99

نواز شریف کا انقلاب کیا ہے؟؟؟

qamar naqeeb urdunama

73ء کا آئین بنا تو باسٹھ تریسٹھ میں کوئی خرابی نہیں تھی، جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب نواز شریف وزیر اعلٰی پنجاب تھا، باسٹھ تریسٹھ کے قانون کو بگاڑا گیا. یہ ترمیم خاص طور پر پیپلز پارٹی کے لوگوں کو الیکشن سے باہر نکالنے کے لیے کی گئیں تھیں. اس وقت نواز شریف ان ترامیم کے حق میں سب سے آگے تھا. آج باسٹھ تریسٹھ کا پہلا آن ڈیوٹی شکار نواز شریف خود بنا تو اسے آئین کے آرٹیکل میں خرابیاں نظر آنے لگیں.. آئیے پہلے دیکھتے ہیں کہ آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ کہتا کیا ہے۔

آرٹیکل باسٹھ :

1۔ کوئی ایسا شخص پارلیمنٹ کا رکن رہنے کا اہل نہیں جو پاکستان کا شہری نہ ہو۔

2۔ ضروری ہے کہ رکن پارلیمنٹ اچھے کردار کا مالک ہو۔

3۔ اسلامی تعلیمات کا خاطر خواہ علم رکھتا ہو۔

4۔ اسلام کے مقرر کردہ فرائض کا پابند ہو۔

5۔ اس نے کبھی گناہِ کبیرہ کا ارتکاب نہ کیا ہو۔

6۔ رکن پارلیمنٹ سمجھدار، پارسا، ایماندار، صادق اور امین ہو۔

7۔ عیاش، فضول خرچ اور آوارہ گرد نہ ہو۔

8۔ کسی اخلاقی پستی میں ملوث یا جھوٹی گواہی پر سزا یافتہ نہ ہو۔

آرٹیکل تریسٹھ :

1۔ اگر کوئی شخص فاتر العقل ہو یا کسی مجاز عدالت نے اسے ایسا قرار دیا ہو تو وہ پارلیمنٹ کا رکن نہیں رہ سکتا۔

2۔ نظریہ پاکستان اور ملکی سالمیت کیخلاف رائے رکھنے والا شخص بھی رکن پارلیمنٹ رہنے کا اہل نہیں۔

3۔ مسلح افواج اور عدلیہ کی تضحیک کرنے والا شخص بھی آرٹیکل تریسٹھ کے دائرے میں آئے گا۔

4۔ نااہلی کے زمرے میں آنیوالے رکن کیخلاف سپیکر یا چیئرمین سینیٹ معاملہ الیکشن کمیشن کو ریفر کرے گا جو نوے دن میں فیصلہ کرے گا۔

آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ میں کوئی خرابی نہیں ہے، نواز شریف چونکہ رجسٹرڈ چور ہے اور جھوٹا ثابت ہو چکا ہے اس لیے آئین سے صادق اور امین کی شق نکلوانا چاہتا ہے.

اس معاملے میں مولانا فضل الرحمن اور محمود اچکزئی جیسے دربان نواز شریف کے ہمنوا بن کر کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ میں کوئی بھی صادق اور امین نہیں ہے.

ہمارا مطالبہ ہے کہ اگر کوئی بھی صادق امین نہیں ہے تو پھر اس پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا جائے، خواہ مخواہ ملک اور قوم کا وقت اور پیسہ برباد نہ کریں. آرٹیکل باسٹھ تریسٹھ میں کوئی خرابی نہیں ہے اور نہ ہی ہم اسے بدلنے دیں گے.

اگر آپ اس مطالبے سے اتفاق کرتے ہیں تو اس پوسٹ کو آگے دوسرے لوگوں تک شئر ضرور کریں۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں