63

مہنگے جانوروں کا بائیکاٹ اور ایک شبہے کا ازالہ۔

کچھ لوگ خواہ مخواہ بحث کو طول دینے کے لیے، ضد اور ہٹ دھرمی پر قائم رہنے کے لیے اور اپنے جھوٹے منگھڑت عمل کی دلیل قرآن و حدیث سے نہ پا کر عجیب و غریب سوال کرتے ہیں کہ بتاؤ “منع کہاں ہے؟” بدعتیوں کو جب کسی بدعت سے منع کیا جائے تو ان کا بھی آخری حربہ یہی ہوتا ہے بتاؤ “منع کہاں ہے؟” انگوٹھے چومنا، میلاد، ختم درود، چالیسویں، برسیاں، عرس، شب برات، گیارہویں شریف وغیرہ وغیرہ اور وغیرہ “منع کہاں ہے؟”

دین کے کاموں میں منع نہ ہونا کوئی اصول نہیں ہے بلکہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کا سنت طریقہ ہونا اصل اصول ہے. دیکھیں صحیح مسلم کی یہ حدیث، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: “جس نے کوئی ایسا عمل کیا، جس پر ہمارا حکم نہیں تو وہ مردود ہے.”
(صحیح مسلم، حدیث نمبر 4493)


اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دین کے کام کرنے میں یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ عمل “منع کہاں ہے؟” بلکہ مذکورہ بالا حدیث کے مطابق یہ پوچھا جائے گا کہ اس عمل کا “حکم کہاں ہے؟” اور آیا کہ آپ کا یہ عمل سنت نبوی سے میل کھاتا ہے یا نہیں. کیونکہ اسلام ہمیں زندگی گزارنے کے اصول دیتا ہے، مثلاً اسلام نے سادگی، میانہ روی اور کفایت شعاری کا حکم دے دیا، کوئی قدغن نہیں لگائی. آپ شادی کرنا چاہتے ہیں دو ہزار روپے میں بھی کر سکتے ہیں فضول خرچی کرنا چاہتے ہیں تو کروڑوں روپے بھی خرچ کر سکتے ہیں. اسی طرح ہر معاملے میں سادگی و کفایت شعاری بھی کی جا سکتی ہے اور اسراف فضول خرچی بھی.

اس تمہید کا مقصد عید الاضحٰی کے موقع پر مہنگے ترین جانوروں کی فروخت اور معاشرے میں دکھاوے کا بڑھتا ہوا رجحان ہے. قربانی کرنا رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے لیکن اس عظیم قربانی کو بھی کمرشلائز کر دیا گیا ہے. اگر ہم زخیرہ احادیث اور تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسراف، فضول خرچی اور ریاکاری صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دور میں ہی شروع ہو گیا تھا، یہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا دور حکومت تھا جب مسلمانوں کے پاس دولت کی فراوانی ہوئی تو انہوں نے اسراف اور ریاکاری شروع کر دی. حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات قسطنطنیہ کی جنگ میں ہوئی تھی اور اب کو قسطنطنیہ کی فصیل کے ساتھ دفنایا گیا تھا، اس سے آپ ابو ایوب انصاری کے زمانے کا اندازہ لگا سکتے ہیں. مشہور تابعی حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں قربانی کیسی ہوتی تھیں تو انھوں نے فرمایا: ’’آدمی ایک بکری اپنے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے قربانی کرتا وہ خود بھی کھاتے اور لوگوں کو کھلاتے بھی حتی کہ لوگوں نے ایک دوسرے پر فخر اور مقابلہ بازی شروع کر دی تو پھر وہ ہوا جو تو دیکھ رہا ہے۔‘‘
(جامع الترمذی، أبواب الأضاحی، باب ما جاء أن الشاة الواحدة تجزی عن أهل البيت، حدیث نمبر 1505)، (سنن ابن ماجہ، کتاب الأضاحی، باب من ضحی بشاۃ عن أھلہ)

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بنو امیہ کے دور سے ہی اسراف شروع ہو گیا تھا جسے دیکھ کر حضرت ابو ایوب انصاری رنجیدہ تھے. اب آپ خود ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر وہ اسراف و ریاکاری تھی تو آج کے میڈیائی دور کا کیا حال ہو گا. صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین ایک گھر سے ایک یا دو بکریاں زبح کرتے تھے، بڑے جانور کی صورت میں ایک ہی جانور اور اس میں بھی تین پانچ حصے، یہاں تک کہ اونٹ کی قربانی پر دس لوگ حصہ لیتے. جیسا کہ حضرت حذیفہ بن اسید نے فرمایا : “مجھے میرے گھر والوں نے غلط روی پر ابھارنے کی کوشش کی جبکہ مجھے سنت کا علم ہوچکا تھا کہ ایک گھرانے والے ایک یا دو بکریاں ذبح کرتے تھے، کہ (اگر اب ہم ایسا ہی کریں گے تو) ہمارے پڑوسی ہمیں کنجوسی کا طعنہ دیں گے۔
(سنن ابن ماجه، كتاب الأضاحی، باب من ضحى بشاة عن أھلہ، حدیث نمبر 3148)‏، (سنن الکبری للبیھقی، حدیث نمبر 19055)

آج ہمارے چینلز اور رپورٹرز منڈیوں میں کیمرے لے کر گھومتے ہیں اور مہنگے سے مہنگا جانور لوگوں کو دکھاتے ہیں، انڈین پاکستانی اداکاروں کے نام پر جانوروں کے نام رکھے جاتے ہیں. مہنگا جانور آ جائے تو اہل علاقہ میں بھی دھوم مچ جاتی ہے اور لوگ دور دور سے جانور دیکھنے آتے ہیں. منع کیا جاتا ہے تو جواب آتا ہے کہ مہنگا جانور “منع کہاں ہے؟” رسول اللہ نے بھی سرخ اونٹ قربان کیا ہے.

تو بھائی اس بات کا جواب یہی ہے کہ قربانی کا حکم ہے، ریاکاری سے بچنے کا حکم ہے، فضول خرچ کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے، کیا پھر بھی آپ بیس تیس لاکھ کا جانور لینا چاہیں گے؟ آپ کی نیت ریاکاری کی ہے یا نہیں وہ تو اللہ جانتا ہے دیکھنے والے تو وہ جانتے ہیں جیسا نظر آتا ہے. مہنگا جانور منع نہیں ہے، مہنگا ولیمہ منع نہیں ہے، مہنگا بنگلہ، مہنگی گاڑی، مہنگا موبائل، کپڑے، کھانا پینا کچھ بھی منع کہیں نہیں ہے، اسلام نے تو دماغ، عقل، فہم، دانش استعمال کرنے کا حکم دیا ہے، میانہ روی اور بردباری کا حکم دیا ہے.

بارہ ربیع الاول منانے والوں کے پاس بھی یہی دلیل ہوتی ہے کہ رسول اللہ کی آمد پر جتنا بھی خرچ کرو کم ہے، سو عید میلاد النبی کی موجودہ صورتحال بھی آپ کے سامنے ہے. اسے تو بہت سے لوگ بدعت کہیں گے لیکن ہم نے نکاح جیسی سنت کو مہندی، بارات، رخصتی اور ولیمہ کے ساتھ لاکھوں کروڑوں کا خرچ بنا دیا ہے. یہاں تک کہ زنا آسان اور شادی مشکل ہو گئی. بار بار شادی کی مثال اسی لیے دے رہا ہوں کیونکہ قربانی اور شادی بیاہ دونوں ہی ہمارے معاشرے کے بڑے مسائل ہیں.

موجودہ مسلمان تقریباً ہر معاملے میں فضول خرچی کرتے نظر آتے ہیں، مختلف قسم کی بدعات گھڑ لی گئی ہیں بچہ پیدا ہونے پر فضول خرچی، فوت ہونے پر فضول خرچی، گھر بنانے پر، گاڑی اور موبائل پر، کھانے پینے پر، مزارات پر… آپ سعودی عرب میں حرمین شریفین دیکھیں سہولیات کی فراہمی اپنی جگہ لیکن مسجد حرام اور مسجد نبوی کو پُرتعیش بنا دیا گیا ہے، عراق، ایران اور شام کے مزارات دیکھیں، گنبد مینار فانوس اور جالیوں پر بھی سونے کا پانی چڑھایا گیا ہے.

شادی کو سادہ بنانے پر اسی لیے زور دیا جاتا ہے تاکہ غریبوں کی شادیاں بھی آسانی سے ہو جائیں کسی کی بیٹی گھر بیٹھی نہ رہ جائے. ہم قربانی کو بھی سادہ اور آسان اسی لیے بنانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ لؤر مڈل کلاس طبقہ بھی قربانی میں حصہ لے سکے. آپ کو اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے، مہنگا جانور قربان کرنے سے آپ کو حظ آتا ہے تو براہ کرم غریبوں کے لئے قربانی مشکل نہ بنائیں.

p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں