81

وقت ہی نہ رہا، وقت کی بات ہے۔

دو چیزیں بنیادی اہمیت کی حامل ہیں،

اول: نواز شریف صاحب کا بیانیہ کیا ہے؟
دوم: نواز شریف چاہتے کیا ہیں؟
اتفاقات زمانہ دیکھیے ، دن کیسے پھیر دیے گئے۔جس ڈی چوک پر عمران کا جلسہ ختم ہوا اسی ڈی چوک سے نواز شریف معزول ہو کر لاہور کو روانہ ہوئے، جس کنٹینر کو گالی بنایا گیا اسی کنٹینر پر قدرت نے انہیں سوار کر دیا، جن لہجوں نے طنطنے سے کہا گیا روک سکتے ہو روک لو ، وہی لہجے گلوگیر ہو کر کہنے لگے، انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو، جنہوں نے تکبر سے کہا فیصلے سڑکوں پر نہیں عدالتوں میں ہوتے ہیں انہیں عاجزی سے کہنا پڑا ہم اپنا مقدمہ عوامی عدالت میں لائے ہیں،جو کل تک دوسروں کو یہودی ایجنٹ کہتے تھے اب اپنے ہی قائد کو مرحب لکھ رہے ہیں، جو کل تک دوسروں پر ڈی چوک میں مجرا کرانے کی پھبتی کسا کرتے تھے آج فرما رہے ہیں ہمارے لوگ تہذیب کے دائرے میں رہ کر ناچ رہے ہیں۔
جس عوام کو سڑکوں پر یہ کہہ کر گھنٹوں روک دیا جاتا تھا کہ شاہی کارواں گزر رہا ہے آپ ایک طرف ہو کر رک جائیے اسی عوام کے انتظار میں کل شاہی قافلہ گھنٹوں رکا رہا کہ وہ آئیں تو قافلہ چلے، جس غریب اور دکھوں کی ماری خلق خدا پر کل تک محل کے سارے دروازے بند تھے آج خود محل نشیں محل سے نکل کراسی خلق خدا کے در پر حاضری دینے آئے ہیں، جس ممتاز قادری کے جنازے کی تصویر نشر کرنا انہوں نے جرم قرار دے دیا تھا آج کم از کم تین وفاقی وزراء نے اسی جنازے کی تصویر یہ کہہ کر شیئر کر دی کہ یہ شاہی قافلہ لاہور جا رہا ہے، جن لہجوں نے سارے تکبر سے کہا استعفی دینے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وہ لہجے اداسی کی تصویر بنے سراپا سوال ہیں کہ ہمارا جرم تو بتا دو ہمارا جرم کیا ہے، جن گردنوں نے تن کر کہا تھا اگلا الیکشن اورا س سے اگلا اور اس سے اگلا الیکشن بھی ہم جیتیں گے آج عوام کی بارگاہ میں جھک چکی ہیں اور سراپا التجا ہیں کہ ہمارے اوپر نظر کرم کی جائے۔ 
نادیدہ سی کوئی قوت کل سے بار بار یاد دلا رہی ہے کہ یہ دن ہیں جنہیں خالق کائنات لوگوں کے درمیان پھیرتا رہتا ہے۔دنوں کا یہ پھیر ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ اقتدارکا سراب جب پلکوں میں اتر آتا ہے تو جہاں بھر کی رعونتیں ساتھ لاتا ہے لیکن یہ رعونتیں اور یہ بانکپن پانی کا بلبلہ ثابت ہوتے ہیں۔ پھر وقت کا موسم بدلتا ہے، بہار موسموں پر اچانک خزاں اتر آتی ہے اور بولتی کوئلوں کو چپ سی لگ جاتی ہے۔ساز خاموش ہو جاتے ہیں ، لے سہم جاتی ہے اور مغنیوں کے گلے خشک ہو جاتے ہیں۔سماعتوں کو شعور ہو تو وہ سن سکیں کہ پوچھنے والا پوچھتا ہے : لمن الملک الیوم؟ آج بادشاہی کس کی ہے؟اور اس میں کیا کلام ہے کہ بادشاہی تو صرف سوہنے رب کی ہے ، ہم سب تو فنا کے مسافر ہیں۔

کل جب نواز شریف اسلام آباد سے نکلے تو بہت مایوس کن منظر تھا۔بہادر شاہ ظفر جیسے رنگون جا رہے ہوں۔ لیکن یہ منظر اتنا اہم نہیں کیونکہ نواز شریف کو بہر حال مقبولیت حاصل ہے اور ان کا قافلہ جوں جوں آگے بڑھے گا حاضرین کی تعداد بڑھتی جائے گی۔جی ٹی روڈ ان کا گڑھ ہے اور حکومت ان کی اپنی ہے۔ اس لیے ہو سکتا ہے ان کا قافلہ گوجرانولہ تک پہنچے تو بھر پور اور مثالی ریلی کی شکل اختیار کر چکا ہو۔
شرکاء کی تعداد ثانوی اہمیت کی حامل ہے۔اصل اہمیت دو بنیادی چیزوں کو ہے۔
اول: نواز شریف صاحب کا بیانیہ کیا ہے؟
دوم: نواز شریف چاہتے کیا ہیں؟
نواز شریف کا بیانیہ مبہم ہے اور یہ ابہام دانستہ ہے۔ان کی اول روز سے کوشش تھی کہ معاملے کی نوعیت قانونی سے زیادہ سیاسی بنا دی جائے۔اب جب وہ قانون کا مقدمہ ہار چکے وہ اسے سیاسی میدان میں جیتنا چاہتے ہیں۔انہیں معلوم ہے نیب ریفرنس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔پارٹی جو برسوں کی محنت سے پرائیویٹ لمیٹڈ بنائی گئی تھی ان کی گرفت میں اس کا رہنا اب آسان نہیں،اس کے لیے غیر معمولی ریاضت درکار ہے۔نوا شریف اتنے جذباتی نہیں کہ جن نادیدہ قوتوں سے انہیں شکوہ ہے وہ انہیں للکارنے کے لیے اور حقیقی جمہوری کلچر متعارف کرانے میدان میں نکلے ہوں۔وہ حساب سود و زیاں رکھنے والے جہاندیدہ آدمی ہیں۔وہ ٹکراؤ کے لیے باہر نہیں آئے وہ ’ ڈیمیج کنٹرول‘ کے لیے نکلے ہیں ، وہ عزیمت کے راہی نہیں ہمیشہ کی طرح رخصت اور امکان کے مسافر ہیں جو اپنی باٹم لائن کے تحفظ کی شرط پر کسی بھی وقت کسی سے بھی معاملہ کر سکتے ہیں۔انہیں یہ بھی معلوم ہے ان کے دور اقتدار نے عوام کو ایسا کچھ نہیں دیا جس پر آئندہ الیکشن لڑا جا سکے چنانچہ وہ حکومت میں رہتے ہوئے اپوزیشن کا کرداد ادا کرنا چاہتے ہیں اور اپوزیشن کا یہ کردار اس شدت سے ادا کرنا چاہتے ہیں کہ آئندہ الیکشن ان کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں جمہوریت کے عنوان سے ان کی مظلومیت کے پرچم تلے لڑا جائے۔
اب وہ بیک وقت مظلوم بھی بن رہے ہیں اور جمہوریت کے پرچم بردار بھی۔مظلومیت کا تاثر دینے کے لیے وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آمروں کا احتساب کب ہو گا، وہ ا س سوال میں مخلص ہوتے تو اول تو پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالتے ہی نہیں اور اگر نکال بیٹھے تھے تو اب بھی دیر نہیں ہوئی وزیر اعظم ان کا ہے، وہ ابھی کنٹینر کے اندر سے شاہد خاقان عباسی کو فون کر کے ہدایت دے سکتے ہیں کہ انٹر پول سے رابطہ کر کے پرویز مشرف کو واپس لایا جائے اور قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے۔لیکن وہ ایسا نہیں کریں گے۔یہ مطالبہ صرف برائے وزنِ بیت ہے تا کہ سند رہے اور مظلومیت ثابت کرنے میں کام آئے۔اس مطالبے میں اخلاص نہیں تجربے کا عنصر غالب ہے۔اپنی ریلی کو جمہوریت کی عظیم جدوجہد کا عنوان دینے کے لیے آج انہیں ذوالفقار علی بھٹو کی خوبیاں بھی یاد آنے لگ گئی ہیں، بھٹو کی عظمت کے گن گائے جا رہے ہیں،جس بے نظیر بھٹو کی جی بھر کر انہوں نے کردار کشی کی آج وہ بے نظیر بھٹو بھی ان کی نظر میں عظیم رہنما قرار پا چکی ہیں اور تو اوراب تو یوسف رضا گیلانی بھی انہیں بے گناہ لگنے لگے ہیں۔ میر ہوتے تو کہتے :
آگے یہ بے ادائیاں کب تھیں
ان دنوں تم بہت شریر ہوئے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں