عاشق رسول یا جلاد۔

قوم کے نئے غازی صاحب جن کا نام اکرام اللہ ہے انہوں نے کل چنیوٹ میں تبلیغی جماعت کے دو بندے گستاخ رسول کہہ کر قتل کر دیئے. غازی اکرام اللہ خادم حسین رضوی کی تقاریر سنا کرتے تھے۔ جنید جمشید پر ایئرپورٹ پر ہونے والا تشدد تو صرف ایک ٹریلر تھا۔ مذہبی جنونیت ایک کینسر ہے جس سے کوئی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

مشال خان اور سلمان تاثیر کے قتل کو کھلے عام یا ڈھکے چھپے الفاظ میں جسٹیفائی کیا گیا۔ امید ہے اب یہ نہیں کہا جائے گا کہ آپ غازی اکرام اللہ کی نیت کو دیکھیں۔ نیت تو اس کی اچھی ہی تھی کام بیشک اس نے غلط کیا۔ یا پھر یہ کہ عدالتیں گستاخوں کو سزا نہیں دیں گی تو عوام تو قانون ہاتھ میں لیں گے ہی اور غازی ممتاز قادری پیدا ہوتے رہیں گے۔

روایت ہے کہ جیل میں ممتاز قادری کے لئے دوسرے مسلک کے قیدیوں نے کھانا بھجوایا تو اس نے اٹھا کر باہر پھینک دیا کہ یہ تاثیر سے بھی بڑے گستاخ ہیں۔

اب ہوش کیجیئے اس سے پہلے کہ یہ آگ آپ کو جلا کر رکھ دے۔

لیکن میں بھی کس کو سمجھانے کی کوشش کر رہی ہوں؟ اس قوم کا مڈل کلاس طبقہ گوڈے گوڈے مذہبی جنونیت میں ڈوبا ہوا ہے یہ تو وہ لوگ ہیں جو اپنے ہر مخالف کو بلاسفیمر سے کم نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک ان سے اختلاف رائے بلاسفیمی سے کم نہیں ہے۔ یہ آج تک مشعال اور سلمان تاثیر کو گستاخ کہتے ہیں اگرچہ ان کی بلاسفیمی کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ ان کو ثبوت کی ضرورت بھی نہیں ہوتی بس الزام ہی کافی ہوتا ہے اگر مخالف کا تعلق کسی دوسرے مکتب فکر سے ہو۔ جنید جمشید سے غلطی ہوئی اس نے اللہ اور رسول اللہ سے معافی مانگی میڈیا پر آکر لوگوں سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی لیکن یہ لوگ اسکو معاف کرنے پر راضی نہ تھے۔۔۔

وہ سین تو سب نے دیکھا تھا جب جنید جمشید کو یہ لوگ ائیر پورٹ پہ مار رہے تھے اور وہ ان سے آگے آگے جارہا تھا بنا کچھ کہے بنا ان پہ جوابی وار کیئے بنا کوئی افففف کیئے۔ نہ کچھ کہا نہ بددعا دی بس معاف کیا۔۔۔۔۔۔ ہائے رسول اللہ کِے طائف کا سفر بھی ایسے تھا۔ نہ کچھ کہا نہ بددعا دی۔ بس معاف کیا۔ لیکن یہ لوگ پھر بھی جنید جمشید کو قتل کرنا چاہتے تھے جبکہ اسکو اللہ اور رسول نے معاف کردیا تھا یہ سب کو علم ہے۔ ان اللہ یحب توابین۔۔

اور وہ چرواہا جو اللہ کے بال کنگی کرنے کا خواشمند تھا۔ اور وہ جو اللہ کو ہی مالش کرنا چاہتا تھا وہ بھی تیل لگا کر۔۔۔ موسی علیہ سلام نے کہا یہ کیا گستاخ کلمات ادا کردیئے۔ اللہ نے کہا۔۔۔ خبردار موسی۔۔۔۔ یہ میری محبت میری چاہت میں کہے جارہا ہے۔۔ اسکو منع نہ کر۔۔۔ لیکن موسی علیہ سلام جیسے جلیل القدر نبی کے منہ سے گستاخ کا لفظ سن کر وہ اتنا ڈر گیا کہ اس نے کھبی اللہ کو پھر ویسے مخاطب نہیں کیا۔

اللہ نے کہا

موسی ہم نے تو تم کو جوڑنے بھیجا تھا تم نے اسکو اتنا ڈرا دیا کہ وہ چرواہا اب وہ محبت بھرے الفاظ ادا ہی نہیں کرتا۔۔۔

اگر ایسے ہی سڑکوں پر انصاف ہوتا رہا اور یوں ہر طرف ممتاز قادری بننے لگے تو کیا ہم یہ ادارے بند کردیں۔۔ جو آئین ہے اسکو ختم کردیں ۔۔ یہی ہوتا رہا تو اسلام اصل میں ہی ایک شدت پسند مذہب بن جائے گا۔ ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد میں نے پوسٹ کی تھی کہ ممتاز قادری ایک قاتل تھا اس نے جرم کیا اور اسلامی ملک کی اسلامی عدالت نے اسلامی طریقہ انصاف سے ہی اسکو قصاص کے بدلے قتل کردیا تو لوگوں نے اسکو غازی بنا دیا اور عاشق الرسول بنا دیا میں نے پوسٹ میں لکھا کہ اس غازیت پن کے ثمرات دو تین سال تک وافر مقدار میں پا لو گے جس پر لوگوں  نے مجھے بھی گستاخ رسول ڈیکلئر کردیا۔

ارے بھائی یہ دین تم لوگوں کی ماں کا ہے کیا۔۔۔

جو حق مہر میں تمہاری ماں کو ملا۔۔

جس کو چاہا گستاخ بنا دیا جس کو چاہا عاشق بنا دیا۔ ممتاز قادری کے جنازے سے دوام کے جو چشمے پھوٹ پڑے ہیں اسکے حساب سے ہر طرف ممتاز قادری ہی دھندناتے پھر رہے ہیں۔

یہ اسلام ہے کہ جنونیت۔۔۔؟

یہی اسلام ہوتا تو اللہ پاک کو ضرورت ہی کیا پڑی تھی ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء زمین پہ بھیجنے کی۔ 

سیدھا ایک جلاد اتار دیتا۔۔۔ 
اور کام ختم۔۔
p.p1 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘.Geeza Pro Interface’; color: #454545}
p.p2 {margin: 0.0px 0.0px 0.0px 0.0px; text-align: right; font: 12.0px ‘Helvetica Neue’; color: #454545; min-height: 14.0px}
span.s1 {font: 12.0px ‘Helvetica Neue’}

اپنا تبصرہ بھیجیں