کے غم میں رونے والے کبھی رونے والے سے یہ نہیں کہتے کہ آؤ ہم الزام سے جرم ثابت کریں. ابھی پچھلے دنوں اس لڑکی خدیجہ نے بھی تو اپنی جنگ لڑی تو عائشہ کو کیا امر مانع ہے. عائشہ گلالئی کو چاہیے کورٹ کے ازخود نوٹس کا انتظار کرنے کی بجائے کیس فائل کرے اور عمران کو نااہل کروائے.

دوسری بات یہ آپ کیا اپنے آپ کو غیرتمند ثابت کرنا چاہ رہی. آپ کے علاوہ کیا باقی سب بےحیا ہیں اس قوم میں. عائشہ صاحبہ آپ کی غیرت تھی کہ چار سال سوئی رہی. مجھے کوئی ایک گندا میسج کرنا تو دور گندی نظر ڈال کے دکھائے. قسم ہے آپ کی پشتون روایات کی بیچ چوراہے عزت ہاتھ میں ہاتھ کے ہاتھ نہ دوں تو مجرم.

آپ کو نیا آفر لیٹر ملا تھا. آپ نے چاہا خان اس کو تول دے. لیکن وہ اپنی اس بیوی(جمائما) کی محبت کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہوا جس بیوی کی شوہر پرستی پر مشرقی عورتیں انگشت بہ دندان ہیں تو عائشہ گلالئی آپ تو پھر بہت عام خاتون ہیں.(مکالمہ ڈاٹ کام)
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p3 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

عورت کارڈ اور جدائی کے اسباب۔” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں